Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بورڈ امتحانات میں سرکاری سکولوں کے خراب نتائج،تحریر: عابد محمود عابد

abidmabid

یہ صرف حالیہ نہم کے بورڈ امتحانات کے نتائج کی بات نہیں بلکہ گذشتہ ایک دہائی سے پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج بتدریج خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں ، ہاں یہ ہے کہ یہ جو ابھی جماعت نہم کا رزلٹ آیا ہے اس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے اور یہ سوال اب ہر جگہ گردش کر رہا ہے کہ یہ کون سی وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں ، ان سوالوں کا ایک جواب تو بچے بچے کی زبان پر ہے کہ جو گذشتہ کچھ سالوں سے ارباب اختیار نے تعلیمی سال کو بہت زیادہ مختصر کر دیا ہے ، یہی خراب نتائج کی اصل وجہ ہے ، یقینی طور یہ بات بھی ٹھیک ہے کیونکہ پچھلے کچھ سالوں میں گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی تعداد بھی کہیں زیادہ بڑھادی گئی ہے اور پھر کبھی سموگ ، کبھی سیلاب اور کبھی جنگ کے نام پر بھی چھٹیوں کی نئی نئی قسمیں متعارف کروائی گئی ہیں ، تعلیمی سال کا مختصر ہونا یقینی طور پر خراب نتائج کی ایک بڑی وجہ تو ہے لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ چھٹیاں تو نجی تعلیمی اداروں میں بھی ہوتی ہیں تو نتائج صرف سرکاری سکولوں کے ہی کیوں خراب آتے ہیں ، نجی تعلیمی اداروں کے نتائج تو ٹھیک ٹھاک آرہے ہیں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھٹیوں کی وجہ کے ساتھ ساتھ خراب نتائج کی کئی اور وجوہات بھی ہیں ، انہی دیگر وجوہات کا احاطہ میں اس تحریر میں کرنے کی کوشش کروں گا ،

ایک بات ہے کہ جب سے سرکاری سکولوں کے سربراہان کو ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ آپ نے ہر سال سکول میں اتنے داخلے یقینی بنانے ہیں تو تب سے بغیر کسی قواعد و ضوابط کے داخلے کرنا تو ایک معمول کی بات بن گئی ہے ، کئی سرکاری سکولوں میں اب کسی دوسرے سکول سے جماعت چہارم سے پاس ہوکر آنے والے بچے کو براہ راست جماعت ششم میں داخل کر لیا جاتا ہے ، ظاہر ہے جب ایک بچہ ڈائریکٹ جماعت چہارم سے جماعت ششم میں جائے گا تو اسکی تعلیمی قابلیت پر ایک منفی اثر تو پڑے گا ، پھر دیکھا دیکھی بہت سے والدین اپنے بچوں کو جمپ لگوا کر اگلی سے اگلی کلاس میں بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ، اس طرح پھر بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر براہ راست منفی اثر پڑتا ہے ،

ایک اور بات یہ بھی کہ کچھ سالوں سے سرکاری سکولوں میں جو سکول کے اندر امتحانات لیے جاتے ہیں ، ان میں پاس اور فیل ہونے کا تصور ختم کردیا گیا ہے اور سالانہ امتحان میں شریک ہونے والے ہر بچے کو اگلی کلاس میں بٹھا دیا جاتا ہے ، جماعت ہشتتم تک یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے اور پھر جب بچہ جماعت نہم میں پہنچتا ہے تو بورڈ کے امتحانات میں اسکو پاس اور فیل ہونے کے نظام کا سامنا ہوتا ہے اور چونکہ جماعت ہشتم تک فیل نہ ہونے کی وجہ سے نالائق بچے بھی جماعت نہم کے بورڈ کے امتحانات دے رہے ہوتے ہیں تو پھر نتیجہ خراب آنے کا چانس بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہی پچھلے سالوں سے لگاتار ہورہا ہے ،
ایک دور تھا کہ بورڈ کے امتحانات میں بڑی بڑی ساری پوزیشنز گورنمنٹ سکولوں کے کھاتے میں آتی تھیں لیکن اب ایسا کیوں نہیں ہے ؟
محکمہ تعلیم پنجاب کے ارباب اختیار کو اس بارے میں سوچنا چاہیے ، کیا گورنمنٹ سکولوں میں تعلیم کا معیار گرگیا ہے یا جو اوپر وجوہات بیان کی گئی ہیں ، وہی قابل غور ہیں ؟
یہ سب سوالات توجہ طلب ہیں اور خامیوں کو دور کرکے دوبارہ پنجاب کے سرکاری سکولوں کے بورڈ کے امتحانات کے نتائج کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ،