سکائی نیوز کا دوہرا معیار،پاکستانی حکومت کا مؤقف کیوں نہیں، زلفی سے انکی کرپشن بارے کیوں نہ پوچھا گیا

لندن: ’’دی ورلڈ ود یلدا حکیم‘‘ میں 30 ستمبر 2026 کو ذوالفقار بخاری اور طحہ صدیقی کے انٹرویو کے حوالے سے اسکائی نیوز کی کوریج پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
افغان نژاد میزبان یلدا حکیم نے پاکستان سے متعلق معاملات کو متعدد مرتبہ تنقیدی زاویے سے پیش کیا ہے۔ اسکائی نیوز پاکستان سے متعلق رپورٹنگ میں طحہ صدیقی، ذوالفقار بخاری اور یلدا حکیم جیسی آوازوں کو نمایاں کیوں کر رہا ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان کا مؤقف مساوی طور پر سامنے نہیں لایا جا رہا۔ اگر اسکائی نیوز پاکستان کے سیاسی بحران کو موضوع بنا رہا ہے تو انتہائی تنقیدی آوازوں کو نمایاں کرنے کے بجائے پاکستانی حکومت کا مؤقف بھی کہانی کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ پاکستان سے متعلق رپورٹ صرف ناقدین کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پلیٹ فارم نہیں بننی چاہیے، حکومت کا مؤقف بھی سامنے آنا چاہیے۔
زلفی بخاری کا راولپنڈی رنگ روڈ کیس، القادر یونیورسٹی اور 190 ملین پاؤنڈ کیس سمیت مختلف معاملات میں ان کا نام سامنے آتا رہا ہے، تاہم ان سے مبینہ بدعنوانی سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ نیب کی جانب سے بھی ذوالفقار بخاری کے حوالے سے مختلف معاملات میں تحقیقات شروع کیے جانے کا ذکر سامنے آ چکا ہے۔ ذوالفقار بخاری کے لندن میں آف شور جائیدادوں اور اثاثوں کا بھی ذکر کیا جاتا رہا ہے جبکہ ان کا نام پاناما پیپرز میں بھی سامنے آیا تھا۔
پی ٹی آئی کے پاس اب وہ سڑکوں پر نکلنے کی طاقت نہیں رہی جس کا دعویٰ ماضی میں کیا جاتا رہا ہے۔ جو جماعت کبھی سڑکیں بھرنے کا دعویٰ کرتی تھی، اسے اب بڑے شہروں میں چند سو حامی جمع کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی بات اب محض بیانات تک محدود ہو گئی ہے اور جب بھی مقررہ تاریخ قریب آتی ہے تو پی ٹی آئی قیادت کسی نہ کسی وجہ سے منصوبہ مؤخر یا ملتوی کر دیتی ہے۔جو جماعت اپنے کارکنوں کو مسلسل احتجاج کے لیے متحرک نہیں کر سکتی، اس کی سوشل میڈیا پر سیاسی طاقت کے دعووں اور زمینی سطح پر موجودگی کے درمیان فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں





