خودداری، وقار اور رشتوں کی نزاکت،تحریر: ساجدہ عارف
نقطہ نظررشتے ہمیشہ کسی بڑے حادثے کی زد میں آ کر نہیں ٹوٹتے؛ بعض اوقات لہجے کی معمولی سی کج روی، لفظوں کی بے احتیاطی اور انا کی ایک بے محل جنبش، برسوں کی قربت کے درمیان ایسی دراڑ ڈال دیتی ہے جسے پھر تمام عمر کی وضاحتیں بھی پوری طرح نہیں بھر پاتیں۔ انسانی تعلقات کی سب سے نازک سطح وہ ہے جہاں محبت موجود ہوتی ہے، مگر اس محبت کو نبھانے کا سلیقہ مفقود ہو جاتا ہے۔
خودداری اور وقار محض شخصیت کے ظاہری محاسن نہیں، یہ انسان کے باطن میں قائم وہ تہذیبی حصار ہیں جو اسے اپنی ذات کی حرمت کے ساتھ دوسروں کے احساسات کا پاس رکھنا سکھاتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہم نے خودداری کو ضد، خاموشی کو سزا اور بے اعتنائی کو اپنی برتری کا استعارہ بنا لیا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر خاموش شخص مغرور نہیں ہوتا اور ہر پیچھے ہٹنے والا شکست خوردہ نہیں ہوتا۔ بعض لوگ محض اس لیے اپنے قدم روک لیتے ہیں کہ ان کی موجودگی کسی دوسرے کی انا پر بار نہ بن جائے۔
رشتوں کی نزاکت کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان اپنی ذات کو مٹا کر دوسرے کی خواہشات کا تابع ہو جائے، بلکہ اصل ہنر یہ ہے کہ اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے دوسرے کے احساس کی حرمت بھی محفوظ رکھی جائے۔ ہر اختلاف کو معرکہ، ہر شکایت کو توہین اور ہر خاموشی کو بغاوت سمجھ لینا دراصل جذباتی بلوغت کی کمی ہے۔ تعلقات کسی عدالت کے کٹہرے نہیں ہوتے جہاں ہر فریق اپنی بے گناہی کے ثبوت پیش کرے؛ یہ تو وہ پناہ گاہیں ہیں جہاں انسان اپنے دفاع سے زیادہ اپنی سچائی کے ساتھ موجود رہنا چاہتا ہے۔
کچھ لوگ رشتوں میں اپنی اہمیت منوانے کے لیے دوسرے کی اہمیت گھٹانے لگتے ہیں۔ انہیں گمان ہوتا ہے کہ پہل نہ کرنا وقار ہے، جواب روک لینا اختیار ہے اور کسی کے خلوص کو آزمائش میں ڈالے رکھنا محبت کی معراج۔ حالاں کہ تعلق کی دنیا میں ہر تاخیر بے رخی نہیں ہوتی، مگر مسلسل بے اعتنائی کو مصروفیت کا نام دے کر تقدیس بھی نہیں بخشی جا سکتی۔ محبت کو ہر وقت لفظوں کی بیساکھی درکار نہیں ہوتی، لیکن اسے احساس کی غذا ضرور چاہیے۔
خودداری کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتا نہ کرے، مگر کسی دوسرے کی عزتِ نفس کو بھی اپنی فتح کا زینہ نہ بنائے۔ وقار وہ نہیں جو دوسروں کو اپنی دسترس سے باہر رکھنے میں محسوس ہو؛ وقار تو وہ طرزِ عمل ہے جس میں اختیار ہونے کے باوجود کسی کو بے توقیر نہ کیا جائے، ناراضی کے باوجود تہذیب کا دامن نہ چھوٹے اور اختلاف کے باوجود دوسرے کی انسانی حیثیت مجروح نہ ہو۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر رشتہ مسلسل قربت کا متقاضی نہیں، لیکن ہر رشتے میں ایک بنیادی احترام ضرور لازم ہے۔ بعض اوقات فاصلہ تعلق کو ختم کرنے کے لیے نہیں، اس کی باقی ماندہ حرمت بچانے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ کچھ دروازے نفرت سے بند نہیں کیے جاتے؛ ان کے پیچھے بس اتنی تھکن جمع ہو جاتی ہے کہ دستک دینے کی ہمت باقی نہیں رہتی۔
اور شاید رشتوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو کھو دینے کے بعد ان نزاکتوں کا ادراک کرتے ہیں جنہیں ساتھ رہتے ہوئے معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے۔ تب انہیں احساس ہوتا ہے کہ ہر شخص کو محبت سے زیادہ کبھی کبھی محبت کے اندر اپنی عزت محفوظ ہونے کا یقین درکار ہوتا ہے۔
یاد رکھیے، تعلقات میں خودداری کا حسن تب مکمل ہوتا ہے جب اس کے ساتھ احساس کی شائستگی بھی موجود ہو۔ ورنہ انا کے بلند میناروں پر کھڑے لوگ اکثر یہ نہیں دیکھ پاتے کہ ان کے قدموں کے نیچے کتنے خوب صورت رشتے خاموشی سے دفن ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں





