چھینکیں نزلہ زکام جاتے موسم کی سوغات ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
موسموں کا بدلنا قدرت کا ایک ایسا ازلی اور ابدی نظام ہے جو اپنے دامن میں جہاں فطرت کی رنگینیاں، نکھار اور حسن سمیٹے ہوئے ہوتا ہے، وہیں یہ خاموشی سے انسانی جسم و جان پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ سال بھر میں دو ایسے موڑ آتے ہیں جب انسان خود کو ایک عجیب سی بے چینی اور جسمانی کشمکش میں مبتلا پاتا ہے۔ ایک وہ وقت جب چلچلاتی دھوپ، حبس اور تپش کے بعد خنکی کے ابتدائی جھونکے فضا میں اترتے ہیں، اور دوسرا وہ لمحہ جب یخ بستہ ہواؤں کا زور ٹوٹنے لگتا ہے اور بہار کی چاپ سنائی دینے لگتی ہے۔ یہ رخصت ہوتے اور آتے موسموں کا درمیانی وقفہ، جسے بول چال میں جاتے موسم کا دورانیہ کہا جاتا ہے، بظاہر بڑا خوشگوار اور معتدل دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہمارے اردگرد ایک خاموش وبائی کیفیت جنم لیتی ہے۔ گھر گھر سے مسلسل چھینکوں کے پٹاخے سنائی دینے لگتے ہیں، ناک کا بہنا اور آنکھوں سے پانی کا رسنا روز کا معمول بن جاتا ہے، گلے میں ہلکی سی خراش چبھن بن کر مستقل اذیت دیتی ہے اور سر پر سارا دن بوجھل پن مسلط رہتا ہے۔ عمومی طور پر لوگ اسے موسمی تغیر کی ایک بے ضرر سوغات سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن اگر سائنسی، ماحولیاتی اور طبی زاویے سے جائزہ لیا جائے تو یہ کیفیت صرف ایک عارضی خلل نہیں بلکہ انسانی مدافعتی نظام کے چوکنا ہونے اور بسا اوقات کمزور پڑ جانے کا ایک واضح اعلان ہوتی ہے۔
اس بدلاؤ کے پیچھے سب سے بنیادی اور کارفرما محرک دن اور رات کے درجہ حرارت میں نمایاں تفاوت ہے۔ دن کے وقت جب سورج پوری آب و تاب سے چمکتا ہے تو انسان کو اب بھی موسمِ گرما کا گمان ہوتا ہے، مگر جوں ہی شام کے سائے ڈھلتے ہیں، فضا میں ایک غیر متوقع خنکی اور سرد مہری سرایت کر جاتی ہے۔ جسمانی خلیات اور خون کی باریک شریانیں درجہ حرارت کے اس اچانک اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر قبول نہیں کر پاتیں۔ انسانی ناک اور سانس کی نالیوں کی اندرونی جھلی بے حد حساس واقع ہوئی ہے، جس پر باریک باریک بال نما ریشے موجود ہوتے ہیں جو باہر کی ہوا کو معتدل، صاف اور نم کر کے پھیپھڑوں تک پہنچاتے ہیں۔ جب اچانک سرد اور گرم ہوا باری باری اس جھلی سے ٹکراتی ہے تو سانس کی نالیاں سکڑنے اور پھیلنے کے اس تیز ردِعمل کو سنبھال نہیں پاتیں، جس کے نتیجے میں اعصابی نظام فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے اور انسان پر پے در پے چھینکوں کا طوفان نازل ہوتا ہے۔ یہ چھینکیں درحقیقت جسم کا ایک حفاظتی میکانزم ہیں، جس کے ذریعے پھیپھڑے اور سانس کی نالیاں بیرونی ناہمواری اور مداخلت کو طاقت سے باہر دھکیلنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر جب یہ عمل تواتر سے ہونے لگے تو پورا اعصابی ڈھانچہ نڈھال ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس موسمی تبدیلی کا دوسرا بڑا فیکٹر ماحول اور فضا میں رونما ہونے والی خاموش ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں۔ جاتے موسم میں خشک ہوائیں چلتی ہیں جو فضا میں موجود مٹی، کارخانوں اور گاڑیوں کے باریک زہریلے ذرات، خشک پتوں کے ذرّات اور نباتاتی زردانوں یعنی پولن کو فضا کی بالائی اور زیریں تہوں میں بکھیر دیتی ہیں۔ شہری علاقوں میں جہاں گرد و غبار اور آلودگی پہلے ہی سنگین مسئلہ بنی ہوتی ہے، وہاں موسم کا یہ بدلاؤ گویا جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔ ہر سانس کے ساتھ سانس کی نالیوں میں وہ الرجنز داخل ہوتے ہیں جنہیں مدافعتی نظام بیرونی حملہ آور تصور کر کے ان کے خلاف ہسٹامائن جیسے کیمیائی مادے خارج کرنے لگتا ہے۔ اسی کیمیائی ردِعمل کے نتیجے میں ناک کی اندرونی بافتوں میں سوزش اور ورم آ جاتا ہے، ناک سے پتلا، شفاف پانی مسلسل بہنے لگتا ہے اور آنکھوں کے اندر سرخ ڈورے ابھر آتے ہیں جن میں جلن اور شدید کھجلی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو طبی اصطلاح میں الرجی رینائٹس کہا جاتا ہے، جو محض دواؤں سے وقتی طور پر دب تو جاتی ہے مگر جب تک فضا میں موجود وہ الرجن ختم نہیں ہوتا، یہ مصیبت جان نہیں چھوڑتی۔
