کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست خارج

لاہور ہائیکورٹ نے کرکٹر محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کی انکوائری اور کال اپ نوٹس کے خلاف درخواست خارج کرتے ہوئے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، عدالت نے محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی انکوائری میں شامل ہونے اور مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ ادارہ قانون کے مطابق انکوائری کرے اور محمد رضوان کو ہراساں یا غیر ضروری زحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تحریری فیصلے کے مطابق این سی سی آئی اے کا مؤقف ہے کہ انکوائری الیکٹرانک فراڈ کے الزامات سے متعلق ہے، جبکہ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ پیکا ایکٹ 2016ء کی دفعہ 14، ناجائز مالی فائدے، کے دائرہ کار میں آتا ہے، این سی سی آئی اے کے مطابق سائبر پٹرولنگ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات سے محمد رضوان کا معاملے سے تعلق سامنے آیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر متعلقہ ادارے کو پیکا ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت الزامات کی انکوائری جاری رکھنے کا موقع دینا مناسب ہے، انکوائری مکمل ہونے اور مزید کارروائی کی ضرورت کا تعین ہونے سے قبل عدالت ابتدائی مرحلے پر مداخلت نہیں کرسکتی۔
فیصلے میں محمد رضوان کے وکیل کے اس مؤقف کا بھی ذکر کیا گیا کہ معاملہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کو رپورٹ نہیں کیا گیا اور کرکٹ میں کرپشن کے خلاف کارروائی کے لیے آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ متعلقہ فورم ہے۔
تاہم عدالت نے آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 1.11 کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ فوجداری قوانین قائم نہیں کرتا بلکہ کرکٹ سے وابستہ افراد کے لیے پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن کوڈ دیگر قابل اطلاق قوانین کے تحت کارروائی کو متاثر یا ختم نہیں کرتا، آئی سی سی کا اپنا ضابطہ بھی متعلقہ فوجداری یا ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ تعاون کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے آئی سی سی کے ڈسپلنری فریم ورک کی موجودگی ریاستی مجاز ادارے کی قانونی انکوائری میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
عدالت نے لکھا کہ کال اپ نوٹس بذاتِ خود کسی شخص پر جرم عائد نہیں کرتا بلکہ انکوائری یا تفتیش کے دوران معلومات حاصل کرنے اور متعلقہ شخص کا مؤقف جاننے کا طریقہ کار ہے،محمد رضوان این سی سی آئی اے کے نوٹس پر پیش ہوچکے ہیں اور اپنا تحریری مؤقف بھی جمع کراچکے ہیں۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کو 8 ستمبر کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا اور انہیں 10 ستمبر کو پیش ہوکر اپنا مؤقف اور الزامات کی وضاحت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، محمد رضوان 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے جبکہ 14 ستمبر کو تحریری جواب بھی جمع کرایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ این سی سی آئی اے کی انکوائری نہ دائرہ اختیار سے باہر ہے اور نہ ہی بدنیتی پر مبنی ہے، انکوائری کا مقصد کھیلوں میں کرپشن کا پتہ لگانا اور اسے ختم کرنا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ انکوائری کے حتمی نتیجے سے شکایت کی صورت میں محمد رضوان قانون کے مطابق مناسب داد رسی حاصل کرسکتے ہیں، ان سے ضبط یا قبضے میں لی گئی اشیاء کی واپسی کا معاملہ بھی متعلقہ عدالت سے رجوع کرکے اٹھایا جاسکتا ہے۔





