پاکستان، ترکیہ کا اے آئی شعبے میں تعاون مزید وسیع، پنجاب یونیورسٹی، ٹیکا اور یلدز یونیورسٹی میں معاہدہ

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ترکیہ کی ٹیکا، پنجاب یونیورسٹی اور یلدز ٹیکنیکل یونیورسٹی کے درمیان اہم معاہدہ طے پا گیا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے دورے پر آئے ترکیہ کے اعلیٰ تعلیمی وفد کے دورے کے دوران کیا گیا۔ وفد کی قیادت ترکیہ کی کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ای رول اوزوار نے کی، جبکہ پاکستان میں ترکیہ کے ایجوکیشن قونصلر مہمت توئران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ معاہدے پر یلدز ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایوب دیبک، پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود سلیم اور ٹیکا پاکستان کی کنٹری کوآرڈینیٹر صالحہ تونا نے دستخط کیے۔ اس تعاون کا اہم مرکز پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینئرنگ میں ٹیکا کے تعاون سے قائم کی جانے والی انسانی مرکز مصنوعی ذہانت کی جدید لیبارٹری ہوگی۔ جدید کمپیوٹنگ اور سرور انفراسٹرکچر سے لیس اس لیبارٹری کو پاکستان اور ترکیہ کے محققین، اساتذہ اور طلبہ کے لیے مشترکہ تحقیق اور علمی سرگرمیوں کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت یلدز ٹیکنیکل یونیورسٹی پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ انسانی مرکز مصنوعی ذہانت سے متعلق تعلیمی مواد، تحقیقی وسائل اور تدریسی تجربات کا تبادلہ کرے گی۔ اس کے علاوہ اے آئی سے متعلقہ کورسز پڑھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کی تیاری اور تربیت میں بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت دونوں جامعات مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے اور پوسٹ گریجویٹ تحقیق کے مواقع بھی بڑھائیں گی۔ اس تعاون کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دونوں ممالک کے تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ اگلے پانچ برسوں کے لیے تعاون کے واضح اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں دس سے زائد مشترکہ تحقیقی مقالوں کی اشاعت، کم از کم پانچ بیرونی مالی معاونت حاصل کرنے والے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی تکمیل اور بیس سے زائد ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالوں کی معاونت شامل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں قائم کی جانے والی جدید اے آئی لیبارٹری کا باضابطہ افتتاح جلد متوقع ہے۔ لیبارٹری کے افتتاح کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مشترکہ تحقیق، تدریسی تعاون اور تربیتی سرگرمیوں کا عملی آغاز مزید منظم انداز میں ہوگا۔





