سفری بیماریاں اور ان کا حل،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
سفر انسان کی فطرت میں شامل ایک ایسی جستجو ہے جو جہاں نئی بستیوں، نئے موسموں اور نئے تجربات سے روشناس کراتی ہے وہیں انسانی جسم اور ذہن کو غیر مانوس کیفیات کے سامنے بھی لا کھڑا کرتی ہے۔ قدیم زمانوں میں سفر پیدل یا جانوروں کی پشت پر ہفتوں اور مہینوں میں طے ہوتا تھا، مگر جدید دور کے تیز رفتار ذرائع مواصلات نے زمین، فضا اور سمندر کے فاصلے سمیٹ کر چند گھنٹوں اور دنوں میں قید کر دیے ہیں۔ سہولتوں کے اس انبار کے باوجود انسانی جسم اب بھی قدرتی رفتار اور توازن کا پابند ہے۔ جب انسان اپنی معمول کی حدود سے نکل کر گاڑی، طیارے یا بحری جہاز میں بیٹھتا ہے تو جسم کا اندرونی توازن حرکت کے مختلف جھٹکوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی طبی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں جنہیں مجموعی طور پر سفری بیماریاں کہا جاتا ہے۔
زمینی سفر انسان کا سب سے عام اور روزمرہ کا تجربہ ہے، لیکن کار، بس یا ٹرین کا طویل فاصلہ اکثر مسافروں کے لیے ایک کٹھن آزمائش بن جاتا ہے۔ گاڑی کے موڑ کاٹنے اور اسپیڈ بریکرز سے گزرنے کے دوران سب سے زیادہ پیش آنے والی تکلیف موشن سکنس یعنی سفری متلی ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کان کا اندرونی حصہ جو جسمانی توازن قائم رکھتا ہے، گاڑی کی رفتار کو محسوس کرتا ہے لیکن آنکھیں گاڑی کے ساکن اندرونی ماحول کو دیکھ کر دماغ کو متضاد پیغام بھیجتی ہیں۔ اس کشمکش کے باعث دماغ الجھن کا شکار ہو جاتا ہے اور نتیجہ جی متلانے، الٹی آنے، چکر اور ٹھنڈے پسینے چھوٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گاڑی کے تنگ کیبن میں گھنٹوں مسلسل ایک ہی پوزیشن میں جمے رہنے سے خون کی روانی سست پڑ جاتی ہے، جس سے پٹھوں کا کھچاؤ، گردن و کمر کا درد اور پاؤں پر ورم آ جاتا ہے۔ گاڑی کے ایئر کنڈیشنر کی خشک فضا پیاس کا احساس کم کر کے پانی کی کمی کا باعث بنتی ہے، جبکہ راستے میں ڈھابوں اور غیر معیاری ہوٹلوں کے تلے ہوئے کھانے گیس، تیزابیت، فوڈ پوائزننگ اور سفری اسہال جیسے مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔
جب انسان زمین چھوڑ کر فضا کی وسعتوں میں پرواز کرتا ہے تو اس کے سامنے ایک بالکل الگ دنیا کھلتی ہے۔ ہوائی جہاز کا سفر تیز ترین تو ہے مگر یہ انسانی جسم پر ایک مختلف نوعیت کا بوجھ ڈالتا ہے۔ طویل بین الاقوامی پروازوں میں سب سے بڑا مسئلہ جیٹ لیگ کہلاتا ہے، جو تیزی سے ٹائم زون تبدیل ہونے پر انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی کو درہم برہم کر دیتا ہے، جس سے مسافر شدید تھکن، نیند کی کمی اور ذہنی خلفشار کا شکار رہتا ہے۔ جہاز کے اڑان بھرنے اور نیچے اترنے کے مراحل میں کیبن پریشر یعنی ہوا کا دباؤ تیزی سے بدلتا ہے، جس سے کانوں کے پردے کے پیچھے شدید کھنچاؤ، سنسناہٹ اور ناقابل برداشت درد ہو سکتا ہے جسے ایئر بیروٹروما کہا جاتا ہے۔ چھ یا آٹھ گھنٹے سے زیادہ لمبی فلائٹس میں نشست پر جمے رہنے کا سب سے خطرناک پہلو ٹانگوں کی گہری رگوں میں خون کا لوتھڑا بن جانا ہے، جسے طبی اصطلاح میں ڈی وی ٹی کہتے ہیں، جو حرکت کرنے پر پھیپھڑوں یا دل کی طرف جا کر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاز کی خشک اور بار بار فلٹر ہونے والی ہوا جلد، ناک اور آنکھوں کی نمی چھین لیتی ہے اور ہلکے ہچکولے ایئر سکنس کا سبب بنتے ہیں۔
سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے کیا جانے والا سفر اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک بے پناہ بے چینی بھی لاتا ہے۔ بحری جہازوں یا چھوٹی کشتیوں پر لہروں کے رحم و کرم پر ہونا انسانی توازن کو بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ سمندر کی مسلسل اونچ نیچ اور جھولوں سے پیدا ہونے والی سی سکنس زمینی متلی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہوتی ہے۔ اس میں انسان کا سر اس بری طرح چکراتا ہے کہ کھڑا ہونا محال ہو جاتا ہے، متواتر قے سے جسم نڈھال اور چہرہ پیلا زرد پڑ جاتا ہے۔ سمندری نمکین فضا بعض اوقات بھوک اڑا دیتی ہے اور پیٹ میں شدید گیس بھر جاتی ہے، جبکہ کھلے عرشے پر طویل وقت گزارنے سے سمندر کی سطح سے منعکس ہونے والی تیز دھوپ جلد کو بری طرح جلا کر سن برن کا شکار بنا دیتی ہے۔ طویل بحری سفر سے خشکی پر لوٹنے والے مسافروں کو بعض اوقات کئی دن تک زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جسے خشکی کے چکر کہا جاتا ہے۔
سفر کی خوشیوں کو بیماری کی تلخیوں سے بچانے کے لیے دانشمندی اور بروقت احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں۔ ہر سفر کا بنیادی سنہری اصول یہ ہے کہ مسافر روانگی سے پہلے خود کو ذہنی و جسمانی طور پر تیار کرے۔ گاڑی یا بس میں بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ وہ سفر کے دوران موبائل فون پر نظریں جمانے یا کتاب پڑھنے سے مکمل پرہیز کریں اور سامنے کے شیشے سے دور افق کی طرف دیکھیں، کھڑکی سے تازہ ہوا کا جھونکا اندر آنے دیں اور اگر متلی کا رجحان ہو تو ادرک کا ٹکڑا منہ میں رکھیں یا لیموں سونگھیں۔ ہر دو تین گھنٹے بعد رک کر چند منٹ کی چہل قدمی پٹھوں کو اکڑن اور خون کے جمنے سے بچاتی ہے۔ ہوائی سفر میں سوار ہونے سے پہلے ہلکا پھلکا کھانا کھایا جائے، دورانِ پرواز سادہ پانی زیادہ پیا جائے اور چائے، کافی یا میٹھے مشروبات سے پرہیز رکھا جائے، جبکہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے نازک لمحات میں ٹافی چوسنا، چیونگم چبانا یا بار بار نگلنے کا عمل دہرانا کانوں کو اندرونی دباؤ کے نقصان اور شدید درد سے محفوظ رکھتا ہے۔ طویل فلائٹ میں اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے ایڑیوں اور پنجوں کو گول دائروں میں گھمانا اور گلیارے میں وقفے وقفے سے چہل قدمی کرنا دورانِ خون کو رواں دواں رکھتا ہے۔ سمندری سفر پر جانے والوں کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ جہاز کے بالکل درمیانی حصے میں نشست یا کیبن کا انتخاب کریں جہاں لہروں کا تلاطم اور جھٹکے سب سے کم اثر انداز ہوتے ہیں، اور بند کمروں میں بے چینی بڑھنے پر کھلی فضا اور عرشے کی تازہ ہوا کا رخ کریں۔
کسی بھی سفر پر روانہ ہوتے وقت چند بنیادی اشیاء کا پاس ہونا ناگزیر ہے تاکہ سفر پرسکون اور محفوظ رہے۔ سب سے پہلے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ٹکٹ، نقدی اور اے ٹی ایم کارڈ کو واٹر پروف پاؤچ میں محفوظ رکھیں۔
ذاتی و روزمرہ کی ادویات، سفر پر نکلنے سے قبل ایک باقاعدہ فرسٹ ایڈ کٹ کا پاس ہونا ہر مسافر کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، جس میں ڈاکٹر کے مشورے سے متلی روکنے کی گولیاں، پیٹ درد اور بدہضمی کی دوائیں، درد کش گولیاں، نمکیات کی کمی پوری کرنے والا او آر ایس، اینٹی الرجک ادویات، سینیٹائزر اور پٹیاں لازماً موجود ہوں۔ بلڈ پریشر یا شوگر جیسے دائمی امراض میں مبتلا افراد اپنی باقاعدہ دوائیں ہینڈ بیگ میں رکھیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی میں تاخیر نہ ہو۔ مسافر کو چاہیے کہ وہ راستے کے کھانوں میں کچی سبزیوں، کٹے ہوئے پھلوں اور کھلے پانی سے مکمل احتیاط برتے اور صرف سیل بند بوتل یا ابلا ہوا پانی استعمال کرے۔ سفر کی کامیابی دراصل اس شعور پر منحصر ہے کہ انسان فطرت کے اصولوں کو نظر انداز نہ کرے، اپنے جسم کی پکار کو سنے اور لاپروائی کے بجائے پیشگی احتیاط کو اپنا رفیق بنائے تاکہ سفر کی ہر راہ پرخطر ہونے کے بجائے صحت، سلامتی اور مسرت کی نوید ثابت ہو۔
مزید پڑھیں