یہاں ایک اور اہم اور قابلِ توجہ تفریق کو سمجھنا ضروری ہے جس میں اکثر لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر چھینکنے اور بہتی ناک کا شکار شخص الرجی کا مریض نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر نزلہ محض وائرل حملہ ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک باریک لکیر موجود ہے۔ اگر چھینکیں مشین گن کی طرح مسلسل آرہی ہوں، ناک سے خارج ہونے والا مواد بالکل شفاف اور پانی کی طرح پتلا ہو، اور ناک، کان اور تالو میں ناقابلِ برداشت کھجلی ہو جبکہ بخار کا کوئی نام و نشان نہ ہو، تو یہ سو فیصد الرجک ردِعمل کی علامت ہے۔ اس کے برعکس، اگر چھینکوں کا وقفہ دور دور ہو، ناک سے نکلنے والی رطوبت پہلے پتلی اور بعد میں گاڑھی یا زردی مائل ہو جائے، گلے میں کانٹے چبھنے جیسا احساس ہو، پٹھوں میں کھچاؤ ہو اور ساتھ میں ہلکا یا تیز بخار جسم کو نڈھال کر دے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ عام وائرل زکام یعنی فلو ہے۔ جاتے موسم میں رائنو وائرس اور انفلوئنزا وائرس کو پنپنے کے لیے سازگار ترین ماحول ملتا ہے، کیونکہ فضا کی نمی میں کمی اور ہوا کا ٹھہراؤ وائرسز کو دیر تک معلق رکھتا ہے اور وہ ایک متاثرہ فرد کے بولنے، کھانسنے یا چھینکنے کے ذریعے فوراً صحت مند افراد تک منتقل ہو جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں اس موسم کے آتے ہی لاپرواہی کا جو مظاہرہ دیکھا جاتا ہے وہ بھی اس بیماری کے پھیلنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ لوگ دن کی دھوپ اور گرمی دیکھ کر رات کے وقت بھی تیز پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کی براہِ راست ہوا کے سامنے سو جاتے ہیں، جبکہ رات کے پچھلے پہر کمرے کا درجہ حرارت تیزی سے گر جاتا ہے اور سوتے ہوئے جسم کی حرارت بھی کم ہو چکی ہوتی ہے۔ اچانک لگنے والی یہ ٹھنڈ صبح بیدار ہوتے ہی چھینکوں اور بند ناک کے تحفے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اسی طرح بازاروں میں برفیلے پانی، مصنوعی ٹھنڈے شربتوں اور غیر معیاری کولڈ ڈرنکس کا بے دریغ استعمال حلق کی جھلی کو سن کر کے مقامی مدافعتی خلیات کو مفلوج کر دیتا ہے، جس سے بیکٹیریا اور وائرس کو اندر داخل ہونے کا کھلا راستہ مل جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کا صبح سویرے یا رات دیر گئے بغیر چہرے کو ڈھانپے تیز ہوا میں سفر کرنا بھی سانس کی نالیوں کو شدید صدمہ پہنچاتا ہے۔
اس موسمی افتاد سے بچاؤ کے لیے کسی بہت بڑی دوائی کی نہیں بلکہ طرزِ زندگی میں ذرا سی دانشمندی اور بروقت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ جاتی گرمی یا جاتی سردی کے فریب میں نہ آئیں، بالخصوص فجر کے وقت یا رات کو نکلتے ہوئے سینے اور گردن کو کسی ہلکی چادر یا کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں۔ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے یا مٹی والے مقامات پر ماسک یا رومال کا استعمال یقینی بنائیں۔ صبح کے وقت نہار منہ نیم گرم پانی پینے کی عادت ڈالیں تاکہ رات بھر میں جمع ہونے والے بلغم اور الرجنز صاف ہو سکیں اور گلے کی جھلی میں رطوبت اور تروتازگی بحال رہے۔ غذا میں یخنی، دارچینی، ادرک اور لونگ کے ہلکے قہوے کا استعمال سانس کی نالیوں کی قدرتی حرارت کو برقرار رکھتا ہے اور وائرل حملوں کے خلاف ایک مؤثر قدرتی ڈھال بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونے سے قبل سادے گرم پانی کی بھاپ لینا بند ناک کو فوری کھولنے اور سائنسی ہڈیوں کے دباؤ کو دور کرنے کا بے حد آزمودہ اور محفوظ طریقہ ہے۔
یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ موسم کا جانا یا آنا قدرت کا اٹل فیصلہ ہے، لیکن اس کے بدلتے اثرات کے سامنے خود کو بے بس چھوڑ دینا انسانی کوتاہی ہے۔ چھینکیں اور نزلہ زکام محض وقتی عارضے نہیں ہوتے، اگر ان پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ دائمی سائنسائٹس، کان کے درمیانی حصے کے انفیکشن، اور حتیٰ کہ سانس کے مستقل امراض یا دمہ کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے جب موسم اپنا لباس بدل رہا ہو تو انسان کو بھی اپنی عادات، لباس اور خوراک میں تبدیلی لا کر خود کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھال لینا چاہیے، تاکہ بدلتے موسم کی یہ چھب اذیت کے بجائے شادابی اور صحت مندی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکے۔
مزید پڑھیں





