خلیجِ فارس میں قطری ایل این جی بردار جہاز پر حملہ

خلیج میں قطر کے ایل این جی (LNG) بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا ہے۔ قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ خلیج میں سفر کے دوران قطر کے ایک ٹینکر کو ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ نے نشانہ بنایا ہے۔ فروری میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ’جنگ‘ شروع ہونے کے بعد سے تجارتی جہاز رانی پر ہونے والا یہ تازہ ترین حملہ ہے۔
کمپنی نے اتوار کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ جمعہ کی شام ہونے والے اس حملے میں ان کا مائع قدرتی گیس (LNG) بردار جہاز ’المیعدہ‘ (Al Mayeda) نشانہ بنا۔
بیان کے مطابق، عملے کا کوئی بھی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی ماحولیات کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع ملی ہے۔
قطر اسٹاک ایکسچینج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز فی الحال ’محفوظ حالت میں اور فعال‘ ہے، اور اس واقعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے ’ایکس‘ (X) پر جاری ایک بیان میں اس حملے کی ’سخت مذمت‘ کی ہے۔
دوحہ کا کہنا ہے کہ وہ اسے ’ایک خطرناک اقدام‘ سمجھتا ہے جو سمندری جہاز رانی کی حفاظت اور عالمی توانائی کی ترسیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اس طرح کے ’غیر محتاط اور غیر ذمہ دارانہ رویوں‘ کے علاقائی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ واقعے کے حالات جاننے اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قطر اپنی املاک کے تحفظ اور اپنے مفادات کے دفاع کے لیے ’تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے‘۔
مزید پڑھیں





