جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دہشت گردی کا خاتمہ،مشترکہ قومی فریضہ،تحریر: سید علی جبران شاہ

نقطہ نظر

پاکستان میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ محض ریاستی اداروں کی کارروائیوں سے نہیں بلکہ ریاست، شہریوں اور معاشرے کے تمام طبقات کے باہمی تعاون، قومی یکجہتی اور قانون کی بالادستی سے ممکن ہے۔ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی ہو یا ملک کے اندر سرگرم انتہا پسند اور مسلح گروہ، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ایسی جامع حکمت عملی ضروری ہے جس میں مؤثر سکیورٹی اقدامات کے ساتھ تعلیم، شعور، انصاف اور عوامی اعتماد کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد میں بے شمار قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے امن کے قیام کے لیے قابلِ قدر قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کو سیاسی، لسانی، مذہبی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک مشترکہ قومی مقصد بنایا جائے۔

آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی

پاکستان کا آئین 1973ء ریاست اور شہریوں کے درمیان تعلق کی بنیادی دستاویز ہے۔ آئین کا آرٹیکل 9 جان اور آزادی کے تحفظ، آرٹیکل 10 قانونی تقاضوں کے مطابق گرفتاری اور نظر بندی، آرٹیکل 10-اے منصفانہ سماعت، آرٹیکل 14 انسانی وقار اور آرٹیکل 25 شہریوں کی مساوات سے متعلق ضمانتیں فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ آئینی حقوق، قانونی طریقۂ کار اور انصاف کے تقاضوں کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کے لیے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء اور متعلقہ نافذالعمل قوانین اہم قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ کسی بھی مشتبہ شخص کے خلاف کارروائی معتبر شواہد اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ کسی شہری کو محض شبہے، ذاتی دشمنی یا غیر مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر مجرم قرار دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ ریاست کی مضبوطی اسی وقت پائیدار ہوتی ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو۔

ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ شہری پولیس، متعلقہ سکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ کسی مشکوک سرگرمی، غیر قانونی اسلحے، دہشت گردی کی منصوبہ بندی یا تشدد پر اکسانے سے متعلق قابلِ اعتبار اطلاع سامنے آئے تو اسے متعلقہ سرکاری ادارے تک پہنچایا جائے۔ تاہم شہری خود قانون ہاتھ میں نہ لیں، کسی فرد یا گروہ پر اپنی طرف سے الزام نہ لگائیں اور غیر مصدقہ خبریں سوشل میڈیا پر پھیلانے سے گریز کریں۔

ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ عوام کی شکایات سنیں، اطلاع دینے والوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کریں، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام کریں اور شہریوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں۔ عوامی اعتماد ہی وہ بنیاد ہے جس پر مؤثر انٹیلی جنس، بروقت کارروائی اور پائیدار امن کی عمارت قائم ہوتی ہے۔

سرحد پار دہشت گردی اور داخلی انتہا پسندی کا مقابلہ

پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت، سرحدی نگرانی، دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ اگر دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی عناصر یا سرحد پار موجود گروہوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ریاست کو مؤثر، قانونی اور سفارتی ذرائع سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کسی پوری قوم یا برادری کو ثبوت کے بغیر موردِ الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔

ملک کے اندر دہشت گردی کی وجوہات کا مقابلہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ تعصب، انتہا پسندانہ نظریات، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور تشدد کی تشہیر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، روزگار، فنی تربیت، سماجی انصاف اور مکالمے کے مواقع بڑھائے جائیں تاکہ انتہا پسند عناصر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔

طلبہ، صحافیوں اور سول سوسائٹی کا کردار

طلبہ، اساتذہ، دانشور، صحافی، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، اختلافِ رائے کے احترام، آئینی شعور اور ذمہ دار شہری ہونے کی تربیت دی جائے۔ صحافی مستند معلومات کی بنیاد پر رپورٹنگ کریں، دہشت گردی کے واقعات میں سنسنی خیزی سے بچیں اور متاثرین کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔ سوشل میڈیا صارفین بھی اشتعال انگیز مواد، نفرت انگیزی اور غیر مصدقہ اطلاعات کے پھیلاؤ سے اجتناب کریں۔

قومی یکجہتی کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی اداروں کی ہر کارروائی پر سوال اٹھانا ممنوع ہو؛ بلکہ جمہوری معاشرے میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جائز سوال، شفافیت اور جواب دہی بھی ضروری ہیں۔ تعمیری تنقید اور قانونی نگرانی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

قومی عزم اور عملی اقدامات

قومی ایکشن پلان اور قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مربوط اقدامات کی بنیاد پہلے سے موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطے، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور عدالتی نظام کی مؤثریت کو مسلسل بہتر بنایا جائے۔

پاکستان کا امن صرف بندوق کی طاقت سے نہیں بلکہ قانون، انصاف، تعلیم، قومی اتحاد اور عوامی اعتماد سے مضبوط ہوگا۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ عہد کرنا چاہیے کہ دہشت گردی، نفرت اور تشدد کے سامنے متحد رہیں گے، ریاستی اداروں کے ساتھ قانونی حدود میں تعاون کریں گے اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کریں گے۔ یہی راستہ ایک محفوظ، پُرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