سیرت رسول (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اور خواتین کے حقوق ،تحریر: شگفتہ خان
نقطہ نظر
خالق کائنات نے جب یہ کائنات خلق کی تو انسان کی ہدایت کے لیے ہر دور میں انبیاء کرام آتے رہے۔ یہ سلسلہ جو جناب آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا۔ اس کا اختتام اللہ نے اپنے" محبوب" پر کیا۔ نبوت کی جو عمارت کھڑی کی تھی اس کی آخری اینٹ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بن کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان و عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پہلے جو انبیاء کرام آئے۔ وہ اپنے مخصوص علاقے اور لوگوں کے لئے آئے لیکن اللہ تعالی نے اپنے محبوب کو پوری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ اس وقت کی مخلوق خدا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنے والی نسلوں کے لئے بھی " رحمتہ للعالمین " بن کر دنیا میں تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس تمام انبیاء کرام کی خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ رب کائنات نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم کیا تو آپ کو قیامت تک سب کےلئے " رحمتہ اللعالمین " بنا کر بھیجا۔ محبوب خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم رحمت کا اعلی ترین نمونہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رحمت و شفقت ہر مخلوق کے لئے تھی۔ انسان پھر وہ مسلمان ہوں یا کافر۔ حیوان، چرند، پرند حتی کہ حشرات الارض بھی مبرا نہ تھے۔ انسان کے بچوں کو پیار کرتے تو چڑیا کے بچوں کے لئے بھی دل پسیجتا تھا۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جہاں سب کےلئے " رحمتہ للعالمین " تھے تو پھر اس عورت کو کیسے بھول سکتے تھے جو دور جاہلیت میں مظلوم ترین ہستی تھی۔ بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ وہ ظلم و ستم روا رکھا جاتا تھا کہ انسانیت شرما جائے۔میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عورت کو معاشرے میں عزت و وقار، حقوق اور بلند مقام عطا کیا۔ آپ نے ماں، بیٹی، بہن، بیوی ہر رشتے کو ایک الگ پہچان، مرتبہ اور حقوق عطا کئے۔ ہر رشتے کو عزت و احترام دیا اور پھر عمل بھی کرکے دکھایا۔ بیٹی کی اچھی تربیت جسے لوگ بوجھ سمجھتے تھے۔ اللہ کے نزدیک اس عمل کو احسن قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی نسل بیٹی سے چلی۔ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ دربار میں تشریف لاتیں تو آپ کھڑے ہو کر بتاتے کہ بیٹی کا رتبہ کیا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
" فاطمہ زہرا سلام اللہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، پس جس نے اسے ناراض ( یا تکلیف دی) کیا، اس نے مجھے ناراض( یا تکلیف دی) کیا۔" جنت میں عورتوں کی سرداری جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ کے حصے میں آئی۔ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ اتنی محبت کی آپ کو " ام ابیھا " کا لقب ملا۔ آپ اپنے والد کی بھی ماں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیٹی کی تربیت ایسے کی کہ وہ باپ سے مشابہت رکھتی تھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں کہ " میں نے چال ڈھال، عادات و اطوار اور اٹھنے بیٹھنے میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔"
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عقد جناب خدیجہ علیہ السلام سے ہوا جو دور جاہلیت میں بھی " طاہرہ" کے لقب سے جانی جاتی تھیں۔ جناب خدیجہ علیہ السلام نے نکاح کا پیغام بھیج کر عورت کا مقام بتا دیا۔ بیوی کے روپ میں جناب خدیجہ علیہ السلام کی شان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس وقت لوگوں نے میرا انکار کیا وہ مجھ پر ایمان لائیں، جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا انھوں نے میری تصدیق کی، جس وقت لوگوں نے مجھے محروم کیا انھوں نے مجھے اپنے مال میں شریک کیا اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی۔"
آپ کے بعد اور شادیاں بھی کیں تو سب کے حقوق پورے کئے۔ شوہروں کو اپنی بیوی سے اچھا برتاو کرنے کی تاکید کی۔ اسلام نے عورت کو وراثت کا حصہ دار بنایا۔ حق مہر اور اپنی ذاتی جائیداد بنانے کا حق دیا۔ خود صحابیات کو تعلیم دے کر بتایا کہ علم کا حصول عورت کےلئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا مردوں کے لئے۔ دینی مسائل ہوں یا خواتین کی صحت کے مسائل ہوں۔ عورت، عورت کو اچھے طریقے سے بتا سکتی ہے۔ عورت ہی بہتر سمجھ کر علاج تجویز کر سکتی ہے۔ اسلام نے بتایا کہ عورت معاشرے کا ایک فعال رکن ہے۔ اس کے حقوق پورے کرنا، عزت و احترام کرنا سنت نبوی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات قیامت تک کے لئے لوگوں کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔
آپ ص کی سیرت کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں آپ کا اسوہ حسنہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم معلم بھی تھے۔ سپہ سالار، حکمران اور صادق و امین بھی تھے۔ بیٹے، بھائی، شوہر ، باپ، نانا ہر کردار میں قابل تقلید ہیں۔ آپ نے ہر رشتے میں عورت کو اعلی مقام دے کر رہتی دنیا تک مثال قائم کر دی کہ عورت قابل عزت و احترام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔
مزید پڑھیں




