میرے راستوں میں اُجالا رہا،تحریر: دانیال حسن چغتائی

انسانی فکر اور ذوقِ مطالعہ کبھی ایک نقطے پر منجمد نہیں رہتے۔ زمانے کی گردش کے ساتھ جہاں انسان کے نظریات اور ترجیحات بدلتی ہیں، وہاں اس کے پڑھنے کے شوق کے زاویے بھی ہمہ وقت تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ میں جو اپنے سفرِ مطالعہ کے ابتدائی دور میں اطفال ادب کی سحر انگیز اور تخیلاتی کہانیوں کی دنیا میں محوِ پرواز تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت نگاری کی طرف مائل ہوتا چلا گیا۔ بچوں کی کہانیوں کی بساط اور ان کے معصوم موضوعات سے نکل کر جب فکر ترقی کی حدود میں قدم رکھتی ہے تو سفرنامے، افسانے اور ناول انسانی دلچسپی کا مرکز بن جاتے ہیں۔
تاہم، بچوں کے لیے لکھنے کا عمل ایسا کٹھن ریاض ہے جو ادیب سے ہمہ وقت مطالعے کی طلب کرتا ہے۔ اطفال ادب کے لیے موضوعات کی جستجو انسان کو مطالِعے کا رسیا بنا دیتی ہے۔ یہی مطالعہ جب آگے چل کر وسیع تر ہوتا ہے تو انسان کو کائنات کی وسعتوں، انسانی نفسیات اور جغرافیائی ورثے سے جوڑ دیتا ہے۔ سفرنامہ بنیادی طور پر اسی سفرِ مشاہدہ کی معراج ہے۔ یہ چند مقامات کا آنکھوں دیکھا حال یا کسی سیاح کے مشاہدات کا بیان نہیں بلکہ یہ زمان و مکان کے پردوں میں چھپے ہوئے ماضی و حال کا ایسا انضمام ہے جسے حساس نثر نگار اپنے لفظوں کے پیراہن میں ڈھال کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔
سفر نامہ سیاح کی یاداشتوں کا وہ مجموعہ ہے جہاں مناظر جنہیں صدیاں دیکھتی چلی آ رہی ہیں، نثر نگار کے تخیل کے سحر میں قید ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ اس سفر میں کبھی صدیاں ساتھ سفر کرتی ہیں اور کبھی واجبی سا منظر رنگین خیال سے لپٹ کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتا ہے۔
اسی ذوقِ مطالعہ کی تسکین اور وطنِ عزیز کے غیر معروف گوشوں سے آشنائی کا حسین بہانہ محترمہ شائستہ صادق کا زیرِ تبصرہ سفرنامہ ”میرے راستوں میں اُجالا رہا“ بنا۔ یہ کتاب ایسے وقت میں ہاتھ آئی جب نقد و تبصرہ کی منتظر کتب کی طویل قطار پہلے سے موجود تھی لیکن اس کتاب کے موضوع، اسلوب اور مصنفہ کے منفرد نقطہ نظر نے اسے اولیت دینے پر مجبور کیا۔
اس سفرنامے کی سب سے دلکش اور تحسین آمیز بات وہ زریں نظریہ ہے جو اس کی اشاعت کے پسِ پردہ کارفرما ہے۔ مصنفہ نے نہ صرف اس کتاب کا انتساب اپنے والدین کی معزز اور شفیق یادوں کے نام کیا ہے بلکہ انہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ اس کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام تر رقم ایک فلاحی ادارے کو عطیہ کی جائے گی۔ تجارتی مادی پرستی کے اس دور میں ادب کو کسبِ معاش کے بجائے خدمتِ خلق اور صدقہ جاریہ کا ذریعہ بنانا ایسا بے لوث عمل ہے جو مؤلفہ کے بلند مرتبے اور عالی ظرفی کا بین ثبوت ہے۔
سفرنامے کے باقاعدہ آغاز سے قبل پاکستان کے معتبر، جامع اور نامور ادیبوں اور سیاحوں کی آرا شامل کی گئی ہیں۔ ان میں سر محمود ظفر اقبال ہاشمی، فارس مغل، محمد عبدہ (جو پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کی سیاحت و نگارش کے حوالے سے معتبر نام ہیں)، تسلیم کوثر اور شاہد عزیز کی نگارشات شامل ہیں۔ ان تمام صاحبِ طرز شخصیتوں کی تقاریظ نے کتاب کے ادبی وزن اور علمی وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
