مطالعہ اور مصنوعی ذہانت۔تحریر:ردا فاطمہ اعوان
نقطہ نظر
کتابیں انسان کی خاموش مگر بہترین دوست ہیں، جو نہ صرف زندگی کے نشیب و فراز میں رہنمائی کرتی ہیں بلکہ اس کے کردار، سوچ اور شعور کو بھی سنوارتی ہیں۔ کتاب ایک ایسا چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں میں علم کی روشنی بکھیرتا ہے۔ یہ انسان کو وہ کچھ سکھاتی ہے جو شاید اسے برسوں کے تجربات بھی نہ سکھا سکیں۔ مگر افسوس کہ آج کی نوجوان نسل علم و مطالعے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ جس عمر میں ذہن کو نئے خیالات، نئی سوچ اور علم کی وسعت سے روشناس ہونا چاہیے، اس عمر کا بڑا حصہ موبائل اسکرینوں کی نظر ہو رہا ہے۔
دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ہر روز نئی ایجادات، نئی ٹیکنالوجی اور نئے رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے کئی شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ بلاشبہ یہ ٹیکنالوجی ایک بڑی سہولت اور علم کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہے، مگر اس کا غیر ضروری اور بے جا استعمال نوجوان نسل کو ایک ایسی دوڑ میں شامل کر رہا ہے جہاں سوچنے، سمجھنے اور خود مطالعہ کرنے کی صلاحیت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اب نوجوان کسی موضوع پر خود تحقیق کرنے، کتابوں کے اوراق پلٹنے اور مختلف زاویوں سے سوچنے کے بجائے چند لمحوں میں تیار شدہ جواب حاصل کرنے کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔
آج کا نوجوان موبائل فون، سوشل میڈیا اور ویڈیو ایپس کی دنیا میں اس قدر گم ہو چکا ہے کہ مطالعے کا ذوق تقریباً ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گھنٹوں سوشل میڈیا پر گزارنا، مختلف ویڈیوز دیکھنا اور دوسروں کی زندگیوں میں دلچسپی لینا معمول بن چکا ہے، مگر چند صفحات پڑھنے کے لیے وقت نکالنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ مطالعہ اب تفریح یا شعور کی بیداری کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اکثر نوجوانوں کے نزدیک ایک اضافی ذمہ داری بن چکا ہے۔
تعلیمی اداروں کی صورتِ حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ تعلیم کا مقصد علم حاصل کرنا، سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور شخصیت کی تعمیر ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کا محور اکثر امتحان پاس کرنا اور ڈگری حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ طلبہ کتابیں اس لیے کھولتے ہیں کہ انہیں اچھے نمبر حاصل کرنے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ وہ زندگی کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ نتیجتاً ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں، مگر شعور، برداشت، اخلاق اور مطالعے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت بذاتِ خود کوئی خطرہ نہیں، خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔ اگر نوجوان ہر سوال کا جواب مشین سے حاصل کریں گے، ہر تحریر مصنوعی ذہانت سے لکھوائیں گے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیں گے تو رفتہ رفتہ ان کی فکری خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کی معاون ہونی چاہیے، اس کی متبادل نہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معلومات حاصل کر لینا اور علم و شعور پیدا کر لینا دو الگ باتیں ہیں۔
کتاب انسان کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ احساس، برداشت، گہرائی اور دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کا ہنر بھی سکھاتی ہے۔ ادب پڑھنے والا انسان مختلف کرداروں کے احساسات سے گزرتا ہے، تاریخ پڑھنے والا ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے اور فلسفہ پڑھنے والا سوال کرنے کا سلیقہ حاصل کرتا ہے۔ یہی مطالعہ انسان کے اندر انسانیت کو زندہ رکھتا ہے۔
اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والی نسلیں معلومات کے اعتبار سے تو شاید بہت آگے ہوں، مگر احساس، تخیل اور فکری گہرائی کے اعتبار سے پیچھے رہ سکتی ہیں۔ ہمیں آج ہی اس صورتِ حال کا ادراک کرنا ہوگا۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو نوجوانوں میں مطالعے کا شوق پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ گھروں میں کتابوں کے لیے جگہ، تعلیمی اداروں میں مطالعے کے لیے وقت اور معاشرے میں اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت ہمیں معلومات فراہم کر سکتی ہے، مگر شعور کی تعمیر کے لیے انسانی کوشش، مطالعہ اور تجربہ ناگزیر ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہمیں ترقی کے نام پر کتاب سے اپنا رشتہ ختم نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ جس نسل کے ہاتھوں سے کتاب چھوٹ جاتی ہے، اس کے لیے صرف معلومات کا ذخیرہ کافی نہیں رہتا۔ ایک باشعور، حساس اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے کتاب اور مطالعہ آج بھی ناگزیر ہیں۔





