وزیراعظم کی اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں اصلاحات فوری نافذ کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہبازشریف نے اسلام آباد کے سرکاری اسکولوں میں انفراسٹرکچر اور نصاب سمیت تمام اصلاحات فوری نافذ کرنے کی ہدایت کردی اور طلباء و طالبات کو مفت لنچ دینے اور سرکاری اسکول بسوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا حکم دے دیا۔ وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد کے سرکاری سکول اصلاحات پر اجلاس ہوا جس دوران شہبازشریف نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو فعال ادارہ بنانے کیلئے حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں انفراسٹرکچر کے تمام مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جائیں، طلباء و طالبات کو سکولوں میں محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے طلباء و طالبات کی غذائی نشونما یقینی بنانے کیلئے مفت لنچ دینے ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی کو سرکاری سکولوں کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کی ہدایت کر دی۔
ان کا کہناتھا کہ اسلام آباد کے تمام سکولوں میں اسمارٹ بورڈز جلد نصب کیے جائیں،سرکاری اساتذہ تعلیم و تدریس کے علاوہ کسی اور سرگرمی میں حصہ نہ لیں گے۔ شہبازشریف نے سرکاری سکول بسوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے ، سکول بسوں کی آوٹ سورسنگ اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی بھی ہدایت کی۔
شہبازشریف کا کہناتھا کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں جبکہ سرکاری سکولوں میں سولرائزیشن کے فروغ کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی طلباء و طالبات کے لیے تمام سرکاری سکولوں میں ریمپ بنائے جائیں،سرکاری اسکولوں میں بہترین طبی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔
اجلاس میں سرکاری سکولوں میں نصاب، انفراسٹرکچر اور دیگر امور کی سروے رپورٹ پیش کی گئی ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد کے اسکولوں کا سروے ستمبر 2026 میں کیا گیا، زیادہ سکولوں میں انٹرنیٹ،پینے کا پانی،کمپیوٹر لیب اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔
اجلاس میں سروے میں شامل کچھ سکولوں کے انفراسٹرکچر کے مسائل کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ، بتایا گیا کہ سرکاری سکولوں میں ہیڈ ٹیچرز کو بااختیار اور جدت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،پورے اسلام آباد میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کے لیے 278 بسیں ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، خالد مقبول صدیقی ، وزیرمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے۔
مزید پڑھیں




