Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سب سے پہلے پاکستان صرف پاکستان، تحریر:شاہد نسیم چوہدری

نقطہ نظر
shahid naseem

دہشت گردی کے خلاف جنگ، سیاست سے بالاتر قومی ذمہ داری

پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہماری پہلی ترجیح کیا ہے: ریاست، امن، شہریوں کی جان اور پاکستان کی سلامتی یا سیاسی کشمکش؟ سیاسی اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، احتجاج بھی آئینی و جمہوری عمل کا حصہ ہے، مگر جب ملک دہشت گردی جیسے سنگین خطرے طسے دوچار ہو تو ہر سیاسی جماعت، ہر حکومت اور ہر شہری کی پہلی ذمہ داری یہ بن جاتی ہے کہ قومی سلامتی کو سیاسی مفادات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔

یکم اکتوبر 2026ء کو ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس بریفنگ میں دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے، سیاسی رویوں، خیبر پختونخوا میں پولیس کی استعداد اور ریاستی اداروں کے باہمی تعاون سے متعلق اہم نکات سامنے آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی کی سیاست کی قربانی نہیں بن سکتی۔ ان کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اختلافِ رائے ہوسکتا ہے، لیکن اس جنگ پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کے لیے ایک بنیادی سوال ہے۔

آخر ہم کب یہ سمجھیں گے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، جماعتیں بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں، لیڈر بدلتے رہتے ہیں، مگر پاکستان ایک ہی رہتا ہے؟

پاکستان پہلے کیوں؟

اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔

کیونکہ سیاست ہمیں اختلاف کا حق دیتی ہے، پاکستان ہمیں شناخت دیتا ہے۔

سیاست ہمیں اقتدار کی جدوجہد کا راستہ دکھاتی ہے، پاکستان ہمیں ایک مشترکہ گھر دیتا ہے۔

سیاست میں ہم ایک دوسرے کے مخالف ہوسکتے ہیں، لیکن وطن کے معاملے میں ہم ایک قوم ہیں۔

ہمیں کسی شخصیت سے محبت ہو سکتی ہے، کسی جماعت سے وابستگی ہو سکتی ہے، کسی نظریے سے اتفاق ہوسکتا ہے، مگر پاکستان ان سب سے مقدم ہے۔

یہی وہ سوچ ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ریاستی اداروں کے درمیان تعاون، پولیس کی استعداد میں اضافہ اور دہشت گردی کے خلاف واضح قومی پالیسی ناگزیر ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مسئلہ ہے تو تمام متعلقہ فریق اس کے مقابلے میں عملی طور پر آگے کیوں نہیں آتے اور خیبر پختونخوا پولیس کی capacity building پر مزید توجہ کیوں نہیں دی جاتی۔

یہ سوال کسی ایک شخص کے خلاف فردِ جرم نہیں، بلکہ گورننس اور قومی ذمہ داری کا سوال سمجھا جانا چاہیے۔

دہشت گردی اور سیاست کو الگ رکھنا ہوگا

پاکستان میں سیاست کا حق ہر سیاسی جماعت کو حاصل ہے۔ حکومت پر تنقید بھی جمہوریت کا حسن ہے۔ اپوزیشن کا احتجاج بھی جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف قومی کوشش کو سیاسی تنازع سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے مختلف طریقوں پر بحث ہوسکتی ہے، مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کسی کی سیاست کی خاطر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی اتفاقِ رائے کی دستاویز قرار دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ہوگا:

حکومت سے اختلاف دہشت گردی کی حمایت نہیں۔

احتجاج دہشت گردی نہیں۔

اپوزیشن دہشت گردی نہیں۔

لیکن دہشت گردی کی سہولت کاری، اس کے لیے راستہ ہموار کرنا یا اسے کسی بھی شکل میں تحفظ فراہم کرنا ایک الگ اور سنگین معاملہ ہے۔

