Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

رشتوں کی پہچان،تحریر:نمرہ امین

نقطہ نظر
nimra amin

رشتوں کی اصلی پہچان کیا ہے کون سا رشتہ انسان کا اپنا ہوتا ہے اور کون سا پرایا؟

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے اور انسانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے آج تک کسی کو اس تلخ سوال کا جواب نہیں مل سکا، کسی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے نہ کوئی اس جواب کی تشریح بیان کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اس نے ہر انسان میں محبت، عزت، احترام اور انسانیت رکھی ہے تاکہ ہر کوئی اپنے مذہب اور دین کے مطابق اللہ کے بتائے ہوئے ہر احکام کو مان کر اس پر عمل پیرا ہو سکے۔ اللہ نے ہر انسان کو کسی نہ کسی چھپی ہوئی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ہر ایک کو اس کے مطابق عقل، سمجھ اور شعور عطا کیا ہے۔ یہ اب انسانوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح سے خود کو معاشرے میں ڈھالتا ہے اور اپنا مقام بناتا ہے۔ کس طرح سے اپنے ہر رشتے کو نبھاتا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے سب سے خوبصورت اور عظیم رشتہ والدین کا بنایا ہے۔ یہ ایسی بے مثال اور قیمتی موتی کی طرح انمول نعمت ہے جس کی بدولت انسان کو جنت مل جاتی ہے۔ اس کی دنیا و آخرت سنور جاتی ہے۔ دنیا میں والدین کا کوئی نعم البدل ہی نہیں ہے۔ یہ وہ پیار و محبت والا رشتہ ہے جو انسان کے فنا ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے۔ اگر وہ سچے دل سے اپنے والدین کا احترام کرتا ہو، ان سے محبت کرتا ہو، تو وہ زندگی میں کبھی در بدر کی ٹھوکریں نہیں کھاتا۔ کبھی کسی پریشانی میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کی زندگی بہت پر سکون گزرتی ہے۔ والدین کا واحد ایسا رشتہ ہے جس کی ضرورت انسان کو زندگی کے ہر موڑ پر، ہر قدم پر، کٹھن سے کٹھن حالات میں، ہر غمی، خوشی میں، ہر پریشانی، دکھ، درد میں پڑتی ہے اور تب والدین اپنی اولاد کا وہ سہارا ہوتے ہیں جس کے بغیر انسان کی زیست نا مکمل ہوتی ہے۔ والدین کی محبت، شفقت، خلوص، چاہت اور دعائیں ہمیشہ ہر حالات میں اپنی اولاد کے ساتھ ہوتی ہیں۔ وہ نا چاہتے ہوئے بھی کبھی اپنی اولاد کا برا نہیں سوچ سکتے۔ کبھی ان کے لیے دعائیں کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔ والدین اپنے آخری ایام میں بھی اپنی اولاد کے اچھے مستقبل کے لیے ہمیشہ دعائیں کرتے رہتے ہیں۔


اتنے عظیم اور پیارے رشتے کو سمجھنے سے انسان بھاگتا ہے، وہ اپنے والدین کی قدر نہیں کرتا، ان کی عزت، احترام نہیں کرتا۔ ان سے محبت سے پیش نہیں آتا، ان کو بڑھاپے میں بوجھ سمجھتا ہے اور ایک دن اولڈ ایج ہوم چھوڑ آتا ہے۔ وہ اپنی باقی کی زندگی وہاں اپنی اولاد کو یاد کر کے تنہا گزار دیتے ہیں۔ انسان کو والدین کی محبت، پابندی اور روک ٹوک سے نفرت محسوس ہوتی ہے۔ ان کا بے جا لاڈ، پیار ایک ڈرامہ لگتا ہے۔ وہ بار بار اپنے والدین کو ان سب باتوں کے لیے رد کرتا ہے، ان کی ہر کہی بات کو اپنے لیے صرف بربادی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی یہی سب سے بڑی غلطی کرتا ہے وہ سوچتا ہے کہ والدین اس کے دشمن ہیں۔ وہ اس کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے اس کو ہر بات اور ہر کام سے روکتے ہیں۔ انسان کی یہی بھول یہی خطا اس کو جہنم تک پہنچا دیتی ہے۔ اس کی دنیا و آخرت کو برباد کر دیتی ہے۔ لیکن انسان یہ سب سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کو کس لیے اور کیوں اتنی سزائیں ملتی ہیں۔

انسان ان غیر رشتوں کی اہمیت کو سمجھنا چاہتا ہے، ان کو جاننا، پہچاننا چاہتا ہے جو بالکل اجنبی ہوتے ہیں۔ کچھ وقت کی رسمی سلام دعا کو وہ اپنے لیے مخلصی والے رشتے سمجھ لیتا ہے۔ ان کی کہی ہوئی باتوں اور مشوروں پر بخوشی عمل کرتا اور مانتا ہے بے شک یہ باتیں اس کو کٹھن راستوں میں تنہا ہی کیوں نہ کر دیں؟ اس کے لیے سب طرح کے راستے بند ہی کیوں نہ ہو جائیں؟ پھر بھی وہ اپنے ان اجنبی رشتوں کو والدین سے بڑھ کر ترجیح دیتا ہے۔ ان کی ہر بات کو والدین کی باتوں سے پہلے مانتا ہے۔ وہ کبھی سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے ساتھ ہر اجنبی رشتہ مخلص ہے بھی یا نہیں۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو قسمت سے قسمت والوں کو ملتے ہیں جو واقعی مخلص ہوتے ہیں۔ جن کے دل میں اللہ کی محبت ہوتی ہے، جو انسانیت کا جذبہ رکھتے ہیں وہ اپنے ہر رشتے کو خلوص، چاہت اور ایمانداری سے نبھاتے ہیں۔ ایسے لوگ واقعی محبت دینے اور لینے کے قابل ہوتے ہیں۔ جن پر اعتبار، یقین اور اعتماد کیا جا سکتا ہے۔


