بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

راکھ میں دبی چنگاری، تحریر:ایم زیڈ کنول

نقطہ نظر

​بستی کے چوک پر بنے بڑے ہال میں جب ضابطے کے افسروں نے قفل ڈالا، تو وہاں جمع کتابوں کا ڈھیر کسی مجرم کی لاش کی طرح سٹرک پر پھینک دیا گیا تھا۔ یہ سچے لفظوں، علامتی کہانیوں اور صدیوں پرانی مزاحمتی شاعری کا جنازہ تھا، جسے 'نظم و ضبط کی بقا' کا نام دے کر شہر بھر میں ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔

​لوگ اپنے اپنے کاغذی مورچوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے—سہمے ہوئے، مصلحت پسند اور خاموش۔ جبر کی یہ ایسی لہر تھی جس نے سوچنے پر پہرے بٹھا دیے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے، چوک کے وسط میں ان تمام کتابوں کو آگ لگا دی گئی۔ کاغذ جلتے رہے، لفظ پگھلتے رہے اور چند گھنٹوں میں وہاں صرف ایک مہیب، سیاہ راکھ کا ڈھیر باقی رہ گیا۔ بستی کے لوگوں نے گہرا سانس لیا، اپنے دلوں کے دریچے بند کیے اور یہ سمجھ کر سو گئے کہ اب چنگاری کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔

​اگلی صبح، جب فضا پر بارود اور جلی ہوئی روشنائی کا دھواں چھٹ چکا تھا، بوڑھا عثمان چوک کی طرف نکلا۔ عثمان نے اپنی زندگی کے پچاس سال اسی مٹی میں لفظ بوتے اور حرف چنتے گزاریے تھے۔ اس کے چہرے کی جھریاں کسی پرانی کتاب کے اوراق جیسی تھیں، جن میں ماضی کی مزاحمت لکھی تھی۔

​وہ راکھ کے اس بڑے ڈھیر کے پاس آکر رک گیا۔ ہر طرف ایک سرد، مردہ خاموشی تھی۔ بظاہر سب کچھ ختم ہو چکا تھا؛ باغی لکھاری یا تو شہر چھوڑ چکے تھے یا خاموشی کی چادر اوڑھ کر 'آن لائن قیدی' بن چکے تھے، جہاں تخلیق کا گلا گھونٹ کر صرف مصلحت آمیز جملے لکھنے کی اجازت تھی۔

​عثمان نے ایک لمبا سانس لیا، اپنے لرزتے ہاتھوں سے زمین سے ایک سوکھی لکڑی اٹھائی اور اس راکھ کے ڈھیر کو آہستہ سے ٹٹولا۔

​اوپری سطح بالکل سفید اور ٹھنڈی تھی، جیسے کسی مردہ جسم کی جلد۔ لیکن جیسے ہی عثمان نے لکڑی کو تھوڑا گہرا کیا، راکھ کی اس دبیز، سیاہ تہہ کے بالکل نیچے سے ایک مدہم، مگر تیکھی سرخ روشنی چمکی۔

​ایک چنگاری!

​وہ ابھی مری نہیں تھی۔ وہ راکھ کے بھاری بوجھ تلے دب کر بھی اپنے اندر کی تپش بچائے ہوئے تھی۔ اسے بجھانے کے لیے لائی گئی آندھی ہی دراصل اس کا حفاظتی خول بن گئی تھی، جس نے اسے بیرونی ہوا کے جھونکوں سے بچا کر اندر ہی اندر زندہ رکھا ہوا تھا۔

​ٹھیک اسی لمحے، چوک سے گزرتا ہوا ایک نوجوان لڑکا وہاں رکا۔ اس کی آنکھوں میں جدید دور کا وہی مبہم خلا اور اداسی تھی جو سچی فکر سے دور ہو جانے والی نسل کا مقدر ہوتی ہے۔ وہ روز اسکرینوں پر 'پکسلز کا ماتم' دیکھتا تھا، لیکن آج اس نے پہلی بار حقیقت کا سامنا کیا تھا۔

​"بابا! یہ تو اب بھی گرم ہے،" لڑکے نے حیرت سے کہا۔ "کیا یہ دوبارہ سلگ سکتی ہے؟"

​عثمان کے بوڑھے لبوں پر ایک علامتی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے لکڑی ایک طرف رکھی اور اپنی جیب سے ایک سادہ، مڑا ہوا کاغذ نکالا۔ یہ اس نظم کا آخری صفحہ تھا جسے جلانے سے پہلے اس نے اپنی آستین میں چھپا لیا تھا۔

​"بیٹا!" عثمان کی آواز میں گرج تو نہیں تھی، مگر ایک محکم استقامت تھی۔ "جبر کا قانون عارضی ہوتا ہے۔ یہ کاغذ، یہ کتابیں، یہ لفظ... یہ تو محض لباس ہیں۔ اصل چیز وہ سوچ ہے جو ان کے اندر دھڑکتی ہے۔ جب تک راکھ میں یہ ایک چنگاری بھی دبی ہے، تب تک یہ امید باقی ہے کہ اگلا پورا جنگل اس کی لپیٹ میں آئے گا۔"

​عثمان نے وہ کاغذ اس چنگاری کے بالکل قریب کیا اور اپنے بوڑھے پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے ایک ہلکی سی پھونک ماری۔

​ہوا کے لمس نے چنگاری کو بیدار کر دیا۔ راکھ کا ہالہ چٹا، اور ایک سرخ لکیر کاغذ کے کونے کو چھو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے، سفید کاغذ پر لکھی ہوئی نظم کے حروف اندھیرے میں چمکنے لگے۔

​نوجوان نے دیکھا کہ سچے لفظوں کی تپش کیا ہوتی ہے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا فاؤنٹین پین مضبوطی سے تھام لیا۔ اسے سمجھ آگئی تھی کہ جب چاروں طرف خاموشی کا صحرا ہو، تو ذہن کی بندشوں کو توڑنے کے لیے کسی بڑی توپ کی ضرورت نہیں ہوتی، بس اپنے حصے کا ایک سچا حرف لکھ دینا ہی اس چنگاری کو شعلہ بنا دیتا ہے۔

​چوک پر اب بھی راکھ بکھری تھی، لیکن دو انسانوں کے دلوں میں ایک نئی سحر طلوع ہو چکی تھی۔ تاریخ گواہ تھی کہ راکھ کے ڈھیر بڑے بن سکتے ہیں، مگر وہ کبھی چنگاری کا مقدر طے نہیں کر سکتے۔