ضبطِ نفس، مؤثر قیادت کی پہلی سیڑھی،تحریر:دانیال حسن چغتائی
نقطہ نظر
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں وہی لوگ بڑے انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے پہلے اپنی ذات کی سلطنت پر فتح حاصل کی۔ میاموٹو موساشی، جو سترہویں صدی کا عظیم مفکر تھا، اس حقیقت کو ایک جملے میں کچھ یوں سمو دیتا ہے: اگر آپ دوسروں پر قابو پانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو خود پر قابو پانا ہو گا۔ یہ قول زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کا وہ بنیادی اصول ہے جسے ہم ضبطِ نفس یا سیلف کنٹرول کہتے ہیں۔
انسانی جبلت ہمیشہ آسانی کی تلاش میں رہتی ہے۔ جب ہم کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے محنت کر رہے ہوتے ہیں تو قدم قدم پر ایسی آزمائشیں آتی ہیں جو ہمیں راستے سے بھٹکانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق ہماری قوتِ ارادی محدود ذخیرے کی مانند ہے جو دن بھر کے فیصلوں اور تھکن سے کم ہوتی جاتی ہے۔
ایسے میں اپنی نظم و ضبط کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے پاس ٹھوس وجہ یا دلیل رکھیں۔ جب ذہن عارضی لذت کی طرف مائل ہو تو مدلل جواب ہونا چاہیے کہ ہم اس وقت کیوں رک رہے ہیں۔ اگر خود کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی مضبوط فائدہ موجود نہیں تو انسانی فطرت کے مطابق جلد یا بدیر ہم اس ترغیب کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گے۔ خود انضباطی کے عملی فوائد سے آگاہی وہ ڈھال ہے جو ہمیں پھسلنے سے بچاتی ہے۔
قیادت کا تصور اکثر اوقات بلند و بانگ نعروں اور دوسروں کو حکم دینے تک محدود سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قیادت کا جوہر ساکھ میں پوشیدہ ہے۔ لیڈر وہ نہیں جو راستہ دکھائے، بلکہ وہ ہے جو خود اس راستے پر چل کر دکھائے۔
فرض کریں کہ ایک مینیجر اپنی ٹیم کو وقت کی پابندی کا سبق دیتا ہے لیکن خود ہمیشہ دیر سے آتا ہے، یا استاد بچوں کو سچائی کی تلقین کرتا ہے مگر خود مصلحت پسندی سے کام لیتا ہے۔ کیا ایسے لوگ اپنے پیروکاروں کے دلوں میں جگہ بنا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ جب آپ دوسروں سے نظم و ضبط کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن خود اس کے پابند نہیں ہوتے تو آپ اخلاقی طور پر اپنی اثر پذیری کھو دیتے ہیں۔ لوگ الفاظ کو نہیں، اعمال کو دیکھتے ہیں۔ ضبطِ نفس کی کمی کردار میں تضاد پیدا کرتی ہے اور تضاد قیادت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
عام طور پر لیڈر سے مراد کوئی سیاسی رہنما یا کارپوریٹ ایگزیکٹو لیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ہم سب کسی نہ کسی سطح پر لیڈر ہیں۔
والدین کی حیثیت سے آپ اپنے بچوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔ اگر آپ اپنے غصے یا عادات پر قابو نہیں رکھ سکتے تو آپ ان کی شخصیت سازی میں ناکام رہیں گے۔
جیون ساتھی یا دوست کے طور پر، آپ کا جذبات پر قابو رکھنا رشتے کے استحکام کی ضمانت ہوتا ہے۔
معاشرے میں ہمسائے اور دوست آپ کے کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔
جہاں بھی آپ کی ذمہ داری کسی دوسرے انسان کی فلاح و بہبود سے جڑی ہے، وہاں آپ لیڈر ہیں اور اس منصب کا تقاضا ہے کہ آپ کی ذات نظم و ضبط کا نمونہ ہو۔
ضبطِ نفس کو برقرار رکھنے کے لیے طاقتور نفسیاتی تکنیک یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جو آپ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ آپ کے ماتحت، آپ کے بچے، آپ کے دوست، یہ سب آپ میں ایسی خوبی دیکھتے ہیں جس کی وہ تعریف کرتے ہیں۔ وہ آپ کو اس لیے اہم سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ آپ میں وہ استقامت ہے جو شاید ان میں ابھی پیدا نہیں ہوئی۔
سوچیے، اگر ان لوگوں کو پتہ چلے کہ آپ تنہائی میں یا کسی آزمائش کے وقت اسی اصول کو توڑ دیتے ہیں جس کی آپ تبلیغ کرتے ہیں تو ان کے دل میں آپ کی کیا وقعت رہ جائے گی؟ مایوسی کا یہ احساس آپ کی ساکھ کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ ان لوگوں کا نظم و ضبط پر سے اعتماد بھی اٹھا دیتا ہے۔
ضبطِ نفس اخلاقی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر قیادت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کی بات سنے اور لوگ آپ کے نقشِ قدم پر چلیں تو اس کا آغاز آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے کرنا ہوگا۔ اپنی خواہشات کو اپنے مقاصد کے تابع کرنا ہی وہ پہلا امتحان ہے جو عام انسان کو عظیم لیڈر بنا دیتا ہے۔
اگلی بار جب آپ کا دل نظم و ضبط کو توڑنے کو چاہے تو یاد رکھیں کہ آپ اصول نہیں توڑ رہے بلکہ ان تمام لوگوں کا اعتماد توڑ رہے ہیں جو ہمیں اپنا رہنما مانتے ہیں۔ خود پر فتح پانا ہی کائنات کی سب سے بڑی فتح ہے۔
مزید پڑھیں





