Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،اعجاز الحق عثمانی

ejaz usmanii

اس گلابی پہاڑوں کے پکھیرو کی آنکھ آبائی گاؤں خوشحال گڑھ میں کھلی۔ پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد آبائی گاؤں سے مزید تعلیم کے لیے رخصتی ہوئی، تو جھیل کنارے آباد کلرکہار کی رنگین فضاؤں میں،مختلف علمی کنوؤں سے پیاس بجھاتے بجھاتے آخر سائنس کالج کی حویلی مسکن بنی۔عارضی پنچھی نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کی راہ لی۔اور یہاں بالآخر طبیعت بے قرار کو چار سال قرار رہا۔اور پھر شہر ادب لاہور کی گنجان آباد بے ہنگم آبادی میں حصول علم کےلیے رہا۔دال دلیہ کمانے کے ساتھ ساتھ جب کبھی طبیعت بوجھل ہو تو قلم سے آڑی ترچھی لکیریں بھی کھینچ لیتا ہوں۔ لکھنے کا سفر کالج کے زمانے سے شروع ہوا، پہلے شاعری پھر نثر میں طالب عالمانہ کوششیں کیں۔ 17 سال کی عمر میں پہلی بار تحریریں کالج کے میگزین "طاؤس” میں شائع ہوئیں ۔ 18 برس کی عمر میں پہلی کتاب” انسائیکلوپیڈیا آف کلرکہار” شائع ہوئی تو یکے بعد دیگرے باغی ٹی وی، ہم سب اور روزنامہ اساس راولپنڈی کے صفحات مطبوعہ بھی افکار و مضامین کی پذیرائی اور اشاعت کا وسیلہ بنتے چلے گئے۔ریڈیو ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر معروف سوشل میڈیا چینل اردو پوائنٹ کو بطور اینکر جوائن کیا۔ اور گزشتہ برس دوسری کتاب "عثمانی نامہ” بھی پریس مشینوں کی مشقت کاٹ کر سامنے آگئی ہے۔

تاحال سفر اور چلہ کشی جاری ہے۔ سیم تھور زدہ اور کلف نما معاشرہ قبول کرتا ہے، یا ساغر صدیقی کی طرح فٹ پاتھوں پر بیٹھنا پڑتا ہے، نہیں معلوم۔ مگر اندر کا خوابیدہ عثمانی چین سے نہیں بیٹھنے دیتا تو لکھنے پڑھنے لگتا ہوں۔
میں کیوں لکھتا ہوں؟بے حس معاشرے خودرو جھاڑیوں کو بھلا کب اہمیت دیتا ہے؟ پرواہ نہیں۔ یاران تیز گام کے ساتھ کچھوے کی چال چلنا چاہتا ہوں۔تیز رفتاری سے حرکت قلب بند ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ میری علمی اور ادبی سفری روداد غم جاناں، غم دوراں ہے۔لکھنے پڑھنے سے اندرونی کیفیت پر قابو پاتا ہوں۔عمر عزیز کے آوائل میں دو کتابوں کا خالق ہوں، مگر عاشق مخلوق خدا کا ہوں۔پہاڑوں کا مرید ہوں اور وادیاں میری محبوبائیں۔ لفظوں سے تصویریں بنا بنا کر سکون حاصل کرنے کا متمنی ہوں۔ خیر اور محبت بانٹنا چاہتا ہوں۔والدین نے بولنا اور لفظوں کا استعمال سکھایا۔ اساتذہ نے لفظوں کی صحیح ادائیگی کا شعور دیا۔ بوڑھے تاش کے پتوں تک رسائی نہیں۔زندگی کے میلے میں اکیلا ہی ہوں۔فقیروں اور پنچھیوں کے مستقل گھر نہیں ہوتے۔ جامد نہیں سیارہ ہوں۔زندگی پرانا لحاف سہی۔پیوند کاری کا عمل تو جانتا ہوں،مگر پوندکاری کا نہیں۔

طفل مکتب ہوں۔ زمانے سے جینے کا ڈھنگ سیکھ رہا ہوں۔ دریافت کا عمل درپیش ہے۔۔۔۔رام کہانی ترتیب دینی ہے۔لفظی کہانیاں بہت لکھ چکا ہوں۔کوچہ ادب کے دلداروں کا دلدادہ ہوں۔ اپنے خیالات میں غرقاب اور نیلاب کی کہانی لکھی۔ گرداب میں رہا تو شاداب خوشاب کی کہانی لکھی۔ یہ میں ہوں جی ہاں! مامے پھلے سے باتیں کرنے والا اعجاز الحق عثمانی