قدرت نے ابتدا ہی سے انساں میں جنس_مخالف کے لئے ایک دوسرے میں کشش اور لگاو ودیعت کر دیا ۔اس کے ساتھ ہر مذہب اور معاشرے میں ہر فرد کے لئے کچھ ضابطے اور قوانین بھی مقرر کر دیئے ہیں۔لیکن شومئ قسمت کہ پدرشاہی سماج میں عورت کو ہمیشہ کمتر اور کم عقل ہی مانا گیا ۔ہاں البتہ جب مرد کو مائل کرنے اسے گمراہ کرنے کی بات ہو تو مورد الزام ہمیشہ عورت ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے کہ اس نے لباس ہی ایسا پہنا تھا۔ اس کی آنکھیں دیکھی تھیں۔لڑکی ٹی شرٹ اور جینز پہن لے تو بھی مسئلہ۔ میں یہ بالکل نہیں کہتی کہ عورت ذات کو کسی بھی طور بے ہودہ یا اپنے جسم کی نمائش کرتا لباس زیب تن کرنا چاہیئے۔
میرا سوال بس یہ ہے کہ حال ہی 18 ماہ کی بچی کے ساتھ ہونے والے دلخراش واقعے میں کیا اس کی اداؤں کا قصور تھا۔یا اس کے لباس کا قصور تھا؟ کسی عمر، رنگ، نسل و ذات کی عورت اب کیا غیر محفوظ نہیں ہے۔ نا ہی کم عمر بچے محفوظ ہیں۔ذہنی پستگی ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکی ہےکہ قبروں تک میں مردہ عورت بھی محفوظ نہیں۔ ان انسان نما درندوں سے جانور تک محفوظ نہیں ہیں۔نہ کسی رشتے کا پاس ہے نا کسی عمر کا، نا ہی خوف خدا ہے نا کسی ملکی قانون کا ڈر جو کہ پہلے ہی سے اندھا ہے۔ کہتے ہیں کہ جنگلی جانور بھی صرف اپنی نسل کی مادہ سے ہی تعلق استوار کرتے ہیں اور وہ بھی جب وہ جوان ہو۔کم عمر مادہ سے نہیں۔تو کیا ہمارے ہاں مرد ذات اشرف المخلوقات ہو کر ان جانوروں سے بھی بدتر ہوچکے ہیں۔ اور ان میں ایسا جنون کیوں گھر کر گیا ہے کہ انہیں اس کے اگے کچھ نظر ہی نہیں اتا۔ شتر بے مہار ہونے کی ایک بڑی وجہ قانون پہ عمل درآمد نہ ہونا ۔سزاؤں سے صاف بچ نکلنا بھی ہے۔ اس کے علاوہ سوچتی ہوں ہمارے گھروں کی تربیت میں کہاں کمی رہ جاتی ہے کہ مرد کی سوچ اس کا اخلاق اس حد تک گر چکا ہے۔
کوئ طریقہ ، کوئ حل ہے اس جنوں کو قابو کرنے کا یا نہیں ؟ان بدکردار،سفاک اور جانور صفت مردوں کو سزائیں کیوں نہیں ملتیں؟ انہیں پٹہ کیوں نہیں ڈالا جاتا؟ ہماری ماں جیسی ریاست کیوں نہیں جاگتی؟ ہمارے قانون کو یہ کریہہ برائی یہ سفاکیت کب نظر ائے گئ؟ تاکہ ہمارے ملک کا ہر باسی سکون کا ، سکھ کا سانس لے سکے۔اپنےآپ کو حقیقتا آزاد محسوس کر سکے۔کب ایسا قانون بنے گا؟ اور ان پہ عمل درآمد بھی ہو سکے گا؟ آخر کب؟ آخر کب ؟
مزید پڑھیں





