پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا میں دفاعی صنعتی تعاون کی مفاہمت پر کل دستخط کا امکان

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیاء کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر بدھ 21 اکتوبر کو دستخط متوقع ہیں۔ ترک خبر رساں ادارے اناطولو کے مطابق وزیر دفاع یشار گولر اس سلسلے میں قطر کا دورہ کریں گے، اناطولو نے حکام سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر بتایا کہ ترک وزیر دفاع کی منگل کی دوپہر قطر روانگی طے ہے، مجوزہ مفاہمت چاروں ممالک کے درمیان دفاعی صنعتی تعاون سے متعلق ہے، تاہم تاحال اس کی تفصیلی شرائط، مخصوص منصوبوں یا مالی حجم کا ذکر نہیں کیا گیا۔
قطر کا مقامی دفاعی پیداوار بڑھانے کا منصوبہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب قطر مقامی سطح پر دفاعی پیداوار کی صلاحیت بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے، قطر کے نائب وزیراعظم اور دفاعی امور کے وزیر مملکت شیخ سعود بن عبدالرحمان آل ثانی نے پیر 19 اکتوبر کو دوحہ میں عالمی سلامتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دفاعی پیداوار کے ایک مرکز کا جلد اعلان کیا جائے گا، اس سلسلے میں ایک علاقائی شراکت دار کے ساتھ ساتھ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کوششوں میں مقامی دفاعی پیداواری صلاحیت کی ترقی اور دفاعی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینا بھی شامل ہے، انہوں نے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے نئی شراکت داری کا بھی عندیہ دیا، تاہم اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں، ان اعلانات کو چار ملکی مفاہمتی یادداشت کی حتمی شرائط کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے۔
ترکیہ اور قطر کے درمیان سابقہ دفاعی تعاون ترکیہ اور قطر اس سے پہلے بھی دفاعی صنعت میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرچکے ہیں، قطری ایوان امیری کے مطابق 22 اکتوبر 2025ء کو دوحہ میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی موجودگی میں قطر کی وزارت دفاع اور ترکیہ کے دفاعی صنعت کے ادارے کے درمیان یہ دستاویز طے پائی تھی۔
دوحہ میں جاری عالمی سلامتی فورم کا موضوع اتحادوں کا مستقبل ہے، قطر کے سرکاری مواصلاتی دفتر نے بتایا کہ تین روزہ فورم کا افتتاح 19 اکتوبر کو ہوا اور اس میں 100 سے زیادہ ممالک کے اعلیٰ حکام اور شخصیات شریک ہیں، فورم میں اجتماعی سلامتی، ابھرتے خطرات اور بین الاقوامی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں





