منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وسیم عباس کا لہو، انسانیت کے ضمیر پر ایک سوال،تحریر: شبنم مرزا، لاہور

نقطہ نظر

کچھ سانحات صرف ایک گھر کا چراغ نہیں بجھاتے، وہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ کچھ اموات محض ایک انسان کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے پیچھے ایسے سوال چھوڑ جاتی ہیں جن کا جواب دیتے ہوئے انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔ ملتان کی رائل آرچرڈ سوسائٹی میں پندرہ سالہ مزدور وسیم عباس کے ساتھ پیش آنے والا المناک واقعہ بھی ایک ایسا ہی دل خراش سانحہ ہے، جس نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں غریب کی زندگی کی کوئی قیمت باقی نہیں رہی؟


اطلاعات کے مطابق، پندرہ سالہ وسیم عباس محنت مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا سہارا بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کی عمر وہ تھی جب بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں، آنکھوں میں خواب اور دل میں مستقبل کی امیدیں ہونی چاہییں، مگر غربت نے اسے کم عمری ہی میں محنت کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ وہ اپنے حالات سے لڑتے ہوئے شاید اس امید کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا کہ ایک دن اس کی محنت اس کے گھر والوں کے دکھ کم کر دے گی۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جس عمر میں اسے زندگی کے خواب دیکھنے تھے، اسی عمر میں اس کی زندگی کا چراغ بجھ جائے گا۔


رائل آرچرڈ ملتان میں پیش آنے والے واقعے کے مطابق، گھر کے مالک نے وسیم عباس کو گھر جانے سے روکنے پر مبینہ طور پر اپنی تیز رفتار گاڑی تلے روند دیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مزدور موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کی ویڈیو بھی سامنے آچکی ہے اور پولیس نے ملزم توقیر کو گرفتار کرلیا ہے۔


لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایک پندرہ سالہ بچے کی جان اتنی ارزاں کیسے ہوگئی؟ کیا کسی شخص کی سماجی حیثیت، دولت، اختیار یا گاڑی کی طاقت اسے یہ حق دے سکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان کی زندگی کو اپنی مرضی کے تابع سمجھنے لگے؟ کیا غریب کے پاس عزتِ نفس، جذبات اور زندگی کا حق نہیں ہوتا؟ کیا مزدور کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ غریب گھر میں پیدا ہوا اور اپنی روزی کمانے کے لیے کسی صاحبِ حیثیت شخص کے دروازے پر کام کرنے پہنچ گیا؟


اس سانحے کا سب سے کرب ناک پہلو وسیم کے گھر والوں کا دکھ ہے۔ ایک گھر سے صرف ایک نوجوان نہیں اٹھا، بلکہ ایک خاندان کا سہارا چھن گیا۔ باپ کے بعد بھائی نے جس طرح خاندان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائی ہوگی، اس کی پوری گہرائی شاید وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے زندگی کو غربت اور محرومی کے اندھیروں میں گزارا ہو۔


وسیم کی چھوٹی بہن کے نم آنکھوں سے نکلنے والے یہ الفاظ دل کو چیر دیتے ہیں: ’باپ کے بعد بھائی ہی ہمارا سہارا تھا!


یہ ایک جملہ نہیں، ایک یتیم گھرانے کی پوری داستان ہے۔ اس میں بے بسی بھی ہے، محرومی بھی، مستقبل کا خوف بھی اور اس بھائی کی جدائی کا ایسا درد بھی جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔


ذرا تصور کیجیے، ایک بہن جس نے اپنے بھائی میں باپ کا سایہ دیکھا ہو، جس کے لیے بھائی کی موجودگی تحفظ، محبت اور آس کی علامت ہو، جب اسے معلوم ہو کہ اب وہ کبھی گھر واپس نہیں آئے گا تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ وہ کس سے اپنے دکھ کہے گی؟ عید کے دن کس کے انتظار میں دروازے کی طرف دیکھے گی؟ زندگی کی مشکلات میں کس سے سہارا مانگے گی؟


وسیم کی موت کے بعد اس کے گھر میں صرف ایک فرد کی کمی نہیں ہوئی، بلکہ ان خوابوں کا بھی جنازہ اٹھا ہے جو اس خاندان نے اپنے بھائی اور بیٹے کے ساتھ وابستہ کر رکھے تھے۔


