قاسم کل سے ہی بہت بے چین تھا اور بس ایک ہی بات کی ضد کر رہا تھا
گاؤں جانا ہے گاؤں جانا ہے
قاسم کے ابا ایک ملازمت پیشہ فرد تھے جو روزگار کے سلسلے میں گاؤں سے شہر آئے تھے وہ ایک دفتر میں کام کرتے تھے اور اپنی فیملی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتے تھے لیکن جب کبھی کام سے چھٹی ملتی تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ اپنے گاؤں میں رہنا پسند کرتے تھے گاؤں میں ان کا آبائی گھر تھا جہاں قاسم کے دادا دادی اور دوسرے رشتہ دار رہتے تھے
ہاں بھئی چلے جائیں گے نا گاؤں ابھی کل ہی تو تمہاری اسکول سے چھٹیاں ہوئی ہیں میں بھی ایک دو دن میں دفتر سے چھٹی لے لوں گا ابا نے پروگرام مرتب کرتے ہوئے کہا
مجھے نہیں پتا مجھے کل ہی جانا ہے قاسم اپنے ضدی لہجے میں کہنے لگا
اچھا بیٹا کل چلیں گے پر اب یہ ضد چھوڑو اور مجھے کام کرنے دو ابا قاسم کی ضد سے تنگ آکر بولے
ابا کی بات سن کر قاسم خوش ہو گیا اور فوراً اپنی تیاریاں شروع کر دیں اس نے اپنے کپڑے بیگ میں رکھے اپنے پسندیدہ کھلونے اٹھائے اور امی سے بار بار پوچھنے لگا کہ گاؤں جانے میں کتنے گھنٹے باقی ہیں
قاسم کو شہر سے زیادہ گاؤں میں رہنا اچھا لگتا تھا گاؤں کی ہریالی ہرے بھرے کھیت درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں پرندوں کی چہچہاہٹ اور ہر طرف سکون بھری فضا اسے بہت پسند تھی شہر کی بلند عمارتوں شور مچاتی گاڑیوں اور مصروف سڑکوں کے مقابلے میں گاؤں اسے ایک الگ ہی دنیا محسوس ہوتا تھا
قاسم کے لیے آج کی رات گزارنا بھی بہت مشکل ہو رہا تھا وہ دل ہی دل میں اپنے گاؤں کی یادیں سوچنے لگا اسے دادا جان کے ساتھ کھیتوں میں جانا دادی اماں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی مکھن والی روٹی کھانا اور اپنے کزنز کے ساتھ کھیلنا یاد آنے لگا انہی خوبصورت خیالوں میں کھویا کھویا وہ سو گیا
صبح اٹھتے ہی قاسم اور اس کی فیملی نے ناشتہ کیا امی نے ضروری سامان پیک کیا ابا نے گاڑی تیار کی اور سب لوگ گرمیوں کی چھٹیاں منانے کے لیے اپنے گاؤں روانہ ہو گئے
راستے میں قاسم کبھی کھڑکی سے باہر دیکھتا اور کبھی ابا سے پوچھتا کہ گاؤں کب آئے گا شہر کی عمارتیں پیچھے رہ گئیں اور کچھ ہی دیر بعد سڑک کے دونوں طرف سرسبز کھیت دکھائی دینے لگے کہیں کسان فصلوں کو پانی دے رہے تھے کہیں مویشی چر رہے تھے اور کہیں بچے درختوں کے نیچے کھیل رہے تھے
گاؤں کے قریب پہنچتے ہی قاسم خوشی سے اچھل پڑا
ابا جان ہمارا گاؤں آگیا
گھر پہنچتے ہی دادا جان اور دادی اماں نے انہیں خوش آمدید کہا قاسم بھاگ کر دادا جان کے گلے لگ گیا دادی اماں نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور کہا میرا بچہ بڑا ہو گیا ہے لیکن اسے اب بھی اپنے گاؤں سے اتنا ہی پیار ہے
قاسم نے دادا جان سے کہا دادا جان آج میں آپ کے ساتھ کھیتوں میں جاؤں گا اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی کھیلوں گا
دادا جان مسکرائے اور بولے ضرور بیٹا لیکن پہلے آرام کر لو پھر ہم کھیتوں کی سیر کو چلیں گے
اگلی صبح قاسم جلدی اٹھ گیا اس نے ناشتہ کیا اور دادا جان کے ساتھ کھیتوں کی طرف روانہ ہو گیا راستے میں اس نے رنگ برنگے پھول دیکھے درختوں پر بیٹھے پرندوں کی آوازیں سنیں اور ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوا
