اسے سب صنفِ نازک کہتے تھے۔مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ نازک چیز ہی سب سے زیادہ بوجھ کیوں اٹھا لیتی ہے۔
فرحت کی عمر چالیس برس تھی۔ نہ اس کے دروازے پر نام کی تختی تھی، نہ دیوار پر کوئی رنگ۔ بس ایک کیل پر بچوں کے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک کاغذ لٹک رہا تھا، ٹیڑھی لکیروں میں لکھا تھا "امی کا گھر"۔
اس کا شوہر پانچ برس پہلے ایک حادثے میں اسے دو بچوں کے ساتھ اسی گھر میں چھوڑ گیا تھا۔ محلے کی عورتوں نے اس دن کہا تھا، ہائے بیچاری، صنفِ نازک ہے، اکیلی کیسے گزارہ کرے گی، ٹوٹ جائے گی۔
وہ عورت نہیں ٹوٹی۔ وہ اندر سے ٹوٹی ضرور تھی، مگر باہر سے جُڑی رہی۔
وہ صبح چار بجے اٹھتی ہے۔ جس وقت سارا محلہ خواب میں ہوتا ہے، اس کے گھر کے چولہے سے دھواں اٹھ رہا ہوتا ہے۔ ٹھنڈے پانی سے آٹا گوندھتے ہوئے اس کے ہاتھ سرخ ہو جاتے ہیں، مگر وہ آہ نہیں کرتی۔ بچوں کی وردیاں استری کرتی ہے، ان کے بستوں میں رات کی بچی ہوئی روٹی رکھ دیتی ہے اور خود بھوکی رہ جاتی ہے۔
سات بجتے ہی وہی عورت جسے دنیا نازک کہتی ہے، ایک چھوٹے سے اسکول میں آیا بن جاتی ہے۔ وہاں وہ دوسروں کے بچوں کی ناک صاف کرتی ہے، ان کے جوتوں کے تسمے باندھتی ہے، ان کے آنسو پونچھتی ہے۔ اس کی اپنی آنکھوں میں جو تھکن ہے، اسے کوئی نہیں دیکھتا۔
دوپہر کو جب وہ واپس آتی ہے تو اس کی کمر جھکی ہوئی ہوتی ہے، مگر وہ سیدھی ہو کر پھر سلائی مشین پر بیٹھ جاتی ہے۔ کھڑ کھڑ کی آواز شام تک آتی رہتی ہے۔ محلے کی عورتیں آتی ہیں، باجی ذرا میری قمیض کا گلا ٹھیک کر دو۔ وہ سب کا کر دیتی ہے۔ اجرت مانگتے ہوئے اس کی آواز اتنی آہستہ ہو جاتی ہے جیسے وہ بھیک مانگ رہی ہو۔
رات کو جب دونوں بچے سو جاتے ہیں، تو یہ صنفِ نازک اپنے گھٹنوں کے درد کو دبا کر فرش پر لیٹ جاتی ہے۔ بچوں کی پھٹی ہوئی کتابوں سے ان کا سبق یاد کرتی ہے، تاکہ صبح وہ انہیں سمجھا سکے کہ بیٹا، محنت کرو گے تو بڑے آدمی بنو گے۔
ایک دن اس کا تیرہ سالہ بیٹا اسکول سے روتا ہوا آیا۔ اس کے جوتے کا تلا نکل گیا تھا، سارے لڑکوں نے اس کا مذاق اڑایا تھا۔
فرحت نے اس دن کچھ نہیں کہا، بس بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ رات کو جب بچے سو گئے تو اس نے اپنی اکلوتی الماری کھولی۔ اس میں ایک ہی نیا جوڑا تھا، جو اس نے اپنی چھوٹی بہن کی شادی کے لیے بڑے ارمان سے رکھا تھا۔ اس نے اس جوڑے کو تہہ سے نکالا، اسے چوما، اور واپس رکھ دیا۔اگلی صبح وہ جوڑا لے کر بازار گئی اور بیچ آئی۔ شام کو بیٹے کے لیے نئے جوتے لے آئی۔ بیٹے نے جوتے پہنے تو اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ اس رات ماں ننگے پاؤں صحن میں پھر رہی تھی، اور اپنے پرانے دوپٹے سے اپنے پاؤں کی دھول جھاڑ رہی تھی۔
ایک شام میں نے اس سے پوچھا، فرحت، تم تھکتی نہیں ہو؟ تمہارا دل نہیں کرتا کہ سب چھوڑ چھاڑ کر کہیں چلی جاؤ؟
وہ دیر تک چپ رہی۔ پھر مسکرائی۔ اس کی آنکھوں میں سمندر تھا اور ہونٹوں پر صحرا۔
بولی، تھکتی ہوں، مہوش باجی، بہت تھکتی ہوں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے اسی چولہے کے پاس بیٹھ کر جی بھر کے رو لوں، اتنا رو لوں کہ اندر کا سارا بوجھ نکل جائے۔
پھر سوچتی ہوں، اگر میں رو پڑی تو میرے بچے کس کندھے پر سر رکھ کر روئیں گے؟ اللہ نے عورت کو نازک بنایا ہے، کمزور نہیں بنایا۔ مرد کو اللہ نے طاقت دی ہے، عورت کو برداشت دی ہے۔ مرد گر جائے تو چوٹ کھاتا ہے، عورت گر جائے تو خاک بن کر پھر اٹھ جاتی ہے۔
نازک کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ نازک کا مطلب یہ ہے کہ وہ ٹوٹ کر بھی جڑی رہتی ہے۔ وہ بکھر کر بھی اپنے گھر کو سمیٹے رکھتی ہے۔
اس دن مجھے سمجھ آیا، صنفِ نازک کانچ کی طرح نازک نہیں ہوتی، وہ خوشبو کی طرح نازک ہوتی ہے۔ جو دکھائی نہیں دیتی، مگر پورے گھر کو مہکا دیتی ہے۔ جو ہاتھ میں نہیں آتی، مگر نہ ہو تو گھر قبرستان لگتا ہے۔
فرحت جیسی عورتیں ہمارے آس پاس ہی ہوتی ہیں۔ کسی کے گھر میں ماں کے روپ میں، کسی کے گھر میں بہن کے، کسی کے گھر میں بیوی کے، کسی کے گھر میں بیٹی کے روپ میں۔ وہ صبح سے شام تک جلتی ہیں، مگر کسی سے شکایت نہیں کرتیں۔ ہم سمجھتے ہیں وہ مضبوط ہیں، اس لیے ہم ان پر اور بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہیں۔ ان کا بھی دل دکھتا ہے، وہ بھی تھکتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مرد تھک کر باہر جا کر بیٹھ جاتا ہے، اور عورت تھک کر وضو کر کے مصلے پر بیٹھ جاتی ہے، تاکہ اس کے آنسو کوئی نہ دیکھ سکے۔
یہی صنفِ نازک ہے، یہی وہ مضبوط چٹان ہے جس پر پورا خاندان کھڑا ہوتا ہے، اور چٹان کبھی نہیں کہتی کہ مجھ پر کتنا بوجھ ہے۔
مزید پڑھیں




