منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

​ تہذیب کا جنازہ اور ضمیر کا سوال،تحریر: بشریٰ سلیم

نقطہ نظر

​آج کا انسان بظاہر تو اشرف المخلوقات کہلاتا ہے، مگر اس کے کردار اور روزمرہ کے اعمال نے حیوانیت کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انسانیت دم توڑ چکی ہے، اور لالچ، ہوس، نفرت، تعصب اور خود غرضی کی دہکتی ہوئی آگ میں جلتا ہوا یہ انسان حیوان سے بھی بدتر اور خوفناک روپ اختیار کر چکا ہے۔

​یہ وسیم عباس کا دردناک المیہ ہو یا کسی اور معصوم کی بے گناہ موت، یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک بہت بڑا اور تازیانہ نما سوال ہے!

​محنت مزدوری کرکے اپنے غریب گھر والوں کا سہارا بننے والا وہ معصوم بچہ، جس کی عمر کے ابھی ان ایام میں ہاتھوں میں کتابیں، قلم اور تختی اٹھانے کے دن تھے، اور جس کی معصوم آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب سجے ہوئے تھے، وہ اس امید پر کڑی دھوپ اور سخت حالات میں زندگی گزار رہا ہو گا کہ آنے والا کل اس کی اور اس کے خاندان کی تمام تلخیوں کو مٹا دے گا۔ وہ سوچتا ہوگا کہ اس کی محنت ایک دن رنگ لائے گی اور اس کا بچپن یوں ضائع نہیں جائے گا۔

​مگر ہم بے حس، خود غرض اور مادیت پرست لوگوں نے اس معصوم کے ساتھ کیا کیا؟ ہم سب سوشل میڈیا پر غم کا اظہار کر سکتے ہیں، اخبارات کی سرخیوں پر لرزہ خیز حالات دیکھ کر افسوس کے چند جملے ادا کر سکتے ہیں اور احتجاجی نعرے لگا سکتے ہیں، مگر کیا ہم اپنے الفاظ اور کھوکھلی ہمدردی سے وسیم کو زندگی جیسی عظیم اور انمول نعمت دوبارہ لوٹا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں!

​کیا اس دنیا، اس معاشرے اور اس جدید دور میں صرف روپیہ، پیسہ، اقتدار، شاندار بنگلے اور بڑی گاڑیاں ہی سب کچھ ہیں؟ کیا کامیابی کا معیار صرف مادیت اور عہدہ ہی رہ گیا ہے؟

​اگر واقعی ایسا ہی ہے تو پھر وہ معصوم مسکراہٹیں کہاں گئیں؟ وہ پاکیزہ اور شفاف خواب کہاں چلے گئے؟ اور وہ انسانیت کی اعلیٰ اخلاقی قدریں کہاں دفن ہو گئیں جن سے کسی بھی زندہ اور بیدار معاشرے کو حقیقی زندگی اور جلا ملتی ہے؟

​ہم نے مادیت، ظاہری طاقت، اقتدار کی ہوس اور دکھاوے کو کامیابی کا واحد معیار بنا کر اپنی روح کو بالکل مردہ کر دیا ہے۔ جن معصوم ہاتھوں کو سنہرے مستقبل کی لکیریں تراشنی تھیں، ہم نے اپنے زوال پذیر معاشرتی نظام اور درندگی سے ان کا کل، ان کا بچپن اور ان کی سانسیں تک چھین لیں۔ اگر ہماری ترجیحات میں صرف پیسہ، ذاتی مفاد اور اقتدار کی بھوک ہی مقدم رہے گی، تو پھر ضمیر کا جنازہ یوں ہی گلی محلوں میں نکلتا رہے گا اور انسانیت ایک بے حس، لاوارث لاش کی طرح سسک سسک کر دم توڑتی رہے گی۔

​معاشرے کا یہ اخلاقی زوال اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی تمام تر اعلیٰ اقدار کھو چکے ہیں۔ جب تک ہم ظالم کے ہاتھ نہیں پکڑیں گے اور مظلوم کے ساتھ سچے دل اور جرأت سے کھڑے نہیں ہوں گے، اس وقت تک نہ تو ہمارے گھر محفوظ رہیں گے، نہ ہمارے محلے اور نہ ہی ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل۔ ایک معصوم کا قتل دراصل پورے انسانی معاشرے کی اجتماعی موت کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

​میں اپنے دلی دکھ، شدید کرب اور قلبی بے چینی کے ساتھ وسیم عباس کے اس لرزہ خیز، دردناک اور بربرانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ یہ محض ایک انفرادی جرم نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔

​میری اعلیٰ حکام سے، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اور عدلیہ سے پرزور خواہش اور پرزور مطالبہ ہے کہ اس معصوم کے قاتل کو سرِ عام پھانسی کی سزا دی جائے، تاکہ معاشرے میں ایک عبرت ناک نشان قائم ہو سکے! تاکہ آئندہ کسی اور معصوم کا بچپن، اس کے پاکیزہ خواب اور اس کی زندگی یوں کسی درندے کی ہوس اور درندگی کی بھینٹ نہ چڑھ سکے۔

​اگر آج بھی ہم نے خاموشی اختیار کی اور مجرموں کو ان کے عبرتناک انجام تک نہ پہنچایا، تو یاد رکھیے کہ کل کو اگلا نمبر کسی اور معصوم کا ہوگا، اور تاریخ ہمیں اس خاموشی، غفلت اور بے حسی کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں اپنے بچوں کو بچانا ہوگا، ہمیں اس بیدار معاشرے کی تعمیر اور بہتری کے لیے عملی کام کرنا ہوگا۔ اب ہمیں مزید بے حسی کا مظاہرہ ہرگز نہیں کرنا