پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

رشتوں کا جنازہ اور زندہ لوگ، تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum

ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں، جہاں جنازوں میں لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اور زندہ انسانوں کے دکھ بانٹنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کسی کے انتقال پر تعزیت کے لیے وقت نکالنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ لیکن کسی زندہ انسان کی خاموشی کے پیچھے چھپے درد کو سمجھنے کے لیے، ہمارے پاس چند لمحے بھی نہیں ہوتے ہیں۔ ہم موت کے بعد آنسو بہاتے ہیں مگر زندگی میں کسی کی آنکھوں میں اترنے والی نمی کو اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

یہ کیسا معاشرہ ہے، جہاں انسان کی قدر اس کی موجودگی میں نہیں ہے۔ بلکہ اس کی عدم موجودگی میں محسوس کی جاتی ہے۔ جب کوئی شخص ہمارے درمیان ہوتا ہے تو اس کی باتیں ہمیں ناگوار گزرتی ہیں۔ اس کی ضرورتیں بوجھ محسوس ہوتی ہیں۔ اور اس کے احساسات بھی غیر ضروری دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس کی خوبیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ اس کی چھوٹی چھوٹی باتیں قیمتی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ اس کی کمی کا احساس ہمیں بے چین کر دیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو محبت ہم کسی کی قبر پر کھڑے ہو کر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ محبت اس کی زندگی میں کیوں نہیں دکھا سکتے؟

رشتے محض خون کے تعلق کا نام نہیں ہوتے ہیں۔ رشتوں کی اصل بنیاد احساس، اعتماد، احترام اور ذمہ داری ہے۔ اگر ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دکھ سے بے خبر ہوں۔ اگر والدین اپنی اولاد کے دل کی کیفیت نہ سمجھ سکیں۔ اگر اولاد اپنے والدین کی تنہائی کو محسوس نہ کرے۔ اگر بہن بھائی ایک دوسرے کی پریشانی میں شریک نہ ہوں، تو صرف ایک چھت کے نیچے رہنے سے رشتے زندہ نہیں رہتے ہیں۔

بعض اوقات رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے، ان میں دراڑیں روزانہ پڑتی ہیں۔ کبھی کسی کی بات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کبھی کسی کی قربانی کو معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔ کبھی کسی کی خاموشی کو اس کی رضامندی تصور کر لیا جاتا ہے۔ اور کبھی کسی کے حق کو یہ کہہ کر دبا دیا جاتا ہے کہ آخر اپنے ہی تو ہیں۔

یہی "اپنے" جب بار بار دل دکھاتے ہیں تو انسان شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ بحث سے بچنے لگتا ہے۔ اپنی ضرورتیں چھپانے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنے ہی لوگوں سے فاصلے اختیار کر لیتا ہے۔ پھر ایک دن جب وہ خاموشی سے الگ ہو جاتا ہے، تو سب حیران ہوتے ہیں کہ آخر اسے ہوا کیا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس خاموشی تک پہنچنے میں ہماری بے اعتنائی کا کتنا حصہ تھا۔

اسلام ہمیں رشتوں کے حقوق ادا کرنے، حسنِ سلوک اختیار کرنے اور دوسروں کے ساتھ انصاف کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا ہے اور قرابت داروں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ سورۃ النساء کی آیت 36 میں والدین، رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی ہدایت موجود ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی صلہ رحمی کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ اس تعلیم کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم تہواروں پر مبارک باد دے دیں۔ اور کسی تقریب میں شرکت کر لیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے کام آئیں۔ غلطی پر اصلاح کریں۔ حق تلفی سے بچیں اور اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھیں۔

یاد رکھیے، ہر خاموش شخص مطمئن نہیں ہوتا اور ہر مسکراتا چہرہ بے فکر نہیں ہوتا ہے۔ بعض لوگ صرف اس لیے اپنے دکھ بیان نہیں کرتے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے، کہ ان کی بات سننے کے بجائے انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔

ہمیں اپنے رویّوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کسی اپنے کی زندگی کو اپنی سخت زبان، بے توجہی یا ناانصافی سے مشکل بنا رہے ہوں؟ کہیں ہم کسی ایسے شخص کو نظرانداز تو نہیں کر رہے جو ہماری توجہ اور اچھے برتاؤ کا منتظر ہے؟

رشتوں کی اصل آزمائش جنازے کے ساتھ چلنے میں نہیں ہے۔ بلکہ زندگی کے سفر میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں ہے۔ کسی کے مرنے کے بعد اس کی تعریف کرنے سے بہتر ہے، کہ اس کی زندگی میں اس کی عزت کی جائے۔ اس کی بات سنی جائے اور اس کے حقوق ادا کیے جائیں۔

کیونکہ جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، تو ہم اس کے لیے دعائے مغفرت تو کر سکتے ہیں مگر اس کے سامنے اپنے رویّے کی اصلاح کا موقع ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں۔