Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شہید کبھی مرتا نہیں ،تحریر: سیدہ شبانہ رضوی

نقطہ نظر
shabana rizvi

جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے

کہتے ہیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ہوتا

کبھی ایک خاموش چہرہ ہزار تقریروں سے زیادہ کہہ جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال دنیا کے اہم ترین سفارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ریاستوں کے نمائندے اپنے مؤقف پیش کرتے ہیں، جنگ و امن پر گفتگو ہوتی ہے اور دنیا کے بڑے مسائل پر بات کی جاتی ہے۔

لیکن ایک موقع پر ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے اس رسمی اور سفارتی ماحول کو انسانی دکھ کی ایک تصویر میں بدل دیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خطاب کے دوران سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک AI سے تیار کردہ ویڈیو میں ایسے بچوں کے چہرے دکھائے گئے جنہیں ایران کی جانب سے حالیہ حملوں میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہر چہرے کے ساتھ ایک نام بھی نمایاں تھا۔

یہ بچے حقیقتاً جنرل اسمبلی کے ہال میں موجود نہیں تھے۔ یہ ایک مصنوعی طور پر تخلیق کیا گیا منظر تھا، لیکن جن انسانی جانوں کی طرف یہ ویڈیو اشارہ کر رہی تھی، ان کا المیہ حقیقی تھا۔

شاید اسی لیے اس منظر نے دیکھنے والوں کو جذباتی کر دیا۔

کیونکہ ایک نام صرف ایک نام نہیں ہوتا۔

اس نام کے پیچھے ایک گھر ہوتا ہے، والدین ہوتے ہیں، بہن بھائی ہوتے ہیں، اسکول ہوتا ہے، دوست ہوتے ہیں اور مستقبل کے وہ خواب ہوتے ہیں جو ابھی حقیقت بننے باقی تھے۔

ایک بچہ جنگ کے فیصلے نہیں کرتا۔

وہ سفارتی پالیسی نہیں بناتا۔

وہ کسی تنازع کی ابتدا نہیں کرتا۔

وہ صرف زندگی جینا چاہتا ہے۔

اسکول جانا، کھیلنا، والدین کے ساتھ وقت گزارنا اور بڑا ہو کر کچھ بننے کا خواب دیکھنا—دنیا کے ہر بچے کی بنیادی خواہش شاید یہی ہوتی ہے۔

مگر جب جنگ آتی ہے تو سب سے زیادہ کمزور وہی ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے تحفظ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ ویڈیو میں دکھائے گئے بچوں کے چہرے ایک وسیع تر انسانی سوال کی علامت بن گئے۔

یہ سوال صرف ایران کے بچوں تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف تنازعات میں بچے ہمیشہ ان طبقات میں شامل رہے ہیں جو جنگ کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کہیں ان کے گھر تباہ ہوئے، کہیں اسکول بند ہوئے اور کہیں انہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔

ٹیکنالوجی نے ان بچوں کے چہروں کو ایک لمحے کے لیے دوبارہ دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا، لیکن ٹیکنالوجی ان کی زندگی واپس نہیں لا سکتی۔

وہ ان کے والدین کا غم ختم نہیں کر سکتی۔

وہ ان کے ادھورے خواب مکمل نہیں کر سکتی۔

اور نہ ہی کوئی مصنوعی منظر اس حقیقت کو بدل سکتا ہے کہ جنگ کے اعداد و شمار کے پیچھے حقیقی انسان ہوتے ہیں۔

یہاں AI کے بارے میں ایک اہم بات بھی یاد رکھنی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت ایسی تصاویر اور ویڈیوز تخلیق کر سکتی ہے جو ناظرین پر گہرا جذباتی اثر ڈالیں۔ اس لیے ایسی ویڈیو کو دیکھتے ہوئے یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ ویڈیو مصنوعی طور پر تیار کی گئی ہے، جبکہ اس میں بیان کیا جانے والا انسانی نقصان ایک الگ حقیقت ہے جس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

مگر اس احتیاط کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے:

بچے جنگ کے فیصلے نہیں کرتے، مگر اکثر جنگ کا بوجھ انہیں اٹھانا پڑتا ہے۔

ایک بچہ ایرانی ہو، فلسطینی ہو، اسرائیلی ہو یا کسی اور ملک سے تعلق رکھتا ہو—اس کی زندگی کی بنیادی قدر اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔

شاید جنرل اسمبلی کے اس منظر کا سب سے گہرا اثر بھی یہی تھا۔

وہ بچے کوئی تقریر نہیں کر رہے تھے۔

وہ کسی سے بحث نہیں کر رہے تھے۔

وہ صرف اپنے ناموں کے ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔

اور خاموشی سے یہ احساس دلا رہے تھے کہ جنگ کے ہر عدد کے پیچھے ایک چہرہ ہوتا ہے، ہر خبر کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے اور ہر موت کے پیچھے ایک ادھوری زندگی۔

دنیا کے پاس جنگوں، تنازعات اور سیاسی اختلافات کے بارے میں مختلف مؤقف ہو سکتے ہیں، مگر ایک بات پر شاید اختلاف نہیں ہونا چاہیے:

بچوں کو محفوظ رہنے کا حق ہے۔

اور جب کسی جنگ کے دوران بچوں کی جانیں جاتی ہیں تو سب سے اہم سوال یہ نہیں رہتا کہ کس کی تقریر زیادہ مؤثر تھی یا کس کا سیاسی مؤقف زیادہ مضبوط تھا۔

سب سے اہم سوال یہ رہ جاتا ہے:

کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں کسی بچے کا نام ہمیں اس کی موت کے ذریعے یاد نہ رکھنا پڑے؟

شاید ان خاموش چہروں کی سب سے بڑی گواہی یہی ہے۔

وہ دنیا سے کسی سیاسی فیصلے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔

وہ صرف یہ یاد دلا رہے ہیں کہ ہر جنگ کے آخر میں انسان ہی رہ جاتا ہے—اور ہر انسان کی زندگی قیمتی ہے۔