انسان اس دنیا میں کسی بھی رشتے کو سمجھ نہیں سکتا ہے۔ وہ چاہے اپنے بہن، بھائیوں کا ہو، رشتے داروں کا ہو، یا کسی اجنبی کا اس کے لیے یہ سب رشتے ایک آزمائش کی طرح اس کی زندگی سے منسلک ہوتے ہیں۔ کسی نہ کسی وقت میں یہ رشتے اس کو ضرور چوٹ دے کر نقصان پہنچاتے ہیں، اس کا یقین، مان، بھروسہ کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں جو بعد میں دوبارہ کبھی نہیں جڑ سکتا۔ اس کے وجود کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جو ایک وقت میں آہستہ آہستہ کر کے ختم ہو جاتا ہے۔ آج کل ہر رشتہ، ہر تعلق مفاد پرست ہے۔ جس کو جہاں سے فائدہ ملتا ہے وہ اسی کا ہو جاتا ہے۔ جہاں اس کو فائدہ نظر آتا ہے وہ اس کا غلام بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ایسے بندھ جاتا ہے جیسے چولی دامن کا ساتھ ہو ایک کے بنا دوسرا ادھورا۔ یہ سب وقتی رشتے ہوتے ہیں جب تک مطلب ہوتا ہے تب تک ساتھ رہتے ہیں مطلب ختم ہونے کے بعد یہی رشتے اس آگ کی چنگاری کی طرح بھڑکتے ہیں جو انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔


انسان سمجھتا تھا کہ والدین اور بہن، بھائی بہت عظیم رشتے ہوتے ہیں۔ یہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتے، زندگی میں ہمیشہ یہی رشتے کام آتے ہیں اور روح کے فنا ہونے تک ساتھ نبھاتے ہیں۔ لیکن وہ یہاں بھی غلط ثابت ہوگیا۔ اس کی سوچ نے یہاں بھی اس کو دھوکا دے دیا کہ وہ یہ غلط سوچ رہا ہے۔ اس کے ضمیر نے اس کو با خبر کر دیا کہ تم غلطی پر ہو، ضرورت سے زیادہ سوچ رہے ہو۔ بہن، بھائیوں کا تعلق تو بس تب تک جڑا ہوا ہے جب تک والدین حیات ہیں۔ ان کے چلے جانے کے بعد تم صرف تنہا ہو، تمہارا کوئی ساتھ نہیں ہے۔ تمہاری زندگی میں جتنے مرضی کٹھن حالات ہوں گے ان سب کو تم نے تنہا گزارنا ہے۔ تمہارا کسی نے ساتھ نہیں دینا، تمہیں کسی نے نہیں سنمبھالنا، تم اس بھری دنیا میں تنہا ہو، اگر تم مال و دولت رکھتے ہو اپنے بہن، بھائیوں کی آسائشوں کا خیال رکھو گے تب بھی وہ بس مطلب کے لیے تمہارے ساتھ ایک وقت تک رہیں گے۔ جب مطلب ختم تو تمہارا ساتھ بھی ختم ہو جائے گا۔ جب تک تم ان کے مطالبے پورے کرتے رہو گے تب تک وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ بعد میں ہر چیز لے کر بھی تم سے دور ہو جائیں گے۔ ہر کسی کے اپنے الگ راستے ہو جائیں گے۔ بعد میں کوئی کسی کو نہیں پوچھتا۔ کون کہاں ہے کسی کو کسی کا کچھ پتہ نہیں ہوتا ہے؟ یہی تو دنیا کا دستور ہے یہاں کوئی کسی کا اپنا نہیں بنتا ہے۔ ہر رشتہ جھوٹا ہے، ہر رشتے میں بغاوت ہے، سب لوگ مطلب پرست ہیں۔

ایک واحد خوبصورت اور انمول رشتہ والدین کا ہے جو ہمیشہ اپنی اولاد کا ساتھ دیتے ہیں۔ باقی تمام دنیا مفاد پرست ہے۔

انسان دنیا میں تنہا آیا تھا اور اس کو تنہا ہی واپس جانا ہے۔ وہ اپنی ساری زندگی کسی بھی رشتے کی پہچان نہیں کر سکے گا۔ کسی بھی رشتے کو جان نہیں سکے گا اور اپنے اس سوال کے ساتھ ہی اس جہان فانی سے کوچ کر جائے گا لیکن اس کو اس بات کا کبھی جواب نہیں مل سکے گا۔