شادیاں آسان یا دکھاوے کا میلہ؟تحریر :سدرہ قیوم
نقطہ نظر
کبھی شادی دو دلوں اور دو خاندانوں کے درمیان ایک سادہ سا عہد ہوا کرتی تھی۔ محلے کی مسجد میں نکاح ہوتا، چھوارے بٹتے، دعائیں دی جاتیں اور رخصتی ہو جاتی۔ آج کسی متوسط گھرانے میں شادی کا ذکر چھڑ جائے تو ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں رہا کہ رشتہ کیسا ہے، سوال یہ ہے کہ بجٹ کتنا ہے۔
ہم نے شادی کو ایک مقدس بندھن سے اٹھا کر ایک "ایونٹ" بنا دیا ہے، اور ایونٹ بھی ایسا جس کی کامیابی کا پیمانہ مہمانوں کی تعداد، کھانوں کی اقسام اور ہال کی چمک دمک ہے۔ مہندی، ڈھولکی، بارات، ولیمہ، اور اب پری ویڈنگ شوٹ، برائڈل شوٹ اور نجانے کیا کیا۔ ہر تقریب کے لیے نیا جوڑا، نیا زیور، نیا فوٹوگرافر۔ دلہن کا جوڑا لاکھوں میں اور ہال کا کرایہ لاکھوں میں۔ جس دین نے نکاح کو آسان بنانے کا حکم دیا تھا، اسی کے ماننے والوں نے اسے مشکل ترین کام بنا ڈالا ہے۔
اس دکھاوے کی جڑیں ہمارے اجتماعی احساسِ کمتری میں ہیں۔ ہم شادی اپنے لیے نہیں، "لوگوں" کے لیے کرتے ہیں۔ لوگ کیا کہیں گے؟ فلاں کی بیٹی کی شادی میں تو پانچ سو افراد تھے، ہم دو سو پر کیسے اکتفا کریں؟ اس ایک جملے نے کتنے والدین
کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیا، کتنے گھر بیچ دیے گئے اور کتنی بیٹیاں رشتوں کی راہ تکتے تکتے بوڑھی ہو گئیں۔ وہ "لوگ" جن کے خوف سے ہم اپنی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں، شادی کے اگلے ہفتے کھانے کی تعریف یا برائی کر کے بھول جاتے ہیں، مگر قرض برسوں پیچھا کرتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔ اب شادی کی اصل تقریب سے زیادہ اہم اس کی ویڈیو اور تصاویر ہیں۔ دلہا دلہن کی انٹری کے لیے ریہرسل ہوتی ہے، کیمرے کے زاویے طے ہوتے ہیں اور ریلز کے لیے الگ لمحات تخلیق کیے جاتے ہیں۔ جو لمحہ جیا جانا چاہیے تھا، وہ فلمایا جا رہا ہوتا ہے۔ نتیجتاً ہر شادی دوسری سے بڑی دکھائی دینے کی دوڑ بن جاتی ہے، اور اس دوڑ میں سب سے پہلے سکون ہار جاتا ہے۔
اس کا سب سے تلخ پہلو جہیز اور لین دین کی وہ رسمیں ہیں جو آج بھی "تحفے" کے نام پر زندہ ہیں۔ لڑکی والے سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فرنیچر بھی دے، زیور بھی دے اور بارات کی خاطر مدارات بھی شایانِ شان کرے۔ ہم نے بیٹی کو رحمت کہا، مگر اس رحمت کے ساتھ جڑے اخراجات کو زحمت بنا دیا۔ یہی سوچ بہت سے والدین کو بیٹی کی پیدائش پر بھی پریشان کر دیتی ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، اور انصاف کا تقاضا ہے کہ اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔ شادی خوشی کا موقع ہے اور خوشی منانا کوئی جرم نہیں۔ رشتے داروں کا اکٹھا ہونا، ہنسی مذاق، گیت اور رنگ ہماری ثقافت کا حسن ہیں۔ مسئلہ خوشی میں نہیں، اس خوشی کو مقابلے اور نمود میں بدل دینے میں ہے۔ سادگی کا مطلب بدمزگی نہیں، اور کفایت کا مطلب کنجوسی نہیں۔
حل کہیں باہر سے نہیں آئے گا۔ جب تک ہم میں سے کوئی پہل نہیں کرے گا، یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ صاحبِ حیثیت لوگ اگر سادہ شادی کی مثال قائم کریں تو متوسط طبقے کے لیے سہولت پیدا ہوتی ہے۔ علما اور منبر و محراب سے نکاح کی آسانی کا پیغام صرف تقریر نہیں بلکہ عملی نمونے کے ساتھ آنا چاہیے۔ نوجوان بھی اپنے والدین سے کھل کر کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں شادی چاہیے، تماشا نہیں۔ اور قانون سازی کے ذریعے ون ڈش اور وقت کی پابندی جیسے اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ محض قانون بنانا کافی نہیں ہوتا۔
آخر میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ شادی کی اصل کامیابی کیا ہے؟ وہ ایک شام کی روشنیاں نہیں، بلکہ برسوں پر پھیلا ہوا وہ رشتہ ہے جو محبت، احترام اور برداشت پر کھڑا ہوتا ہے۔ جو جوڑا قرض کے بوجھ تلے اپنی زندگی کا آغاز کرے، اس کے لیے پہلا امتحان ہی مالی دباؤ ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی اولاد کا بھلا چاہتے ہیں تو انہیں ایک شاندار ہال نہیں، ایک پرسکون آغاز دیں۔
شادیاں آسان تب ہوں گی جب ہم دوسروں کو دکھانے کی بجائے اپنے رب اور اپنے بچوں کے سامنے سرخرو ہونے کی فکر کریں گے۔
مزید پڑھیں