اس واقعے کے بعد ایک اور منظر سامنے آیا جس نے انسانی جذبات، سماجی یکجہتی اور انصاف کی تڑپ کو نمایاں کیا۔ بلوچ قوم سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ بلال شہباز خان اس سانحے پر شدید رنج و غصے کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ اطلاعات کے مطابق، جب ملزم کو عدالت میں پیشی کے موقع پر باہر لایا گیا تو بلال شہباز خان نے اسے تھپڑ مار دیا اور اپنے غصے کا اظہار کیا۔


یہ ردعمل ایک ایسے واقعے پر شدید عوامی غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے جس نے لوگوں کے دلوں کو زخمی کر دیا ہے۔ ایک وکیل، جو قانون کی بالادستی اور انصاف کے تقاضوں سے واقف ہے، جب ایک کم عمر مزدور کے ساتھ پیش آنے والے سانحے پر اس قدر جذباتی ہو جائے تو اس سے معاشرے میں پائے جانے والے دکھ اور اضطراب کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔


یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ بلال شہباز خان کا تعلق بلوچ قوم سے ہے، جبکہ وسیم عباس ایک پنجابی بچہ تھا۔ لیکن وسیم کا درد کسی ایک قوم، زبان یا علاقے تک محدود نہیں رہا۔ اس کی موت پر اٹھنے والی آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ مظلوم کا دکھ قومیت نہیں دیکھتا، آنسوؤں کا کوئی لسانی تعارف نہیں ہوتا اور ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی آواز کسی ایک شناخت کی محتاج نہیں ہوتی۔


بلوچ ہو یا پنجابی، سندھی ہو یا پختون، ہم سب کی بنیادی شناخت انسان ہونا ہے۔ جب ایک بلوچ وکیل ایک پنجابی بچے کے لیے بے چین ہوتا ہے تو یہ ہمارے معاشرے کے لیے امید کی کرن ہے کہ نفرتوں اور تقسیم کی فضا میں بھی انسانی رشتے زندہ ہیں۔


تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ غم و غصے کو قانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے انصاف کی جدوجہد کی جائے۔ عدالت میں کسی ملزم پر ہاتھ اٹھانا قانون کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم واقعی وسیم کے لیے انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا نظام مضبوط کرنا ہوگا جہاں کسی بے گناہ کے خون کا حساب جذباتی ردعمل کے بجائے شفاف تحقیقات، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق فیصلے سے لیا جائے۔

اس سانحے میں امید کا ایک روشن پہلو ایڈووکیٹ مہر فخر حیات ہراج کی صورت میں سامنے آیا ہے، جنہوں نے وسیم عباس کے مقدمے کی پیروی کا بیڑا اٹھایا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، انہوں نے مقدمہ درج کروانے میں کردار ادا کیا، موقع پر موجود رہ کر قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کی کوششیں کیں اور اس کیس کی پیروی بغیر کسی معاوضے کے کرنے کا فیصلہ کیا۔


یہ وہ مقام ہے جہاں وکالت محض ایک پیشہ نہیں رہتی، بلکہ مظلوم کی آواز بننے اور معاشرتی ذمہ داری نبھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ جب ایک وکیل کسی بے سہارا خاندان کے لیے بلا معاوضہ کھڑا ہوتا ہے تو وہ صرف ایک مقدمہ نہیں لڑتا، بلکہ اس یقین کو زندہ کرتا ہے کہ انصاف کی راہ میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔


ملتان کے متعدد وکلا کی جانب سے بھی اپنی خدمات پیش کیے جانے کی اطلاعات حوصلہ افزا ہیں۔ مقامی لوگوں نے ان وکلا کے جذبے کو سراہا ہے۔ ایڈووکیٹ مہر فخر حیات ہراج اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے وکلا کا عزم ہے کہ وہ وسیم کے لیے انصاف کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور ملزم کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کی کوشش کریں گے۔


یہی وہ کردار ہیں جو معاشرے میں امید پیدا کرتے ہیں۔ غریب اور بے سہارا خاندان اکثر انصاف کے حصول میں مالی مشکلات، قانونی پیچیدگیوں اور سماجی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر اہلِ قانون ان کا ہاتھ تھام لیں تو انصاف کی راہ کچھ آسان ہوسکتی ہے۔