جہاں کتاب اپنے متن اور مواد کے اعتبار سے انتہائی بیش قیمت ہے، وہاں اس کی پیشکش اور فنی تیاری میں ایک نمایاں کمی محسوس ہوتی ہے۔ پبلشنگ ادارے نے مسودے کی باقاعدہ پروف ریڈنگ اور تدوینی تنقیح پر توجہ نہیں دی۔ مصنفہ کے لکھے گئے مسودے کو بغیر کسی تکنیکی تصحیح کے من و عن شائع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اتنی خوبصورت اور وقیع کتاب میں املا اور ساخت کی خامیاں نظر آتی ہیں۔ اچھے اشاعتی ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ نفیس ادب کی اشاعت سے قبل اپنی تدوینی ٹیم کے معیار پر نظرِ ثانی کرے۔ قوی امید ہے کہ جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن منظرِ عام پر آئے گا تو ان حرفی و لغوی ناہمواریوں کی اصلاح کر لی جائے گی۔
عمومی طور پر ہمارے ہاں جب کوئی سفرنامہ نگار قلم اٹھاتا ہے تو اس کی نظریں دیارِ غیر، یورپ کی وادیوں یا مشرقِ وسطیٰ کے شہروں پر جا ٹِکتی ہیں۔ بیرونِ ملک کی سیاحت کو ہی سفرنامے کا شایانِ شان موضوع سمجھا جاتا ہے لیکن شائستہ صادق کا طرہ امتیاز اور اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے وطنِ عزیز پاکستان کے ان دور افتادہ اور تاریخی گوشوں کو اپنے سفر کا محور بنایا جن پر عام سیاحوں اور قلم کاروں کی نظر نہیں پڑتی۔
پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں تاریخ کی صدیاں دفن ہیں، اگر حکومتی سطح پر سیاحتی بنیادوں پر تھوڑی سی توجہ اور بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں تو ملکی سیاحت میں انقلابی اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن حکومتی بے توجہی اور دیگر ترجیحات کی بنا پر یہ علاقے اب تک اوجھل رہے۔ شائستہ صادق نے اپنے قلم کے ذریعے ان مقامات کو ازسرِ نو زندہ کیا ہے۔
کتاب کی سحر انگیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سفر کا آغاز بلوچستان کی وسیع و عریض سرزمین سے ہوتا ہے۔ پسنی کے نیلگوں پانی، ماہی گیروں کی بستیوں کا سادہ اور مشقت طلب ڈھنگ اور کوسٹل ہائی وے کے کنارے کھڑے قدامت کے شاہدین اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ گوادر کی ساحلی پٹی پر کھڑے ہو کر مصنفہ جب قدیم آثار کی داستان سنائی دیتی ہیں تو وطن عزیز سے ان کی محبت صاف محسوس ہوتی ہے۔
بلوچستان کے لق و دق صحراؤں میں ”پرنسس آف ہوپ“ کی قدرتی تراشیدہ شباہت، بدا کی قديم باقیات اور ہنگلاج میں واقع ”نانی کا مندر“ ایسے مقامات ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا ہے۔ مصنفہ نے ان تمام مقامات کے مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کو انتہائی سادہ اور عام فہم زبان میں بیان کیا ہے۔
بلوچستان سے یہ سفر جب اندرونِ سندھ میں داخل ہوتا ہے، تو تاریخی قصبہ بھنبھور اور ماروی کی یادگاریں مجسم ہو جاتی ہیں۔ سندھ ساگر کے پانیوں پر اترتی ہوئی دھوپ کی مانگ سجی یہ تحریر سسی پنوں کی داستانِ محبت اور صوفیائے سندھ کی زمزمہ پرور فضاؤں میں لے جاتی ہے۔ رحیم یار خان کی شاندار اور پرشکوہ ”بھونگ مسجد“، پتن منارہ کے تاریخی آثار، عمر کوٹ کا تاریخی قلعہ، گڈو بیراج کی عظمت اور حروں کے مساکن وہ تمام مقامات ہیں جہاں عام سیاحوں کی رسائی سہولیات کی کمی کی وجہ سے محدود رہتی ہے۔مگر مصنفہ نے اپنے دوستوں کے ہمراہ ان تمام دشوار گزار راستوں کو کھوجا اور انہیں نثری قالب میں ڈھال کر اہم علمی خدمت سر انجام دی ہے۔
