قلم کی طاقت اور معاشرتی شعور،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
رات کے پچھلے پہر شہر سو رہا تھا۔ گلیوں میں خاموشی تھی، کہیں کہیں کسی آوارہ کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دیتی تھی اور دور کسی چائے خانے سے برتن رکھنے کی مدھم سی جھنکار آ رہی تھی۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک چراغ جل رہا تھا۔ چراغ کے سامنے ایک بوڑھا قلم رکھا تھا۔ اس کے پاس کاغذوں کا ڈھیر تھا اور قلم کی نوک پر جیسے کئی سوال ٹھہرے ہوئے تھے۔ اچانک قلم نے کاغذ سے کہا، "میں اتنا سا ہوں مگر لوگ مجھ سے کیوں ڈرتے ہیں؟" کاغذ مسکرایا، "کیونکہ تم سچ لکھ دو تو خاموش دیواروں میں بھی دراڑ پڑ جاتی ہے۔"
یہ مکالمہ محض ایک تخیل نہیں، ہمارے معاشرے کی ایک گہری حقیقت ہے۔ قلم بظاہر چند قطروں کی روشنائی سے زیادہ کچھ نہیں مگر یہی روشنائی کبھی شعور بن جاتی ہے، کبھی احتجاج، کبھی اصلاح کی صدا اور کبھی سوئی ہوئی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی دستک۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ تلوار نے سلطنتیں فتح کیں تو قلم نے ذہن فتح کیے۔ تلوار جسم کو زخمی کرتی ہے، قلم سوچ کو بدلتا ہے اور سوچ بدل جائے تو معاشرہ بدلنے لگتا ہے۔
معاشرتی شعور دراصل وہ احساس ہے جو انسان کو صرف "میں" سے نکال کر "ہم" تک لے جاتا ہے۔ جب ایک شخص یہ سمجھنے لگتا ہے کہ سڑک پر پھینکا ہوا کچرا صرف صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے، جب اسے احساس ہوتا ہے کہ کسی کمزور کی حق تلفی محض ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت ہے، جب وہ تعلیم، انصاف، برداشت، دیانت اور انسانی وقار کو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دیکھتا ہے تو یہی معاشرتی شعور ہے۔ اس شعور کو بیدار کرنے میں قلم کا کردار کسی چراغ سے کم نہیں۔
ایک قلم کار کی میز پر رکھا ہوا قلم بسا اوقات پورے معاشرے کا آئینہ بن جاتا ہے۔ وہ بازار میں موجود مہنگائی کو صرف اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اس مزدور کے چہرے پر تلاش کرتا ہے جو دن بھر محنت کے بعد بھی گھر کے بچوں کے لیے مناسب خوراک نہیں خرید پاتا۔ وہ تعلیمی نظام کو صرف کتابوں اور امتحانات کی فہرست نہیں سمجھتا بلکہ اس بچے کی آنکھوں میں پڑھتا ہے جس کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے مگر وہ روزگار کی تلاش میں گلیوں کی خاک چھان رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قلم خبر سے آگے بڑھ کر احساس بن جاتا ہے۔
اخبار کا کالم بھی اسی قلم کی ایک شکل ہے۔ کالم نگار کے سامنے روزانہ بے شمار واقعات گزرتے ہیں؛ کوئی سیاسی بیان، کوئی معاشی بحران، کوئی سماجی حادثہ، کوئی ادبی سرگرمی یا کوئی معمولی سا واقعہ۔۔۔۔ مگر اصل کمال یہ ہے کہ وہ ان واقعات کے پیچھے چھپی انسانی کہانی کو پہچانے۔ ایک اچھا کالم قاری کو صرف معلومات نہیں دیتا، اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر سوال کا جواب بھی خود فراہم کرے۔ کبھی کبھی ایک درست سوال، سو غلط جوابوں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