کیا غریب کے بچے کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں؟


وسیم عباس کا سانحہ ہم سب کے سامنے کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔ کیا کم عمر بچوں سے محنت مزدوری کروانے کے پس منظر میں موجود معاشی مجبوریوں کو دور کرنے کے لیے ہم سنجیدہ ہیں؟ کیا گھریلو ملازمین اور مزدوروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جارہے ہیں؟ کیا کسی صاحبِ اختیار کے خلاف کارروائی کرتے وقت بھی قانون وہی معیار اپناتا ہے جو ایک عام شہری کے لیے مقرر ہے؟


ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے بلند و بالا مکانات، وسیع سڑکوں اور چمکتی ہوئی گاڑیوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں کمزور ترین انسان کتنا محفوظ ہے۔ اگر ایک غریب بچہ اپنی محنت کے عوض عزت اور تحفظ حاصل نہ کرسکے تو پھر معاشرتی ترقی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔


یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ گھریلو ملازمین اور مزدور بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کے بھی گھر ہیں، مائیں ہیں، بہنیں ہیں، خواب ہیں اور زندگی سے وابستہ امیدیں ہیں۔ کسی شخص کی مالی حیثیت اسے دوسرے انسان کی تذلیل کرنے یا اس کی زندگی سے کھیلنے کا اختیار نہیں دیتی۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں، سامنے آنے والی ویڈیو اور دیگر شواہد کا قانونی جائزہ لیا جائے، گواہوں کے بیانات کی روشنی میں حقائق سامنے لائے جائیں اور مقدمے کو میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ملزم کے خلاف فیصلہ جذبات یا عوامی دباؤ کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قانون اور ثابت شدہ حقائق کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسی طرح متاثرہ خاندان کو قانونی معاونت اور مناسب تحفظ فراہم کیا جانا بھی ضروری ہے۔


وسیم واپس نہیں آئے گا، مگر انصاف کی مثال قائم ہوسکتی ہے


وسیم عباس اب اپنے گھر واپس نہیں آئے گا۔ اس کی چھوٹی بہن کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسو شاید برسوں اس کی یاد تازہ کرتے رہیں گے۔ اس کے گھر والوں کے لیے ہر گزرتا دن ایک ایسے خلا کا احساس لے کر آئے گا جسے کوئی دولت، کوئی تسلی اور کوئی وعدہ پُر نہیں کرسکتا۔


لیکن اس سانحے کو محض ایک خبر بن کر فراموش نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اس مقدمے میں شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے، اگر مزدوروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں اور اگر معاشرے میں کمزور انسان کی عزت و جان کی اہمیت تسلیم کی جاتی ہے تو شاید وسیم کی المناک موت ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکے۔


بلال شہباز خان کا غم، مہر فخر حیات ہراج کی قانونی جدوجہد اور دوسرے وکلا کی جانب سے تعاون کی پیشکش ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگ آج بھی موجود ہیں۔ اب اس آواز کو ایک مضبوط، منصفانہ اور قانونی جدوجہد میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔


ریاست کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ وہ طاقت ور کو کتنا اختیار دیتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کمزور کو کتنا تحفظ فراہم کرتی ہے۔


وسیم عباس کے لیے انصاف محض ایک خاندان کا مطالبہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ آج سوال صرف یہ نہیں کہ وسیم کے ساتھ کیا ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اس سانحے کے بعد کیا کرتے ہیں۔


کیا ہم چند دن افسوس کرکے آگے بڑھ جائیں گے، یا اس بچے کے خون کو ایک ایسے معاشرے کی بنیاد بنانے کی کوشش کریں گے جہاں کسی غریب کی زندگی کو بے وقعت نہ سمجھا جائے؟


یاد رکھیے، جب انصاف کمزور کے دروازے تک نہیں پہنچتا تو معاشرے کے مضبوط ترین دروازے بھی تحفظ کی ضمانت نہیں رہتے۔


وسیم عباس کے گھر میں اب ایک بھائی کی جگہ خالی ہے، ایک بہن کی امید ٹوٹ چکی ہے اور ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہے۔ اس خاندان کو محض تعزیت نہیں، انصاف چاہیے؛ محض ہمدردی نہیں، عملی مدد چاہیے؛ اور ایسے فیصلے کی امید ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ اس ملک میں غریب کے بچے کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی صاحبِ حیثیت انسان کی۔

وسیم کے لیے انصاف ہونا چاہیے، کیونکہ کسی بھی معاشرے کی انسانیت کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب مظلوم کمزور ہو اور اس کے مقابل کھڑا شخص طاقت ور۔