سفرنامے کا اختتام خیبر پختونخوا میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد ”طورخم“ کے آخری موڑ پر ہوتا ہے۔ وہاں کھڑے ہو کر جب مصنفہ اس قصے کو تمام کرتی ہیں تو ایک طرف تو سفر کے ختم ہونے کا ملال ہوتا ہے اور دوسری طرف پورے پاکستان کا ایک مکمل جغرافیائی و تاریخی نقشہ اس کے ذھن پر مرتسم ہو چکا ہوتا ہے۔
اس سفرنامے کا ایک اور نہایت شاندار باب لاہور کی تاریخی اہمیت اور اس کے تہذیبی ورثے سے متعلق ہے۔ یوں تو لاہور پر بے شمار سفرنامے اور تاریخیں لکھی جا چکی ہیں لیکن شائستہ صادق نے لاہور کے روایتی حسن سے ہٹ کر اس کی ان باریک بیں گلیوں اور مقامات کو اپنے مشاہدے کا حصہ بنایا ہے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
دہلی دروازہ، روشنائی دروازہ، شاہی حمام اور حضور باغ کی معمارانہ عظمت کی ایسی دلفریب منظر کشی کی گئی ہے کہ انسان خود کو ان تاریخی عمارتوں کے سایہ تلے محسوس کرتا ہے۔ سرجن سنگھ گلی، رام گوپال کی تاریخی گلی (جس کا نام وقت کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا) اور ہانی والا تالاب کے تذکرے تحقیق اور معلومات کا نیا در وا کرتے ہیں۔
فوڈ اسٹریٹ کی دوبارہ بحالی، مسجد وزیر خان کی کاشی کاری اور شاہی حمام کی قدیم تکنیک پر جو تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، وہ اندرونِ لاہور کا مکمل اور دلکش پیکج فراہم کرتی ہے۔ مصنفہ کا قلم لاہور کی ان تاریک گلیوں میں بھی روشنی بکھیرتا دکھائی دیتا ہے جہاں ماضی کا دلفریب حسن اور تاریخ ایک ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔
شائستہ صادق کے اسلوبِ نگارش کا سب سے بڑا حسن ان کی صداقتِ بیانی ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدات، تجارب اور سفری صعوبتوں کو چھپانے یا بوجھل تصنع سے کام لینے کے بجائے بالکل واضح، شفاف اور سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔
سفرنامے کی معراج یہ ہوتی ہے کہ وہ پڑھنے والے کو غیر جانبدار ناظر نہ رکھے بلکہ اسے اپنے ساتھ سفر میں شامل کر لے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے انسان کو لمحہ بہ لمحہ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ خود مصنفہ کے ہم رکاب گاڑی، ٹرینمیں سوار ہے، مختلف لوگوں سے مل رہا ہے۔اور ان کی باتوں سے کہانیاں اور تخیل چن رہا ہے۔
”میرے راستوں میں اُجالا رہا“ پاکستان کے پوشیدہ حسن، اس کی شاندار تاریخ اور نظر انداز شدہ جغرافیے کا سچا اور خوبصورت مرقع ہے۔ ایک ہزار روپے کی قلیل قیمت کے عوض یہ کتاب پاکستان شناسی کا ایسا جامع منظر نامہ فراہم کرتی ہے جس کی قدر ہر باذوق قاری کو کرنی چاہیے۔
پاکستان کو جاننے، اس کی مٹی سے محبت کرنے اور تاریخ و سیاحت سے شغف رکھنے والے تمام قارئین کے لیے یہ کتاب انمول تحفہ ہے۔ یہ ذوقِ مطالعہ کی تسکین کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کے دور افتادہ اور خوبصورت علاقوں سے جذباتی و فکری تعلق بھی استوار کرتی ہے۔
میں اپنے اس دوست کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے مجھے یہ کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالی ان کے علم و فضل میں اور رزق میں برکت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔
مزید پڑھیں





