صدر پاکستان کی سانحہ پمز میں بچے کو بچانے والی نرس کیلئے تمغہ شجاعت کی منظوری

صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی اسٹاف نرس رضیہ نورین کو تمغہ شجاعت دینے کی منظوری دے دی ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق رضیہ نورین نے پمز میں آتشزدگی کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر واحد زندہ بچنے والے نومولود کو بحفاظت نرسری سے باہر نکالا تھا۔ پمز اسپتال کی نرسری 26 اگست کو آتشزدگی کی لپیٹ میں آئی تھی اور آگ لگنے کے وقت وہاں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کی جان بچائی جا سکی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم حکومتی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ غالباً ایئرکنڈیشنر نمبر 2 کی برقی سپلائی کیبل میں خرابی کے باعث لگی۔ رپورٹ کے مطابق اسپتال کے ناقص نظام اور ادارہ جاتی ناکامیوں نے اس واقعے کو بڑے سانحے میں تبدیل کردیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسٹاف نرس رضیہ نورین کو آگ کے شعلے بھڑکنے کے دوران نرسری میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ چند سیکنڈ بعد ایک نومولود کو اٹھا کر بحفاظت باہر نکل آئیں۔ رضیہ نورین نے کچھ دیر بعد دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی، تاہم اس وقت تک آگ مزید پھیل چکی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی رواں ماہ رضیہ نورین کی بہادری، ہمت اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک دیا تھا اور 23 مارچ کو تمغۂ خدمت دینے کا اعلان کیا تھا۔ رضیہ نورین سے ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ قوم ان کی ہمت اور جذبے کی معترف ہے۔ وزیراعظم کے مطابق مشکل اور خطرناک حالات میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر نومولود کی زندگی بچانا ایک عظیم عمل ہے۔ اس موقع پر رضیہ نورین نے کہا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کررہی تھیں، کیونکہ اس وقت لوگوں نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ 10 ستمبر کو ایک چینی کمپنی کی چیئرپرسن یان جن نے بھی رضیہ نورین کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کا چیک دیا تھا۔ اس موقع پر یان جن نے کہا تھا کہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے، جبکہ رضیہ نورین نے مشکل اور خطرناک صورتحال میں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نومولود کی جان بچائی۔
مزید پڑھیں





