انسان اور درخت کا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان کا زمین سے۔ انسان نے زمین پر قدم رکھا تو درختوں نے اسے آکسیجن، سایہ، خوراک، دوا، لباس اور مکان فراہم کیا۔ مگر جب سے انسان نے ترقی کے نام پر فطرت سے بغاوت کی، اس نے سب سے پہلے درختوں کو ہی نشانہ بنایا۔ آج جب زمین کے باشندے گرمی کی شدت سے بلبلا رہے ہیں، موسم کی شدت حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، سیلاب، طوفان اور قحط روزمرہ کے واقعات بن چکے ہیں تو اس کا واحد حل شجر کاری ہے۔
یہ سچ ہے کہ زمین کو بچانے کے لیے شجر کاری سب سے آسان، سستا اور دیرپا طریقہ ہے۔۔درخت سایہ دار ہرے بھرے پودے ہونے کے ساتھ ساتھ زمین کے قدرتی محافظ ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، آکسیجن خارج کرتے ہیں، زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں، ہوا کو صاف کرتے ہیں، زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں اور آندھی طوفان کے اثرات کو کم کرتے ہیں۔ ایک بڑا درخت سالانہ تقریباً 20 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے، جو ایک انسان کے لیے سال بھر کی آکسیجن فراہم کرنے کے برابر ہے۔
گزشتہ دہائیوں میں دنیا بھر میں درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جہاں پہلے ہی پانی کی قلت، غیر منصوبہ بند ترقی اور شہروں کی بے ہنگم توسیع کا سامنا ہے، وہاں شجر کاری کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
گرمی کی شدت، لو، بارشوں کی کمی اور قحط سالی کی بڑی وجوہات میں درختوں کی بے دریغ کٹائی شامل ہے۔ اگر ہم ان مسائل کا دیرپا حل چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زمین پر درختوں کا سبز تاج دوبارہ سجانا ہو گا۔
شجر کاری کوئی بہت مہنگا یا سائنسی عمل نہیں، نہ ہی اس کے لیے کوئی خاص مہارت درکار ہوتی ہے۔
طالبعلم، دکان دار، کسان، گھریلو خاتون، کوئی بھی شخص کسی بھی دن، کسی بھی جگہ درخت لگا سکتا ہے۔ اگر ایک سال تک پانی مسلسل دیا جاتا ریے تو درخت اپنی جڑیں خود پکڑ لیتا ہے۔
درخت کا ایک پودا محض چند روپوں میں خریدا جا سکتا ہے، لیکن اس کے فوائد صدیوں تک محیط ہوتے ہیں۔
اسلام ہمیں فطرت سے محبت اور درخت لگانے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"اگر قیامت بھی آ جائے اور تمہارے ہاتھ میں ایک پودا ہو، تو اسے زمین میں گاڑ دو۔"
یہ حدیث شجر کاری کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔
اسی طرح، اخلاقی اعتبار سے بھی یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ماحول چھوڑ کر جائیں۔ قومی سطح پر شجر کاری معیشت کو سہارا دینے، سیاحت کے فروغ، اور عوامی صحت کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے شجر کاری کے حوالے سے شعور میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی سطح پر درختوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اسکولوں، کالجوں، مساجد، پارکوں، سڑکوں اور دیہی علاقوں میں شجر کاری مہمات کا انعقاد مثبت پیش رفت ہے تاہم، یہ تحریکیں اسی وقت مؤثر ہوں گی جب ان کے ساتھ عوام کی شرکت، مستقل مزاجی اور نگرانی بھی ہو۔
اگر ہر پاکستانی شہری سال میں صرف ایک درخت بھی لگائے، تو 24 کروڑ کی آبادی کے لحاظ سے ہر سال 24 کروڑ درخت زمین پر آ جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آنے والے ایک سے دو سالوں میں ہمارے ملک کا درجہ حرارت اب سے بہت کم ہوگا۔ یعنی ہم محض نیت، ارادے اور عمل سے زمین کے ماحولیاتی نظام میں انقلابی بہتری لا سکتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس میں بہت زیادہ سرمائے کی بھی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے نتیجے میں سبز انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔
طلبہ اور تعلیمی ادارے شجر کاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر اسکول میں سالانہ شجر کاری ہفتہ منایا جائے، ہر بچہ کم از کم ایک پودا لگائے، اور اس کی نگہداشت کی ذمہ داری لے، تو شعور کی یہ کیفیت آگے چل کر سرسبز معاشرے کی بنیاد رکھے گی۔
یہ جنگ زمین کی بقا کی جنگ ہے، انسانیت کے تحفظ کی جنگ ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم درخت کاٹنے والوں میں شامل ہوں گے یا درخت لگانے والوں میں۔
درخت لگانا ہی زمین کو بچانے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ اس سے ہم اپنی زمین کو بچا بھی سکتے ہیں اور خوبصورت بھی بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں





