محبتوں کی سرزمین پر نفرتوں کا راج ہے،تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظر
ہم ایک ایسی سرزمین کے باسی ہیں جس کی پہچان محبت، خلوص، رواداری اور اپنائیت سے رہی ہے۔ یہاں کبھی کسی اجنبی کے لیے بھی دروازہ کھول دینا، راستے میں ملنے والے کو سلام کرنا، کسی کے دکھ میں شریک ہونا اور کسی کی خوشی میں خوش ہونا ہماری تہذیب کا حصہ تھا۔ رشتوں کی قدر کی جاتی تھی، پڑوسیوں کا خیال رکھا جاتا تھا اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے لیے دل میں جگہ باقی رہتی تھی۔ آج جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے محبتوں کی اسی سرزمین پر آہستہ آہستہ نفرتوں کا راج قائم ہوتا جا رہا ہے۔ نفرت ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں آتی ہے۔ کبھی یہ خاموشی سے دلوں میں جگہ بناتی ہے۔ ایک چھوٹا سا جملہ، ایک غلط فہمی، ایک تلخ جواب یا کسی کے بارے میں سنی سنائی بات دل میں ایسی گرہ ڈال دیتی ہے، جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ ہم کسی کو جانے بغیر اس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں، کسی کی ایک غلطی کو اس کی پوری شخصیت بنا دیتے ہیں۔ اور پھر اسے معاف کرنے کے بجائے عمر بھر اسی غلطی کا حوالہ دیتے رہتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھنے لگے ہیں۔ ہر انسان کی سوچ ایک جیسی نہیں ہو سکتی ہے۔ ہر شخص کے تجربات، حالات اور نظریات مختلف ہوتے ہیں۔ اختلاف ہونا فطری بات ہے مگر اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ سامنے والا ہمارا دشمن ہے۔ افسوس کہ ہم نے اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کم کر دی ہے۔ کوئی ہماری بات سے اتفاق نہ کرے تو ہم فوراً اسے غلط، جاہل یا بد نیت سمجھنے لگتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے ہمارے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے رابطے کے بے شمار دروازے کھول دیے ہیں۔ مگر انہی دروازوں سے تلخی بھی ہمارے گھروں تک پہنچ گئی ہے۔ ایک پوسٹ، ایک تبصرہ یا ایک جملہ کبھی کبھی پورے رشتے کو متاثر کر دیتا ہے۔ ہم الفاظ بولتے یا لکھتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسری طرف بھی ایک انسان موجود ہے۔ جس کے جذبات ہیں، احساسات ہیں اور ایک دل ہے، جو ہمارے الفاظ سے زخمی ہو سکتا ہے۔
ہمیں دوسروں کی زندگی کے بارے میں رائے دینا بہت آسان لگتا ہے۔ کون کیا پہن رہا ہے، کس سے مل رہا ہے، کیسے رہ رہا ہے، کیا لکھ رہا ہے، کس کے ساتھ کھڑا ہے، کس کی تعریف کر رہا ہے، کس سے اختلاف کر رہا ہے؛ ہر معاملے پر ہماری اپنی عدالت قائم ہے۔ ہم دوسروں کے فیصلے سنانے میں اتنے مصروف ہیں کہ اپنے کردار کا جائزہ لینا بھول جاتے ہیں۔
نفرت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف دو افراد تک محدود نہیں رہتی۔ جب ایک گھر میں تلخی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات بچوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ جب محلے میں لوگ ایک دوسرے سے الجھتے ہیں تو ماحول متاثر ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں برداشت کم ہوتی ہے تو ہر شخص خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔ پھر لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے بچنے لگتے ہیں۔
کبھی ہمارے بزرگ ہمیں سکھاتے تھے کہ رشتے شیشے کی طرح ہوتے ہیں، ذرا سی بے احتیاطی سے ٹوٹ سکتے ہیں۔ آج ہم شاید اس بات کو بھول گئے ہیں۔ ہم غصے میں ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں جنہیں بعد میں ہم واپس نہیں لے سکتے ہیں۔ معافی مانگنے میں ہمیں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معافی مانگ لینا انسان کو چھوٹا نہیں کرتا بلکہ اس کے ظرف کو ظاہر کرتا ہے۔
محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر غلط بات کو درست مان لیں۔ محبت کے ساتھ اصول بھی ضروری ہیں اور حق و باطل میں فرق بھی اہم ہے۔ لیکن کسی کی غلطی کی اصلاح اور کسی کی تذلیل میں فرق ہوتا ہے۔ ہمیں یہ فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمارے لہجے میں نفرت نہیں بلکہ خیرخواہی ہونی چاہیے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہو گیا ہے، لوگ بدل گئے ہیں، رشتوں میں پہلے جیسی محبت نہیں رہی ہے۔ لیکن ہم یہ کم ہی سوچتے ہیں کہ اس معاشرے کا ہم بھی ایک حصہ ہیں۔ معاشرہ کسی ایک شخص کا نام نہیں ہے۔ ہم سب مل کر معاشرہ بناتے ہیں۔ اگر ہم اپنے حصے کی تلخی کم کر دیں، اپنے الفاظ میں نرمی لے آئیں اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھیں، تو شاید تبدیلی کا آغاز وہیں سے ہو جائے جہاں ہم کھڑے ہیں۔
محبت صرف بڑے بڑے دعووں کا نام نہیں ہے۔ محبت تو کبھی راستہ دے دینے میں ہے، کبھی کسی کی بات خاموشی سے سن لینے میں، کبھی ضرورت مند کی مدد کر دینے میں اور کبھی کسی ناراض شخص کو پہل کرکے منا لینے میں ہے۔ محبت کسی کے دکھ پر مذاق نہ بنانے کا نام بھی ہے۔ محبت یہ بھی ہے کہ ہم کسی کی کمزوری کو اس کے خلاف استعمال نہ کریں۔