اس لیے کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت پر ایسے الزامات عائد کیے جائیں تو ان کی بنیاد واضح شواہد اور قانونی عمل پر ہونی چاہیے۔ محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینا بھی درست نہیں، اور حقیقی سہولت کاری کو سیاست کی آڑ میں نظر انداز کرنا بھی قومی مفاد میں نہیں۔

خیبر پختونخوا کا سوال

خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کی سب سے بھاری قیمتوں میں سے ایک ادا کی ہے۔ وہاں کے شہری، پولیس اہلکار، فوجی جوان، قبائلی عمائدین، سیاسی کارکن، طلبہ اور عام خاندان طویل عرصے سے دہشت گردی کے اثرات برداشت کرتے آئے ہیں۔

اس لیے خیبر پختونخوا کو سیاسی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے امن، پولیس کی مضبوطی، روزگار، تعلیم، صحت اور مؤثر حکمرانی کا مرکز بنانا چاہیے۔

صوبائی حکومت کی طرف سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے وسائل بڑھائے گئے ہیں، جبکہ جدید سازوسامان کی فراہمی میں وفاقی اداروں کی جانب سے تاخیر کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ یعنی معاملہ یک طرفہ نہیں؛ وفاق اور صوبے دونوں کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار اور ذمہ داریوں کا جواب دینا ہوگا۔

یہی جمہوریت کا راستہ ہے: الزام سے زیادہ جواب دہی، بیان سے زیادہ عمل اور سیاسی نعرے سے زیادہ قومی مفاد۔

لانگ مارچ یا قومی امن؟

ان دنوں خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف مجوزہ لانگ مارچ بھی سیاسی منظرنامے کا اہم موضوع ہے۔ رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف نے مارچ کی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کی ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کوشش بھی سامنے آئی ہے۔

یہاں بھی اصول بالکل واضح ہونا چاہیے:

پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن تشدد، توڑ پھوڑ، سرکاری و نجی املاک کو نقصان، شاہراہوں کی بندش، شہریوں کو یرغمال بنانا یا قانون ہاتھ میں لینا کسی صورت جمہوری حق کا حصہ نہیں۔

اسی طرح ریاست کی ذمہ داری بھی ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے قانونی حقوق کا احترام کرے، غیر ضروری تصادم سے بچے اور قانون کا اطلاق بلاامتیاز کرے۔

ملک کو انتشار سے بچانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں؛ سیاسی جماعتوں، کارکنوں، انتظامیہ، پولیس، میڈیا اور عام شہری سب کی ذمہ داری ہے۔

لانگ مارچ اگر آئینی، پرامن اور قانون کے دائرے میں ہو تو سیاسی اظہار کا ذریعہ ہوسکتا ہے؛ لیکن اگر کوئی بھی احتجاج تشدد اور انارکی کی طرف جاتا ہے تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں بلکہ پاکستان کو ہوتا ہے۔

یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا نہیں

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان ایک دوسرے کو غدار، دشمن، بزدل یا دہشت گرد قرار دینے کے بجائے دلیل، ثبوت اور آئین کی زبان استعمال کریں۔

جو حکومت میں ہے وہ بھی جواب دہ ہے۔

جو اپوزیشن میں ہے وہ بھی جواب دہ ہے۔

جو صوبے میں حکومت کر رہا ہے وہ بھی جواب دہ ہے۔

جو وفاق میں حکومت کر رہا ہے وہ بھی جواب دہ ہے۔

اور سب سے بڑھ کر ہم سب پاکستان کے سامنے جواب دہ ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتی۔ اس کے لیے مضبوط پولیس، مؤثر عدالتی نظام، بہتر انٹیلی جنس، تعلیم، روزگار، اچھی حکمرانی، سرحدی نظم و نسق اور عوام کا اعتماد ضروری ہے۔

ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد ہی دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار ہے۔

محبت پاکستان سے ہو، شخصیتوں سے نہیں

آج ضرورت ایک ایسے قومی شعور کی ہے جس میں ہم یہ کہیں:

