قطر کی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت اور فنڈنگ کے الزامات کی تردید

قطر نے اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں مداخلت کرنے اور انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے وابستہ بعض ذرائع ابلاغ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات دوحہ کی سفارتی اور انسانی ہمدردی کی کوششوں کو متاثر نہیں کر سکتے۔
یہ تنازع اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جج نوم سولبرگ نے غیر ملکی مالی معاونت کے ذریعے انتخابی عمل پر مبینہ اثراندازی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے داخلی سلامتی کے ادارے شِن بیت کو ہدایت دی ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں اس امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ قطر سے مبینہ طور پر رقوم فراہم کرکے عرب اسرائیلی ووٹروں کی انتخابی شرکت یا ووٹنگ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ تاہم انتخابی کمیٹی کے سربراہ نے اپنے خط میں قطر کا نام براہ راست نہیں لیا اور کہا کہ الزامات کی حقیقت کی تصدیق یا تردید کے لیے شواہد جمع کرنا ضروری ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد محمد الانصاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے رابطوں میں رہنے والے ذرائع ابلاغ نے انتخابات کے بعد ایک بار پھر قطر کو اسرائیل کے داخلی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کے لیے گمراہ کن مہم شروع کر رکھی ہے۔
ماجد الانصاری کے مطابق قطر پر کبھی بینجمن نیتن یاہو، کبھی اسرائیلی بائیں بازو اور اب عرب ووٹروں کو خریدنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ان الزامات کو درست مان لیا جائے تو بظاہر قطر اسرائیل کے تمام معاملات کا مالک بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں




