قتل و غارت کے بڑھتے ہوئے واقعات،تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد
نقطہ نظر
دُنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔گُنہگار بھی ہیں اور راست باز بھی۔ فقیر بھی ہیں اور بادشاہ بھی۔ امیر بھی ہیں اور غریب بھی۔ حلیم بھی ہیں اور مغرور بھی۔ صاحب نیت بھی ہیں اور بدنیت بھی۔ شریف بھی ہیں اور بدٙمعاش بھی۔ حقیقت پسند بھی ہیں اور غیر حقیقت پسند بھی۔ سنجیدہ بھی ہیں اور آوارہ بھی۔مُحبت کرنے والے بھی ہیں اور نفرت کی وباء پھیلانے والے بھی۔گھر بسانے والے بھی ہیں اور سُہاگ اُجاڑنے والے بھی۔ جسمانی بھی ہیں اور رُوحانی بھی ہیں۔یہ گردان نہ ختم ہونے والے الفاظ پر مُشتمل ہے۔اِسے جتنا زیادہ کریدتے جائیں گے۔اِس کے اُتنے ہی زیادہ اِسباب منظر عام پر آئیں گے۔
اگر قتل کا پہلا واقع دیکھا جائے تو وہ آدم کے بیٹے قائن کا ہے جس نے اپنے بھائی ہابل کو قتل کیا۔صرف اُس کے چہرے پر حسد کی ایک سلوٹ نے اُس کے خیالات کو شُعلہ نفسی میں بدل دیا۔ بعد ازاں تاریخ ایسے ظُلم و ستم اور بٙربٙریٙت کی کہانی سُناتی ہے۔ جہاں انسانیت کی تباہی کے مناظر خوف و حراس کی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔ یہ دردناک کہانی زمانہ ازٙل سے ہی چلی آ رہی ہے۔نہ یہ اب تک رُکی اور نہ یہ تھمی ہے، بلکہ اِس کے طوفان اور آندھیاں وقفے وقفے سے بڑھتے رہتے ہیں۔ فی زمانہ بھی جاری و ساری ہیں۔اگر فطری طور پر اس بات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر انسان کا الگ سا مزاج اور نفسیات ہے۔ عادات و کردار بھی فرق فرق ہے۔تہذیب و تمدن ، اقدار و روایات اور ثقافتی سرگرمیاں بھی الگ الگ دُھن پر مشتمل ہیں۔ قوموں کی پہچان میں ساری بات تعلیم و تربیت پر مبنی ہے، کہ کوئی وقت کے ساتھ کتنا تبدیل ہوا ہے۔مگر سوچنے والی بات ہے کہ وقت ضرورت اور حالات کسی کو انسان بنا دیتے ہیں اور کوئی وقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر حیوانیت کا رُوپ اُوڑھ لیتا ہے۔نہ جانے کیوں دُنیا میں روز بروز قتل و غارت کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔گناہ کا زور و شُور ہے۔تُہمتیں اور دٙہشتیں ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گُناہ اور ظُلم و ستم جیسے اٙن گنت واقعات رُونما ہو رہے ہیں۔ قتل عام سی بات ہو گئی ہے۔معمولی سی بات بھی قتل و غارت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔حالاں کہ حالات پر قابو پانے کے لیے کئی راستے ہموار ہوتے ہیں۔فقط ضرورت اُنھیں تلاش کرنے کی ہوتی ہے۔رویوں کی سختی اور بے حسی کی انتہا نے معاشرے کو ایک ایسی دٙلدل میں پھینک دیا ہے۔جہاں روز بروز دِل خراش واقعات سُننے کو ملتے ہیں۔سوشل میڈیا اور اخبارات کی سُرخیاں ہر روز آگاہی فراہم کر رہی ہیں کہ قیامت سے پہلے بھی ایک قیامت ہے۔ اِسے تُم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔سٙفٙاکِیت اور گُمراہی اس قدر بڑھ گئی ہے جہاں انسان کو حیوان سمجھ کر ذبح کر دیا جاتا ہے۔ اِس ناقابل مُعاف جُرم اور گناہ کی بہت سی وجوہات ہیں۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی حرص و ہوس ، مال و متاع کی کثرت، لڑائی جھگڑے ، ہم آہنگی کا فقدان ، بے جا فخر ، گنڈا گردی ، زنا کاری اور فحش کاری قتل کے فروغ میں اہم پیش رفت کر رہے ہیں۔کبھی کبھی خود کشی جیسے واقعات بھی سُننے کو ملتے ہیں۔کچھ خاموش طبع لوگ کسی کو بتائے بغیر اپنی زندگی کے ساتھ خونی کھیل، کھیل جاتے ہیں۔ وہ ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہو کر زندگی کی شہ رگ کو ایسی بے رحمی سے کاٹ دیتے ہیں ، جیسے وہ زندگی کے تصٙور سے غافل ہیں۔ حالاں کہ زندگی تو نعمتِ خداوندی ہے۔ خُدا کی امانت ہے۔ محبت کی انمول داستان ہے۔نسل انسانی کا ذریعہ ہے۔لیکن یہ سب غیر معمولی واقعات زندگی کے خاتمے میں کیوں پیدا ہوتے ہیں۔کیا یہ وقت کی سزا ہے یا انسانیت کا بکھرا ہوا شیرازہ؟ اذہان و قلوب میں توہمات اور وسوسوں کی بدولت حیوانیت بڑھ رہی ہے۔کوئی اچھی خبر پڑھنے کو نہیں ملتی۔ انسان دُنیا حاصل کرنے کے لیے زندگی کھو دیتا ہے۔ دولت کی وقتی لذت اور خُوشی کے حصول کے لیے اپنے ہاتھوں کو گناہ اُلودہ کر لیتا ہے۔وہی ہاتھ جو دُعا کے لیے اُٹھتے ہیں۔انہی ہاتھوں سے ہتھیار پکڑ کر کسی دوسرے شخص کا خون کر دیا جاتا ہے۔آج دنیا میں سُرخ خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔زمین چیخ و پکار کر رہی ہے۔دہائی دے رہی ہے۔انسان کو متنبہ کر رہی ہے کہ مُجھے تو قدرت نے حاصل دینے کے لیے بنایا ہے۔تُم میرے ساتھ کون سا کھلواڑ کھیل رہے ہو۔میں تو تُمہارے ہر قسم گناہ اور گندی کثافتوں کے بوجھ کو برداشت کر رہی ہوں۔اگر قدرت نے مُجھے حُکم دے دیا تو میں پوری انسانیت کو نگل سکتی ہوں۔کیوں کہ پاتال میرے نیچے ہے۔تُم چھوٹی چھوٹی باتوں کے عوض ایک دوسرے کا خُون بہا دیتے ہو۔یاد رکھو! میں تو روز اوٙل سے ہر قسم کا ظُلم و ستم برداشت کرتی آ رہی ہوں۔ حالاں کہ تُم نے جسمانی تربیت بھی پائی اور رُوحانیت کا پہاڑا بھی اٙزبر کیا۔اِس امر کے باوجود تُم بہت جلد برگشتہ ہو جاتے ہو۔ شریعت کی ساری باتیں بُھول جاتے ہو۔معمولی سی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے بلکہ فوراً حواس باختہ ہو کر اِنتقام کی آگ میں جُھلس جاتے ہو۔پھر یہ تُمہارا نسل در نسل قرض ختم نہیں ہوتا۔شاید برداشت کا فقدان ہے۔دین سے دُوری ہے۔اِنسانیت کی بے قدری ہے۔جذبات کے شُعلے ہیں۔بے حسی کا رجُحان ہے۔غربت کے ستائے ہوئے لوگ ہیں۔قبضہ مافیا کی روایت ہے۔ کیا کبھی کوئی انسان سوچ سکتا ہے کہ وہ سٙفٙاکِیت کی بھینٹ چڑھ کر قتل و غارت میں ملبٙس ہو جائے گا۔آئیں تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہو کر زندگی کو ایسا شمع دان بنائیں جہاں روشنی کی کِرنیں بکِھر کر خوش گوار سفر کی بنیاد رکھ سکیں۔