ہمیں اپنے گھروں سے محبت کی تربیت دوبارہ شروع کرنا ہوگی۔ بچوں کو صرف کامیابی حاصل کرنا نہیں، انسان بننا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا کہ کسی کمزور کا مذاق اڑانا بہادری نہیں ہے۔ کسی کے رونے پر ہنسنا کامیابی نہیں ہے۔ اور کسی کو نیچا دکھا کر خود کو بڑا ثابت کرنا بھی عزت نہیں ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے ساتھ رہنے والوں کے لیے آسانی کا سبب بنے۔
ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں بھی برداشت اور اخلاق کی اہمیت اجاگر کرنی ہوگی۔ کتابیں انسان کو علم دیتی ہیں مگر اچھا کردار علم کو خوبصورتی دیتا ہے۔ اگر ہمارے پاس بہت سی ڈگریاں ہوں لیکن ہم دوسروں کی عزت کرنا نہ جانتے ہوں تو ہماری تعلیم ادھوری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بہت سے لوگ خود اندر سے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ کسی کی خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہاں کسی کے غصے کے پیچھے چھپی پریشانی کو کوئی نہیں دیکھتا ہے۔ کسی کی تنہائی کو کوئی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ ہم دوسروں کے ظاہر کو دیکھ کر فیصلے کر لیتے ہیں مگر ان کے اندر جاری جنگ سے بے خبر رہتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہر شخص سے محبت کرنا شاید ممکن نہ ہو مگر ہر شخص کے ساتھ انسانیت سے پیش آنا تو ممکن ہے۔ ہر اختلاف ختم نہیں کیا جا سکتا مگر اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ ہر رشتہ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا مگر دل میں نفرت پالنا بھی ضروری نہیں ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ نفرت آخر ہمیں دیتی کیا ہے؟ یہ دل کا سکون چھین لیتی ہے، رشتوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے اور انسان کو اندر سے بے چین رکھتی ہے۔ جس شخص سے ہم نفرت کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہر وقت اس نفرت کا بوجھ اٹھا رہا ہو؛ اکثر یہ بوجھ ہم خود اٹھائے پھرتے ہیں۔ دل میں پرانی شکایتیں، پرانے شکوے اور پرانی تلخیاں جمع کرتے رہنا انسان کو سکون نہیں دیتا ہے۔
معافی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھول جائیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا۔ معافی کا مطلب کبھی کبھی صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے دل کو مزید بوجھ اٹھانے سے آزاد کر دیں۔ بعض رشتوں میں فاصلہ رکھنا ضروری ہو سکتا ہے مگر فاصلے کے باوجود دل کو نفرت سے بچایا جا سکتا ہے۔ ہماری سرزمین نے محبت کے بہت سے خوبصورت رنگ دیکھے ہیں۔ مشکل وقت میں لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا، اجنبیوں کی مدد کرنا، سیلاب، زلزلے یا کسی حادثے کے وقت انسانوں کا ایک دوسرے کے لیے آگے بڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے اندر محبت ابھی زندہ ہے۔ ضرورت صرف اسے جگانے کی ہے۔
آج ہمیں بڑے بڑے انقلاب سے پہلے اپنے چھوٹے چھوٹے رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔ کسی کو جواب دینے سے پہلے ایک لمحہ رک جانا، غصے میں خاموش ہو جانا، کسی کی بات پوری سن لینا، غلطی پر معذرت کر لینا، کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا اور کسی کے دکھ میں چند لمحے ساتھ بیٹھ جانا—یہ سب چھوٹی باتیں دکھائی دیتی ہیں مگر انہی چھوٹی باتوں سے معاشرے کا مزاج بنتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں نفرت کے بجائے محبت کا معاشرہ دیکھیں تو ہمیں آج سے آغاز کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں میں، اپنے رشتوں میں، اپنی محفلوں میں اور اپنے الفاظ میں محبت کو جگہ دینی ہوگی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی انسان کو توڑ دینا آسان ہے مگر کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کے لیے بہت خلوص درکار ہوتا ہے۔
محبت کی سرزمین کو دوبارہ محبتوں سے آباد کرنے کے لیے کسی بڑے منصب، بڑے عہدے یا بڑے اختیار کی ضرورت نہیں۔ ایک نرم لہجہ بھی کافی ہے، ایک معافی بھی کافی ہے، ایک اچھا لفظ بھی کافی ہے، کسی کے لیے اٹھایا گیا ایک قدم بھی کافی ہے۔
آئیے ہم دوسروں کو بدلنے کی خواہش سے پہلے خود کو بدلنے کی کوشش کریں۔ نفرت کا چراغ اگر کہیں جل رہا ہے تو ضروری نہیں کہ ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔ ہم اس کے مقابل محبت کا ایک دیا روشن کر سکتے ہیں۔ شاید ہماری ایک چھوٹی سی کوشش کسی دوسرے انسان کے لیے امید بن جائے۔ کیونکہ سرزمین وہی رہتی ہے، لوگ بھی وہی رہتے ہیں مگر رویے بدل جائیں تو ماحول بدل جاتا ہے۔ آج اگر ہمیں اپنے اردگرد نفرتیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں تو ہمیں محبت کے لیے پہلا قدم خود اٹھانا ہوگا۔
محبت ختم نہیں ہوئی، بس اسے ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔
آئیے نفرتوں کے اس دور میں محبت کو پھر سے اپنا راستہ بنائیں، تاکہ ہماری سرزمین صرف نام کی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی محبتوں کی سرزمین کہلا سکے۔
مزید پڑھیں





