زندگی کبھی کبھی ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں انسان کے پاس سوال زیادہ ہوتے ہیں اور راستے کم۔ کچھ فیصلے ہم اپنی خوشی سے نہیں بلکہ وقت کی مجبوری سے کرتے ہیں، مگر پھر وہی فیصلے ہماری پہچان بن جاتے ہیں۔ ماں بننا صرف جنم دینا نہیں ہوتا، کبھی کبھی ماں بننا کسی کے لیے خود کو مکمل طور پر قربان کر دینا بھی ہوتا ہے۔
میری زندگی بھی ایک ایسے ہی فیصلے سے بدل گئی تھی۔ میری بہن کی دوسری بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی موت ہو گئی۔ گھر کا آنگن جو پہلے ہی سوگ میں ڈوبا تھا، دو ننھی بچیوں کی معصوم آنکھوں میں مزید ویران ہو گیا۔ اس وقت کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ قسمت میرے لیے کیا لکھ چکی ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد میری شادی میرے بہنوئی سے کر دی گئی۔ میں اس وقت پڑھ رہی تھی، زندگی کے خواب ابھی ادھورے تھے، مگر میں نے اسے قسمت کا فیصلہ سمجھ کر قبول کر لیا۔
اللہ گواہ ہے، انہوں نے کبھی مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ یہ شادی کسی مجبوری کا نتیجہ تھی۔ میں ناتجربہ کار تھی، گھر کے کام ٹھیک سے نہیں آتے تھے، مگر انہوں نے کبھی طعنہ نہیں دیا۔ بلکہ میرے لیے کام والی بھی رکھ دی تاکہ میں آسانی سے گھر سنبھال سکوں۔ وقت گزرتا گیا اور میرے اپنے بھی دو بچے ہو گئے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔
لیکن سچ یہ ہے کہ میری گود میں سب سے پہلے میری بہن کی بیٹیاں آئی تھیں۔ ان کے آنسو پہلے میرے کندھے پر گرے تھے، ان کی ہنسی پہلے میرے دل میں بسی تھی۔ شاید اسی لیے میں نے کبھی اپنے اور ان میں فرق محسوس ہی نہیں کیا۔ میرے لیے وہ چاروں ایک جیسے تھے، ایک جیسے ہیں۔
پھر زندگی نے ایک اور امتحان لیا۔ میرے شوہر کو گلے کا کینسر ہو گیا۔ ہم نے پانی کی طرح پیسہ بہایا۔ ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ اپنے بھی، پرائے بھی۔ قرض لیا، امیدیں لگائیں، دعائیں مانگیں، مگر کچھ دعائیں زمین پر ہی رہ جاتی ہیں۔ بہت علاج کے بعد وہ دنیا سے چلے گئے، اور میں چار بچوں کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔
ان کے جانے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ قرض معاف نہیں ہوا، گھر کا آدھا حصہ بیچنا پڑا، اور باقی آدھے میں بس اتنا سا حصہ میرے حصے میں آیا کہ چھت قائم رہ سکے۔ اب میرے پاس چار بچے تھے، چار ذمہ داریاں، اور ایک خالی جیب۔
شوہر کے جانے کے بعد صرف گھر ہی نہیں ٹوٹا، میرے اردگرد کے رویے بھی بدل گئے۔ جو لوگ پہلے ہمدردی کے الفاظ بولتے تھے، وہی آہستہ آہستہ فاصلے بنانے لگے۔ مہنگائی، قرض اور روزمرہ کے اخراجات نے زندگی کو ایک مسلسل جدوجہد بنا دیا۔ معاشرہ بیوہ عورت کو ہمت دینے کے بجائے اکثر اسے ایک بوجھ کی طرح دیکھتا ہے۔ دروازے کم کھلتے ہیں، سوال زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے شوہر کے ساتھ ہی میرا سہارا، میری پہچان اور میری آسانیاں بھی دفن ہو گئی ہوں۔
میں نے کبھی اپنے لیے کچھ نہیں مانگا۔ بس بچوں کے لیے سہارا چاہا۔ ان کے چچا سے پیغام بھجوایا کہ تھوڑی مدد کر دیں، کفالت میں ہاتھ بٹا دیں۔ مگر جواب آیا کہ:
“بچیاں ہمیں دے دو، ہم پال لیں گے… تم یہاں سے چلی جاؤ۔”
وہ لمحہ شاید میری زندگی کا سب سے مشکل لمحہ تھا۔ کیسے دے دیتی؟ کیسے سمجھاتی کہ ماں کے دل میں چار حصے نہیں ہوتے، ایک ہی دل ہوتا ہے جس میں سب بستے ہیں۔ وہ بچیاں مجھے ماں کہتی ہیں، میری گود میں سوئی ہیں، میرے ہاتھ سے کھایا ہے۔ وہ ابھی صرف گیارہ اور نو سال کی ہیں۔ نہ اتنی بڑی کہ دنیا کی بے حسی سمجھ سکیں، نہ اتنی چھوٹی کہ جدائی کا درد بھول جائیں۔
میں راتوں کو جاگتی ہوں، بچوں کے سوتے ہوئے چہرے دیکھتی ہوں۔ پہلے سوچتی تھی، کاش میں اتنی مضبوط ہوتی کہ ان کے لیے پوری دنیا سے لڑ سکتی۔ پھر ایک رات میری بڑی بیٹی نیند میں بڑبڑائی: “امی، آپ ہیں نا؟”
اس لمحے مجھے جواب مل گیا۔
میں کمزور نہیں ہوں۔ حالات نے مجھے توڑا ضرور ہے، مگر میرے بچوں کی ضرورت نے مجھے جوڑ بھی دیا ہے۔ میں نے سلائی مشین نکالی جو جہیز میں آئی تھی اور سالوں سے بند پڑی تھی۔ پہلے محلے کے دو تین گھروں کے کپڑے سیے، پھر اسکول کی بچیوں کی یونیفارم۔ ہاتھ دکھتے ہیں، راتیں چھوٹی پڑ گئی ہیں، مگر اب میرے بچے کسی کے رحم پر نہیں۔
میرے پاس دولت نہیں، بڑا سہارا نہیں، مگر میرے پاس چار وجوہات ہیں جینے کی۔ میری بہن کی بیٹیاں اب کلاس میں اول آتی ہیں۔ میرا بیٹا کہتا ہے “میں ڈاکٹر بن کر آپ کا علاج کروں گا” اور میری چھوٹی بیٹی روز رات کو میرا ہاتھ دبا کر کہتی ہے “امی آپ تھک گئی ہیں، سو جائیں۔”
میں بہن کی سوتن کہلائی، مجبوری میں بیوی بنی، مگر اپنی مرضی سے ماں بنی ہوں۔ اور ماں کا فیصلہ قسمت سے بڑا ہوتا ہے۔
راستہ اب بھی لمبا ہے، مشکل بھی ہے، مگر اب مجھے اندھیروں سے ڈر نہیں لگتا۔ کیونکہ میرے چاروں چراغ میرے ساتھ جل رہے ہیں۔ میں اپنی امانت کو تنہا نہیں چھوڑوں گی، اور ایک دن یہی امانت میری پہچان بنے گی۔
کچھ رشتے خون سے نہیں، محبت اور قربانی سے بنتے ہیں۔ اور جو رشتہ آنسوؤں سے سینچا جائے، وہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔
مزید پڑھیں






