جمعرات، 5 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وزیراعظم کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت

PM-Shehbaz-Sharif

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت برآمدات کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔


اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار علی بھٹی، چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تجارت جاوید حنیف خان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔


وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ سکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی،انہوں نے ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کو طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کی جائے۔



وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کی ترقی، استعداد کار میں اضافے، مہارتوں کی بہتری اور کاروبار کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن معاونت اور سرپرستی فراہم کرے گی ۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ایکریڈیٹیشن کے معیار، لیبارٹریز کی توسیع اور ضابطہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم نے دہلیز پر سہولیات کے لیے جدید لیبارٹریز قائم کرنے کی ہدایت کی۔


اجلاس کے دوران ایس ایم ای نمائندوں کے ساتھ حالیہ مشاورتی نشستوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جس میں ٹیکسوں، ریفنڈز، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق مسائل زیرِ بحث آئے۔ پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریباً 17 ہزار ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے یکم نومبر سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کے پورٹل کے اجرا کے بعد سے اب تک 10,000 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

سکیم میں ایس ایم ای سیکٹر اور نئے ایکسپورٹرز کے لیے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق طویل مدتی ترقیاتی فائنانسنگ فیسلٹی (LTGFF) کے لیے رواں سال 350 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ افریقی ممالک کو پاکستانی برآمدات بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