دنیا میں آنے کے بعد انسان جس ہستی سے سب سے زیادہ سیکھتا ہے، وہ اس کی ماں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماں کو بہت بڑا رتبہ دیا ہے کہ جنت ہی ماں کے قدموں تلے رکھ دی ہے۔مگر یہ رتبہ صرف اولاد پیدا کرنے سے نہیں مل جاتا، کیونکہ اولادیں پیدا تو جانور اور پرندے بھی کرتے ہیں، رتبے پانے کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ ماں صرف بچے کو جنم دینے والی ہستی نہیں بلکہ اس کی پہلی درس گاہ، پہلی معلمہ اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرنے والی شخصیت بھی ہوتی ہے۔
اولاد کی زندگی میں ماں کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ بچپن سے لے کر شعور کی منزل تک بچے اپنی ماں کو دیکھتے ہیں، اس کے رویّوں سے سیکھتے ہیں اور رفتہ رفتہ اسی کے انداز کو اپنی شخصیت کا حصہ بناتے جاتے ہیں۔ ماں کا رشتہ محبت، اعتماد، اپنائیت اور بے شمار جذبات سے عبارت ہے۔ یہ ایسا انمول بندھن ہے جس کی خوبصورتی کو الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
میری یہ تحریر صرف ماں کے لیے نہیں بلکہ دونوں والدین کے لیے ہے، کیونکہ ہر والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اس انداز میں کریں کہ اس کا کردار دوسروں کے لیے مثال بن جائے اور لوگ بے اختیار کہہ اٹھیں کہ "واقعی کسی نے تربیت کی ہے!"
جتنی اہمیت بچے کی تربیت میں ماں کے کردار کی ہے، اتنی ہی اہمیت باپ کی کمائی گئی روزی کی بھی ہوتی ہے۔ باپ اگر حلال کمائی لائے گا تو بچے میں اس کے مثبت نتائج واضح نظر آئیں گے، کیونکہ حرام کے ٹکڑوں پر صرف جسم پروان چڑھتے ہیں جبکہ حقیقی انسانیت حلال کھانے سے ہی آتی ہے۔ جن کے اندر حرام کا نوالہ جائے، ان کے ضمیر مردہ ہو جاتے ہیں اور ان سے کسی اچھائی کی توقع کرنا ہی بیکار ہے۔
اس لیے والدین اپنی اولاد کو جو سب سے قیمتی تحفہ دے سکتے ہیں، وہ اچھی تربیت ہے۔ دولت، زیورات اور جائیداد وقت کے ساتھ ختم ہو سکتے ہیں، لیکن اچھی تربیت انسان کی شخصیت میں رچ بس جائے تو زندگی کے ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کرتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بچوں کی شخصیت پر والدین کے کردار کا گہرا اثر پڑتا ہے، خصوصاً ابتدائی عمر میں ماں کا طرزِ عمل بچوں کے لیے ایک عملی نمونہ بن جاتا ہے۔ اگر ماں باادب، بااخلاق، سلیقہ مند، نرم گفتار اور ذمہ دار ہوگی تو اس کی اولاد بھی ان خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کرے گی۔ اس کے برعکس اگر ماں اپنی زبان، رویّے اور معاملات میں احتیاط نہیں کرے گی تو اس کے منفی اثرات بھی بچوں کی شخصیت میں نمایاں ہوں گے۔ اسی لیے ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف نصیحتیں نہ کرے بلکہ اپنے عمل سے بھی اچھی مثال پیش کرے۔ بچے وہ نہیں سیکھتے جو انہیں کہا جاتا ہے، بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
بچوں کو بچپن ہی سے چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں سونپنی چاہئیں۔ انہیں اپنے کام خود کرنے، چیزیں ترتیب سے رکھنے، وقت کی پابندی کرنے، بڑوں کا احترام کرنے اور چھوٹوں سے شفقت سے پیش آنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ ان ذمہ داریوں کا مقصد ان پر بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ انہیں خودمختار، ذمہ دار اور سلیقہ مند بنانا ہے۔ جب بچے کو محبت اور اعتماد کے ساتھ کوئی کام سکھایا جاتا ہے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے لگتا ہے۔
بچپن ہی سے نماز، تلاوتِ قرآن مجید اور دینی تعلیم کی طرف رغبت دلانا انتہائی ضروری ہے۔ بچوں کو دین کی تعلیم صرف احکام کی صورت میں نہ دی جائے بلکہ عمل، محبت، حکمت اور اچھے کردار کے ذریعے سمجھایا جائے کہ سچ بولنا، امانت داری، حیا، عدل، احترام اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ایک اچھے مسلمان کی بنیادی صفات ہیں۔
