Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نویدِ سحر،تحریر: محمد عثمان

m usman blog

جب ہم مایوسی اور ناامیدی کے بھنور میں گھر چکے ہوں۔ جب سیاہیاں اور اندھیرے گھٹا ٹوپ چھا جائیں۔ جب ظلمتوں کا دور طویل ہو جائے اور مشکلات ہمارا دامن نہ چھوڑیں۔ جب پریشانیوں کے سیاہ بادل چَھٹتے نظر نہ آئیں اور مصائب و الم کا دور ختم ہی نہ ہو۔ جب کوئی راہ گزر اور رہبر میسر نہ ہو تو...!

اس حالت میں اچانک کسی کے کہے گئے حوصلہ افزا الفاظ اور دی گئی تسلی؛ ہمارے لیے دور ٹمٹماتے چراغ کی مانند ہوتی ہے یا افق پر چمکتے اس تارے کی طرح ہوتی ہے، جو رات کے گزرنے کی علامت کے طور پر دمکتا ہے اور صبح کا تڑکا لگتا ہے۔ جو رات کے مسافروں کے لیے ”نویدِ سحر“ ہوتا ہے۔ جس سے جسموں میں تازگی اور روح میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ اس صبح کی شروعات نئے امکانات اور تازگیوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ رات کی گہرائیوں کے بعد سورج کی پہلی کرنیں دن کو مسکراہٹ کے ساتھ چمکاتی ہیں اور ہمیں اس بات کا سبق دیتی ہیں کہ!

”اگر کبھی زندگی اندھیروں میں ڈگمگانے لگے تو مایوسی، خوف، بددلی اور ناامیدی کے بجائے اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ، گہرے بادل چھٹ جاتے ہیں اور آسمان نکھر جاتا ہے، خزاں کے بعد بہار کا آنا لازم ہے اور کڑکتے دوپہروں کا ڈھل جانا یقینی؛ آندھیوں کے بعد مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ طوفان تھم جاتے ہیں اور مشکلات ٹل جاتی ہیں۔ اس بات پر یقین رکھتے ہوئے اگر ہم مایوسی کے جان لیوا اندھیروں میں امید کا جگمگ کرتا ہوا چراغ جلائیں گے تو اس کی روشنی سے دوسروں کے ساتھ ساتھ ہمارے وجود کو بھی راحت ملے گی۔“