تعمیرِ ملت اور نوجوانوں کی ذہنی توانائیاں، تحریر:ایمن ریاض
نقطہ نظر
”اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد“
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی تاریخ ہمیشہ نوجوانوں کے دم قدم سے رقم ہوئی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی، پائیدار تغیر اور انقلاب کے لیے ہمیشہ نئے نقطہ نظر، مہم جوئی اور جوش و جذبے سے بھرپور نوجوانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم، نوجوانوں کی زندگی کا یہ مرحلہ شدید پیچیدگیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ معاشرے میں اپنا مقام بنانے کی جدوجہد، اپنے تشخص کی تلاش، خود اعتمادی کا حصول، اپنی اہمیت کا احساس اور عزتِ نفس کی حفاظت انہیں مسلسل خلجان اور پریشانیوں میں مبتلا رکھتی ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو سب سے پہلے خود اپنے آپ کو دریافت کرنا اور اپنی صلاحیتوں کا صحیح تعین کرنا ہوتا ہے۔
سابق امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے سچ کہا تھا:
”ہم اپنے نوجوانوں کے لیے مستقبل کی تعمیر تو نہیں کر سکتے، مگر مستقبل کے لیے اپنے نوجوانوں کی تعمیر ضرور کر سکتے ہیں۔“
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اکثر اسی نوجوان نسل کو غیر محسوس انداز میں ذہنی و نفسیاتی مسائل کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ وہ نوجوان جنہوں نے ملک و قوم کا مستقبل سنوارنا ہوتا ہے، نامساعد حالات اور ذہنی دباؤ کے باعث بسا اوقات خودکشی جیسے قبیح فعل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی اداروں اور سکولوں میں ”کونسلنگ و گائیڈنس سینٹرز“ اول تو موجود ہی نہیں ہیں، اور جو اکا دکا قائم ہیں بھی، وہ طلباء کی رہنمائی میں کوئی مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسے ماحول میں ٹین ایجرز شديد ذہنی دباؤ اور ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس خام عمر میں اکثریت کے پاس اپنے مستقبل کے صحیح فیصلوں کی اہلیت یا مناسب رہنمائی نہیں ہوتی۔
سب سے بڑھ کر، ہمارا موجودہ تعلیمی نظام محض کتابی بوجھ لادنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ نظام نوجوانوں کو ملک و قوم کی باعمل ترقی کے قابل بنانے کے بجائے اکثر انہیں نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا کر دیتا ہے—ایسی الجھنیں جو کسی قوم کے لیے باعثِ فخر نہیں بلکہ فکری جمود کا سبب بنتی ہیں۔ ہمارے ہاں نوجوانوں کی اس انداز میں تربیت ہی نہیں کی جاتی کہ وہ خود کو قوم کا اصل اثاثہ اور ترقی کا محرک سمجھ سکیں۔ حالانکہ نوجوانوں کا جذبہ اور ہمت ہی قوموں کی تقدیر بدلتی ہے؛ قیامِ پاکستان کی تاریخ بھی اس بات کی شاہد ہے کہ نوجوان ہی قائدِ اعظم کا دست و بازو بنے تھے۔
آج اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی ذہنی صحت اور فکری توانائیوں کی حفاظت کریں۔ ایک پرسکون اور مثبت ذہن رکھنے والا نوجوان ہی پرسکون معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
تمام تعلیمی اداروں میں فعال اور پیشہ ورانہ گائیڈنس و کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔
والدین بچوں پر کامل اعتماد کریں، ان کے خیالات کو سنیں اور انہیں مثبت و تخلیقی کاموں میں خود کو ثابت کرنے کے مواقع فراہم کریں۔
نوجوان کسی قوم کا حال نہیں، بلکہ اس کے آنے والے کل کی ضمانت ہیں۔ اگر ہم ان کی فکری سمت درست نہ کر سکے اور انہیں ذہنی و نفسیاتی تنہائی سے نہ نکال سکے، تو ہم ایک پوری نسل کی صلاحیتوں سے محروم ہو جائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو محض ڈگریوں کے حصول کے بجائے شخصیت سازی، خودی کی بیداری اور ذہنی بالیدگی کا ذریعہ بنائیں۔ جب ہم اپنے نوجوان کو اعتماد، رہنمائی اور محفوظ ماحول دیں گے، تبھی اقبال کے خوابوں کی تعبیر ممکن ہو سکے گی اور ایک باکردار، خوددار اور ناقابلِ تسخیر قوم جنم لے گی۔
مزید پڑھیں




