میر رضا قتل کیس: سینئر پولیس افسران کو طلب کرنے کی درخواست مسترد

میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے نوجوان تاجر میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے سینئر پولیس افسران کو طلب کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے گزشتہ روز کی کارروائی کا حکم نامہ جاری کردیا۔ حکم نامے کے مطابق میر رضا کے اہلخانہ نے ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو کمیشن کے سامنے طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔جسٹس عمر سیال نے کہا کہ اہلخانہ کو 17 ستمبر کو آگاہ کیا گیا تھا کہ سینئر پولیس افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اہلخانہ 26 نومبر تک سینئر پولیس افسران سے متعلق اپنے سوالات تحریری طور پر جمع کراسکتے ہیں۔
گزشتہ روز سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال نے سیکریٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ کمیشن کے مطابق دونوں افسران نے غیر قانونی مداخلت کرتے ہوئے میر رضا قتل کیس میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا اور بعد ازاں بورڈ میں تبدیلیاں کیں۔کمیشن نے پہلی تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی پر بھی سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے 6 روز میں کیس کا بیڑہ غرق کردیا۔حکم نامے کے مطابق 52 کیمروں میں سے صرف ایک کی فوٹیج حاصل کی گئی، جبکہ کرائم سین کی جھاڑیاں جلا دی گئیں۔ کمیشن نے قرار دیا کہ پہلی تفتیشی ٹیم نے شواہد ضائع کیے اور بعد ازاں ذمہ داری ماتحت اہلکاروں پر ڈال دی۔
مزید پڑھیں




