منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

یہاں غلطی بھی حیثیت دیکھ کر تولی جاتی ، تحریر:ام عبد القہار

نقطہ نظر

کسی دفتر کا منظر ذہن میں لائیے۔ ایک ملازم چند منٹ دیر سے پہنچتا ہے تو اس کی غیر ذمہ داری پر گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ اسی جگہ کسی بااثر شخص کی تاخیر کو مصروفیت سمجھ کر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ ایک کی مجبوری بہانہ کہلاتی ہے، دوسرے کا بہانہ بھی قابلِ قبول ہوتا ہے۔ واقعہ چھوٹا ہے، مگر اس میں ہمارے رویے کی ایک تلخ حقیقت چھپی ہے: ہم اکثر غلطی کا فیصلہ کرنے سے پہلے غلطی کرنے والے کی حیثیت دیکھتے ہیں۔

یہ رویہ دفتر کی چار دیواری تک محدود نہیں۔ بعض گھروں میں بہو کی تھکن بدتمیزی بن جاتی ہے، مگر بیٹی کی تلخ کلامی طبیعت کی خرابی قرار پاتی ہے۔ کسی بچے کی شرارت کو اس کے والدین کی تربیت سے جوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ عزیز بچے کی وہی حرکت پُراعتماد شخصیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے لفظ بھی رشتہ داری نبھاتے ہیں۔ جسے بچانا ہو، اس کے لیے وضاحتیں حاضر؛ جسے دبانا ہو، اس کے خلاف معمولی بات بھی کافی۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میں صرف وسائل کی تقسیم غیر مساوی نہیں، غلطی کی گنجائش بھی غیر مساوی ہے۔ کسی کو ایک موقع بھی مشکل سے ملتا ہے اور کسی کے لیے مواقع کا دروازہ بارہا کھلتا رہتا ہے۔ ایک شخص ٹھوکر کھائے تو اسے ناقابلِ اعتبار قرار دے دیا جاتا ہے؛ دوسرا مسلسل نقصان پہنچائے، تب بھی اسے سمجھنے، سنبھلنے اور بدلنے کے لیے وقت دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اصلاح کی یہ مہلت سب کے حصے میں کیوں نہیں آتی؟

اس ناانصافی کی ایک صورت مالی حیثیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ کم آمدن والے شخص کی احتیاط بخل، اس کی خاموشی کم فہمی اور اس کی سادگی بے سلیقگی سمجھی جاسکتی ہے۔ صاحبِ حیثیت یہی رویے اختیار کرے تو کفایت شعاری، سنجیدگی اور انکسار کے عنوان مل جاتے ہیں۔ لباس، لہجے اور تعارف کے بعد رائے بدلنے لگتی ہے۔ یوں انسان اپنی بات کے وزن سے پہلے اپنے تعارف کا وزن ثابت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بات وہی رہتی ہے، ہماری سماعت بدل جاتی ہے۔

اس رویے کا سب سے گہرا زخم وہاں لگتا ہے جہاں کمزور شخص شکایت لے کر پہنچتا ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس نے جواب کیوں دیا، خاموش کیوں نہ رہا، بات کو بڑھایا کیوں۔ بااثر فرد کے غصے کے لیے کام کا دباؤ، ذمہ داریوں کی کثرت اور مزاج کی شدت جیسے جواز موجود ہوتے ہیں۔ شکایت کرنے والا اپنا دکھ بیان کرتے کرتے خود صفائی دینے لگتا ہے۔ پھر ایک دن وہ بولنا چھوڑ دیتا ہے، اور اس کی خاموشی کو معاملہ ٹھیک ہوجانے کی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔

ایک بات سمجھنی چاہیے۔ کسی کی محرومی اسے ہر معاملے میں درست نہیں بناتی، اور کسی کی خوش حالی اسے لازماً ظالم نہیں بناتی۔ مسئلہ کسی طبقے سے نفرت پیدا کرنا نہیں، فیصلے کے معیار کو پہچاننا ہے۔ غلطی جس سے بھی ہو، اس کا جائزہ واقعے، دلیل اور نقصان کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ کسی کے تعلقات اسے جواب دہی سے آزاد نہ کریں، اور کسی کی بے بسی اس کے خلاف اضافی الزام نہ بن جائے۔ یہی انصاف کا ابتدائی تقاضا ہے۔

لیکن ہم اس تقاضے سے اس وقت پیچھے ہٹنے لگتے ہیں جب انصاف کی قیمت ہماری اپنی سہولت سے وصول ہونے لگے۔ اپنے قریبی کی غلطی ماننے سے تعلق خراب ہونے کا اندیشہ ہو، کسی بڑے سے سوال کرنے پر فائدہ چھننے کا خوف ہو، تو اصول آہستہ آہستہ نرم ہونے لگتے ہیں۔ پھر ہم خود کو سمجھاتے ہیں کہ مصلحت اسی میں ہے۔ بعض اوقات یہی مصلحت کسی دوسرے کے لیے مسلسل تکلیف بن جاتی ہے۔ ہماری خاموشی کا بوجھ کوئی اور اٹھاتا رہتا ہے۔

اس صورتِ حال کو بدلنے کا آغاز بڑی تقریروں سے پہلے چھوٹے فیصلوں سے ہوگا۔ گھر میں دو افراد کی بات یکساں توجہ سے سننا، ملازم کی وضاحت مکمل ہونے دینا، شاگرد کو اپنی بات کہنے کا موقع دینا اور کسی شکایت کو محض شکایت کرنے والے کی حیثیت دیکھ کر رد نہ کرنا، معمولی اقدامات نہیں۔ یہ انسان کی عزت بحال کرنے کے طریقے ہیں۔ اپنے عزیز سے یہ کہنا کہ اس معاملے میں تمہارا رویہ درست نہیں تھا، تعلق سے بے وفائی نہیں، اس کی اصلاح کی کوشش ہے۔

دنیا کی تلخی صرف یہ نہیں کہ یہاں ناانصافی ہوتی ہے؛ تلخی یہ بھی ہے کہ کبھی اسے اچھے لفظوں میں قابلِ قبول بنا دیا جاتا ہے۔ ہم دوسروں سے انصاف چاہتے ہیں، مگر اپنے اختیار کے دائرے میں استثنا بانٹتے رہتے ہیں۔ اس لیے دنیا کو بدلنے کی خواہش کے ساتھ ایک سوال اپنے لیے بھی رکھنا ہوگا: میرے سامنے یہی غلطی کوئی کمزور شخص کرتا تو میرا فیصلہ کیا ہوتا؟ جس دن دونوں فیصلے ایک جیسے ہوگئے، اس دن انصاف ہماری زبان سے اتر کر ہمارے کردار میں داخل ہوجائے گا۔