کھیتوں میں پہنچ کر قاسم نے دیکھا کہ کسان سخت محنت کر رہے ہیں کوئی فصل کو پانی دے رہا تھا کوئی گھاس نکال رہا تھا اور کوئی زمین پر کام کر رہا تھا
قاسم نے دادا جان سے پوچھا دادا جان یہ لوگ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں
دادا جان نے پیار سے جواب دیا بیٹا کسان کی محنت سے ہی ہمارے گھروں میں آٹا سبزیاں اور دوسری ضروری چیزیں پہنچتی ہیں ہمیں کسانوں کی عزت کرنی چاہیے اور کھانے کی چیزوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے
قاسم نے یہ بات غور سے سنی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کھانا ضائع نہیں کرے گا
کچھ دیر بعد قاسم اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے لگا وہ کبھی کرکٹ کھیلتے کبھی درختوں کے نیچے بیٹھ کر باتیں کرتے اور کبھی کھیتوں کے کنارے دوڑ لگاتے اسے محسوس ہوا کہ گاؤں میں رہنے کا مزہ ہی الگ ہے
اچانک کھیلتے ہوئے قاسم نے دیکھا کہ گاؤں کے ایک کونے میں پڑا کچرا ہوا سے اڑ کر راستے پر پھیل رہا ہے وہاں پلاسٹک کی تھیلیاں اور خالی بوتلیں بھی پڑی تھیں قاسم کو یہ منظر اچھا نہ لگا
اس نے اپنے دوستوں سے کہا ہمیں اپنا گاؤں صاف رکھنا چاہیے اگر ہم خود ہی اپنے گاؤں کو گندا کریں گے تو یہاں رہنے کا مزہ کیسے آئے گا
اس کے دوستوں نے بھی اس کی بات سے اتفاق کیا سب بچوں نے مل کر کچرا جمع کیا اور اسے مناسب جگہ پر ڈال دیا پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ گاؤں کے دوسرے بچوں کو بھی صفائی کی اہمیت سمجھائیں گے
شام کو جب قاسم گھر واپس آیا تو اس نے دادا جان کو سارا واقعہ سنایا دادا جان بہت خوش ہوئے اور بولے شاباش بیٹا تم نے ثابت کر دیا کہ اچھا بچہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی سوچتا ہے اپنے ماحول کو صاف رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے
قاسم نے مسکراتے ہوئے کہا دادا جان میں چاہتا ہوں کہ ہمارا گاؤں ہمیشہ خوبصورت اور صاف ستھرا رہے
دن گزرتے گئے اور قاسم کی چھٹیاں خوشی سے گزرنے لگیں اس نے گاؤں کی خوبصورتی دیکھی بزرگوں سے محبت اور احترام کرنا سیکھا کسانوں کی محنت کی قدر جانی اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر صفائی کا کام بھی کیا
جب واپس شہر جانے کا وقت آیا تو قاسم کچھ اداس ہو گیا اس نے دادا جان اور دادی اماں کو گلے لگایا اور وعدہ کیا کہ وہ دوبارہ جلد گاؤں آئے گا ابا نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا بیٹا گاؤں صرف ہماری رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ہماری پہچان اور ہماری تہذیب کا حصہ بھی ہے ہمیں اپنی جڑوں سے ہمیشہ جڑے رہنا چاہیے
قاسم نے خوشی سے سر ہلایا وہ جان چکا تھا کہ گاؤں کی اصل خوبصورتی صرف ہرے بھرے کھیتوں اور درختوں میں نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی محبت محنت سادگی اور اپنائیت میں بھی ہے
واپسی کے سفر میں قاسم نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ وہ شہر میں بھی صفائی کا خیال رکھے گا کھانا ضائع نہیں کرے گا اور ہر شخص کے ساتھ محبت سے پیش آئے گا
اس دن قاسم نے سیکھا کہ انسان جہاں بھی رہے اسے اپنی مٹی اپنی ثقافت اور اپنے لوگوں سے محبت کرنی چاہیے یہی محبت انسان کو اپنی پہچان سے جوڑے رکھتی ہے