اسلام نے خواتین کے لیے حیا اور پاکیزگی کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ماں اگر اپنی بیٹی کو حیا، پردے اور محرم و نامحرم کے فرق کے بارے میں سمجھاتی ہے تو اسے یہ تعلیم محبت، حکمت اور احترام کے ساتھ دینی چاہیے۔ بیٹی کو بتایا جائے کہ اسلامی تعلیمات میں عورت کی عزت، وقار اور تحفظ کو اہمیت حاصل ہے۔ حضرت فاطمہ زہراؑ کی سیرت بیٹیوں کے لیے حیا، پاکیزگی، عبادت، صبر اور بلند کردار کی بہترین مثال ہے۔
ماں کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو صبر و تحمل، برداشت اور معاملہ فہمی سکھائے۔ زندگی ہمیشہ انسان کی خواہشات کے مطابق نہیں گزرتی،کبھی حالات مشکل ہوتے ہیں، کبھی رشتوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں صبر ضروری ہے، لیکن صبر کا مطلب ظلم برداشت کرنا یا اپنے جائز حقوق سے دست بردار ہو جانا ہرگز نہیں۔جہاں بیٹی کو یہ سمجھانا ماں کی ذمہ داری ہے کہ عزتِ نفس، اپنے حقوق کی پہچان اور ضرورت کے وقت درست فیصلہ کرنا بھی اچھی تربیت کا حصہ ہے۔
وہی بیٹوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ عورت کمزور ہے اللہ نے اس کے ساتھ نرمی کا حکم دیا ہے،اسے اپنے سے حقیر نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عزت دی جائے کیونکہ بچوں پر اپنے والدین کی زندگی کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔والدین جب آپس میں محبت عزت و احترام سے رہتے ہیں تو اولاد بھی عزت و احترام کا ہی سبق سیکھتی ہے۔
آج معاشرے میں ازدواجی زندگی کے حوالے سے جو مسائل سامنے آتے ہیں، ان میں عدم برداشت، باہمی احترام کی کمی اور گفتگو کا فقدان اہم اسباب ہیں۔ ایسے حالات میں ماؤں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہیں اپنی بیٹیوں کو صرف گھر بسانے کی نصیحت نہیں کرنی چاہیے بلکہ رشتوں کو سمجھنے، اختلافات کو گفتگو سے حل کرنے اور مشکل حالات میں دانش مندی سے کام لینے کی تربیت دینی چاہیے۔ بیٹی کو سمجھایا جائے کہ شوہر اور اس کے والدین کے ساتھ احترام سے پیش آنا اور رشتوں کو محبت سے نبھانا ایک اچھی شریکِ حیات کی خوبیاں ہیں، لیکن محبت اور احترام باہمی ہونے چاہئیں۔ کسی بھی رشتے میں اپنی ذات کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا ضروری نہیں، اصل کامیابی توازن اور باہمی احترام میں ہے۔
اسلام بیٹیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ احادیث میں بیٹیوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والوں کے لیے عظیم فضیلت اور بشارت بیان ہوئی ہے۔ بیٹیوں کو محبت دیجیے، ان کی بات سنیے، ان کی صلاحیتوں کو پہچانیے اور انہیں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیجیے۔ انہیں اتنا مضبوط بنائیے کہ وہ اچھے اور برے میں فرق کر سکیں اور زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا سامنا سمجھ داری سے کر سکیں۔
جس طرح بیٹیوں کے لیے
بچپن کی تربیت گیلی مٹی کی مانند ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچے کے ذہن پر جو نقوش ثبت ہوتے ہیں، وہ عمر بھر اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ محبت، شفقت اور اپنی عملی مثال سے تربیت دیں۔ اگر ماں چاہتی ہے کہ اس کی اولاد سچ بولے، احترام کرے اور مشکلات میں ثابت قدم رہے تو اسے خود بھی اپنے رویّے میں ان خوبیوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
یاد رکھیے! اولاد کی تربیت صرف ماں کی نہیں بلکہ والدین دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تاہم ماں کا کردار اس لیے زیادہ ہے کیونکہ باپ حلال روزی کما کر لاتا ہے اور ماں اسے شکر کے ساتھ بچوں تک پہنچاتی ہے اور بچے ماں کے طرزِ عمل کو زیادہ گہرائی سے نوٹ کرتے ہیں۔ ایک اچھی ماں وہ ہے جو اولاد کو اپنے اچھے عمل سے پروان چڑھائے اور انہیں اندر سے مضبوط، باکردار، تعلیم یافتہ اور بااخلاق انسان بنائے۔
والدین کو اپنی اولاد کے لیے ایسی مثال بننا چاہیے جسے دیکھ کر وہ اچھائی اپنانا سیکھیں۔ کیونکہ اولاد کی کامیابی صرف اس کے اچھے لباس، تعلیم یا ظاہری سلیقے میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، اخلاق، شعور اور انسانیت میں پوشیدہ ہے۔
اولاد سیکھتی ہے ماں باپ سے
تربیت ظاہر ہوتی ہے کردار سے
مزید پڑھیں