ہم کسی شخصیت کے غلام نہیں۔

ہم کسی جماعت کے دشمن نہیں۔

ہم کسی سیاسی نعرے کے اسیر نہیں۔

ہم پاکستان کے شہری ہیں۔

ہم اختلاف کریں گے، مگر دشمنی نہیں کریں گے۔

ہم احتجاج کریں گے، مگر انتشار نہیں پھیلائیں گے۔

ہم حکومت سے سوال کریں گے، مگر ریاست کو کمزور نہیں کریں گے۔

ہم اپنے حقوق مانگیں گے، مگر دوسروں کے حقوق پامال نہیں کریں گے۔

ہم سیاست کریں گے، مگر پاکستان کو سیاست کی نذر نہیں کریں گے۔

یہی حقیقی حب الوطنی ہے۔

ایک واضح قومی پیغام

دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے جوانوں کو یہ پیغام ملنا چاہیے کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

شہید پولیس اہلکار کے خاندان کو یہ یقین ملنا چاہیے کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

شہید فوجی کے والدین کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ملک ان کے بیٹے کو یاد رکھتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے شہری کو یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ اس کا امن اسلام آباد کی سیاست سے زیادہ اہم ہے۔

بلوچستان کے شہری کو یہ یقین ملنا چاہیے کہ اس کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی لاہور، کراچی، فیصل آباد یا اسلام آباد کے شہری کی۔

اور ہر سیاسی جماعت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے، حکومت دوبارہ بنائی جاسکتی ہے، انتخابات دوبارہ لڑے جاسکتے ہیں؛ لیکن اگر وطن کا امن تباہ ہوگیا تو اس کی قیمت پوری قوم ادا کرے گی۔

اسی لیے آج میرا پیغام کسی شخصیت کے نام نہیں، کسی جماعت کے نام نہیں، کسی حکومت کے نام نہیں۔

میرا پیغام صرف پاکستان کے نام ہے:

سب سے پہلے پاکستان۔

صرف پاکستان۔

اور بس مقدم پاکستان۔

یہ محبت کسی شخصیت، جماعت یا سیاست سے بالا تر ہے۔

ہمیں اختلاف چاہیے، مگر دشمنی نہیں۔

ہمیں سیاست چاہیے، مگر انتشار نہیں۔

ہمیں احتجاج چاہیے، مگر انارکی نہیں۔

ہمیں آزادیٔ اظہار چاہیے، مگر جھوٹ اور نفرت کا بازار نہیں۔

ہمیں مضبوط جمہوریت چاہیے، مگر کمزور ریاست نہیں۔

ہمیں مضبوط ریاست چاہیے، مگر شہری حقوق کی قیمت پر نہیں۔

اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں ایک واضح قومی اصول چاہیے:

جو بھی دہشت گردی کے خلاف ہے، وہ امن کے ساتھ کھڑا ہو؛ اور جو بھی دہشت گردی کی حقیقی سہولت کاری کرے، اس کے خلاف قانون بلاامتیاز حرکت میں آئے۔

پاکستان کی سرزمین کسی دہشت گرد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہونی چاہیے، اور نہ ہی کسی سیاسی تصادم کو ایسا ماحول پیدا کرنے دینا چاہیے جس سے دہشت گرد فائدہ اٹھائیں۔

آج ہمیں ایک دوسرے کے خلاف نہیں، پاکستان کے دشمنوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

ہماری پہلی پہچان سیاسی نہیں۔

ہماری پہلی پہچان صوبائی نہیں۔

ہماری پہلی پہچان جماعتی نہیں۔

ہماری پہلی پہچان پاکستانی ہے۔

اور یہی وہ شعور ہے جو پاکستان کو مضبوط کرے گا۔

پاکستان زندہ باد — امن، آئین، جمہوریت اور قومی یکجہتی پائندہ باد۔