پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ہماری زندگی کا سب سے خطرناک لفظ: ’’کل‘‘ تحریر: ام عــبــد الــقـہــار

نقطہ نظر

ہماری زندگی میں کچھ نقصان ایسے ہوتے ہیں جن کا احساس فوراً ہوجاتا ہے۔ پیسہ کھو جائے تو افسوس ہوتا ہے، مگر ہم روز اپنی زندگی کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں اور ہمیں اس کا دکھ بھی نہیں ہوتا۔ یہ حصہ ہمارا وقت ہے؛ وہ سرمایہ جسے نہ جمع کیا جاسکتا ہے، نہ ادھار لیا جاسکتا ہے اور نہ واپس خریدا جاسکتا ہے۔

صبح آنکھ کھلتے ہی ہم اپنے لیے کئی وعدے کرتے ہیں۔ آج مطالعہ کریں گے، آج بچوں کو وقت دیں گے، آج اپنی اصلاح کریں گے، آج وہ کام مکمل کریں گے جو ادھورا ہے۔ پھر دن گزرتا ہے، موبائل، غیر ضروری گفتگو اور دوسروں پر تبصرے وقت کھا جاتے ہیں، اور رات کو ہم اپنے ضمیر کو ایک چھوٹا سا جواب دے کر سلا دیتے ہیں: کل کر لیں گے۔ یہی ’’کل‘‘ زندگی کا سب سے بڑا دھوکا بن جاتا ہے۔

ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو بہتر انسان بننا چاہتے ہیں مگر اپنی عادت بدلنے پر آمادہ نہیں؟ علم چاہتے ہیں، مگر روزانہ چند صفحات پڑھنے کی پابندی نہیں کرتے۔ اولاد کی اچھی تربیت چاہتے ہیں، مگر ان کے سوال سننے کی فرصت نہیں نکالتے۔ یہ خواہش اور عمل کے درمیان وہ فاصلہ ہے جسے محض نیک ارادے نہیں، مسلسل کوشش کم کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھا کر انسان کو خسارے سے آگاہ کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی صحت اور فراغت کو ایسی دو نعمتیں قرار دیا جن کے معاملے میں بہت سے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 6412) گویا وقت کی حفاظت صرف انتظامی مہارت نہیں، زندگی کے مقصد سے وفاداری بھی ہے۔ قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ پختہ فیصلہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جائے۔ (آل عمران: 159)

مگر یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ ہر پیچھے رہ جانے والا شخص سست نہیں ہوتا۔ کبھی بیماری، معاشی تنگی، گھریلو ذمہ داریاں اور ناانصافی انسان کی رفتار کم کر دیتی ہیں۔ حقیقی نصیحت وہ ہے جو دشواری کو تسلیم کرے، پھر اس کے اندر ممکن راستہ دکھائے۔ قوتِ ارادی کا مطلب اپنی حدود سے انکار نہیں، اپنی حدود کے اندر درست قدم اٹھانا ہے۔

ایک طالبہ کے پاس پڑھنے کے لیے پورا دن نہیں ہوتا، مگر شاید روز بیس منٹ ہوں۔ ایک ماں اپنے تمام مسائل فوراً حل نہیں کرسکتی، مگر آج اپنے بچے کو پوری توجہ سے سن سکتی ہے۔ ایک معلمہ تدریس میں یکایک کمال حاصل نہیں کرسکتی، مگر ہر سبق کے بعد ایک خامی ضرور درست کرسکتی ہے۔ یہی چھوٹی تبدیلیاں جب مستقل ہوجائیں تو ان کے اثرات بڑے ہوتے ہیں۔ کامیابی اکثر شور مچا کر نہیں آتی، خاموش پابندیوں کے راستے داخل ہوتی ہے۔

ہم دوسروں کی کامیابی کا آخری منظر دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کے پہلے مرحلے سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ اس کے پیچھے چھپی ناکام کوششیں اور مشکل وعدے دکھائی نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم آغاز سے پہلے ہی ہار مان لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط ارادہ وہ نہیں جو کبھی کمزور نہ پڑے، بلکہ وہ ہے جو کمزوری کے بعد دوبارہ سنبھل جائے۔

وقت کی حفاظت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انسان آرام، خاندان اور ضروری خوشیوں کو چھوڑ کر مسلسل کام کرتا رہے۔ نیند، صحت، عبادت، رشتے اور جائز تفریح بھی زندگی کے حق ہیں۔ اصل مسئلہ آرام کرنا نہیں، بے مقصد مصروف رہنا ہے؛ اصل نقصان رکنا نہیں، یہ بھول جانا ہے کہ ہمیں جانا کہاں ہے۔ جو شخص اپنی ترجیحات پہچان لیتا ہے، وہ مصروف دن میں بھی بامعنی لمحات نکال سکتا ہے۔

آج ذرا اپنے آپ سے تین سوال پوچھیے: جس تبدیلی کا میں برسوں سے ذکر کر رہا ہوں، اس کے لیے آج کیا کیا؟ میرے دن کا کون سا حصہ بے مقصد گزر جاتا ہے؟ اگر میری زندگی اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو پانچ سال بعد میں کس مقام پر ہوں گا؟ ان سوالوں کا جواب دوسروں کو دینے کی ضرورت نہیں۔ تنہائی میں خود کو دیا گیا سچا جواب ہی اصلاح کا آغاز ہوسکتا ہے۔

زندگی ہمیں ہر صبح ایک نیا صفحہ دیتی ہے، مگر یہ وعدہ نہیں کرتی کہ ہر صفحے کے بعد ایک اور صفحہ ضرور ملے گا۔ اس لیے توبہ کو، علم کو، محبت بھرے جملے کو، اپنے فرائض کو اور اپنی اصلاح کو غیر معینہ کل کے حوالے نہ کیجیے۔ آج ایک کام چنیں، اسے مکمل کریں، پھر اگلا قدم اٹھائیں۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری عمر تمام ہوجائے اور ہماری زندگی کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ صرف ’’کل‘‘ رہ جائے۔