ایک قصبے میں ایک پرانا کتب خانہ تھا۔ عمارت خستہ تھی، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے اور کتابوں پر گرد جمی رہتی تھی۔ لوگ اسے بے کار سمجھتے تھے۔ ایک دن ایک نوجوان نے وہاں سے ایک کتاب اٹھائی اور پڑھنا شروع کی۔ اس نے کتاب ختم کی تو اسے احساس ہوا کہ جس دنیا کو وہ محدود سمجھتا تھا، وہ اس کے تصور سے کہیں وسیع ہے۔ اس نے دوستوں کو بلایا، کتابیں پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا اور آہستہ آہستہ وہی کتب خانہ محلے کے نوجوانوں کی بیٹھک بن گیا۔ چند سال بعد وہاں سے استاد، صحافی، شاعر اور سماجی کارکن نکلنے لگے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ شعور ہمیشہ بڑے نعروں سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی ایک کتاب، ایک مضمون، ایک شعر یا ایک کالم بھی کسی انسان کے اندر ایک نیا دریچہ کھول دیتا ہے۔ قلم کا اصل اثر یہی ہے کہ وہ انسان کے اندر سوال پیدا کرتا ہے۔ سوال کرنے والا ذہن اندھی تقلید سے بچتا ہے، دلیل کو اہمیت دیتا ہے اور اپنے اردگرد کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے
لیکن قلم کی طاقت کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ اگر قلم سچائی کے بجائے تعصب کا ترجمان بن جائے، تحقیق کے بجائے افواہ کو فروغ دے، اصلاح کے بجائے نفرت پھیلائے تو وہ چراغ نہیں رہتا، آگ بن جاتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ ایک تحریر چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے لکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ الفاظ کو محض اظہار کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ امانت جانے۔ ہر خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صحت جانچنا، اختلاف کو دشمنی نہ بنانا اور کسی فرد یا طبقے کے بارے میں غیر مصدقہ بات نہ پھیلانا قلم کی بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ادب نے بھی معاشرتی شعور کی تشکیل میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ شاعر جب غربت پر شعر کہتا ہے، افسانہ نگار جب کسی محروم انسان کی زندگی کو کہانی بناتا ہے یا ناول نگار جب معاشرے کی تہوں میں چھپے تضادات کو کرداروں کے ذریعے سامنے لاتا ہے تو وہ محض فن کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہوتا۔ وہ قاری کو دوسرے انسان کی زندگی میں داخل ہونے کا موقع دے رہا ہوتا ہے۔ یہی احساسِ ہم دردی معاشرتی شعور کی بنیاد بنتا ہے۔
یہاں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قلم صرف لکھنے والے کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ آج ہر موبائل فون رکھنے والا شخص کسی نہ کسی حد تک قلم کار ہے۔ اس کی ایک پوسٹ، ایک تبصرہ، ایک ویڈیو کی عبارت یا ایک شیئر کیا ہوا پیغام کسی دوسرے شخص کی سوچ پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے معاشرتی شعور اب صرف اخبارات، رسائل اور کتابوں کی ذمہ داری نہیں رہا، یہ ہر شہری کی ذمہ داری بن چکا ہے۔
وہی بوڑھا قلم اب بھی اسی میز پر پڑا ہے۔ چراغ کی روشنی مدھم ہو چکی ہے مگر قلم کی نوک اب بھی روشن ہے۔ کاغذ اس سے پوچھتا ہے، "آج کیا لکھو گے؟" قلم کچھ دیر خاموش رہتا ہے۔ پھر جواب دیتا ہے، "وہ جو لوگوں کو ایک دوسرے سے دور نہ کرے، بلکہ قریب لائے؛ وہ جو خوف پیدا نہ کرے بلکہ شعور جگائے، وہ جو جھوٹ کو خوب صورت بنا کر پیش نہ کرے بلکہ سچ کو دلیل اور شائستگی کے ساتھ بیان کرے۔"
شاید یہی قلم کی اصل طاقت ہے۔ معاشرہ ایک دن میں نہیں بدلتا مگر ایک خیال سے تبدیلی کا آغاز ضرور ہو سکتا ہے۔ ایک سطر کسی کے ذہن میں سوال پیدا کر سکتی ہے، ایک مضمون کسی کے اندر احساس جگا سکتا ہے اور ایک کتاب کسی پوری نسل کا زاویۂ نظر بدل سکتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قلم ہاتھ میں ہو تو نیت میں دیانت، فکر میں وسعت اور لفظوں میں انسانیت بھی موجود ہو کیونکہ معاشرے دیواروں، سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں، انسانوں کے شعور سے بنتے ہیں اور شعور کی اس تعمیر میں قلم آج بھی ایک خاموش مگر طاقتور معمار ہے۔
مزید پڑھیں




