ستھرا پنجاب پروگرام کو مزید مفید بنانے کی ضرورت،تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
نقطہ نظر
ستھرا پنجاب پروگرام ایک قابلِ تحسین اقدام ہے جس نے پنجاب میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صفائی کے مؤثر انتظام سے کیڑے مکوڑوں، مچھروں اور مکھیوں کی افزائش میں کمی اور متعدی امراض کی روک تھام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے ملیریا کنٹرول، ڈینگی اور متعدی امراض کی روک تھام سے متعلق اقدامات کو بھی اس کے ساتھ مربوط کیا جائے اور تربیت یافتہ ستھرا پنجاب ورکرز کو ضروری تربیت، حفاظتی سامان اور سہولیات فراہم کرکے اسپرے سمیت متعلقہ خدمات کی ذمہ داری سونپی جائے۔
اندرونِ شہر اور دیہات میں جہاں ستھرا پنجاب کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں، وہاں نئے لگائے جانے والے درختوں اور پودوں کی دیکھ بھال بھی اسی پروگرام کے سپرد کی جا سکتی ہے۔ باقاعدہ نگرانی، پانی اور حفاظت کا انتظام شجرکاری کو پائیدار بنانے میں مدد دے گا اور یوں سرسبز پنجاب کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کے ساتھ عوام کو صحت مند ماحول بھی میسر آئے گا۔
ستھرا پنجاب کے ورکرز سخت گرمی، سردی، دھوپ، بارش اور دیگر موسمی حالات میں محنت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان میں غریب گھرانوں کے پڑھے لکھے نوجوان بھی شامل ہیں جو اپنے خاندان کا چولہا جلانے کے لیے اس روزگار سے وابستہ ہوئے ہیں۔ ان کی خدمات کے پیشِ نظر بہتر مراعات، حفاظتی سہولیات اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
اگر حکومتِ پنجاب گھروں سے کوڑا اٹھانے کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مناسب اور قابلِ برداشت صفائی ٹیکس نافذ کرتی ہے تو عوام کو اسے صاف اور صحت مند ماحول کے لیے اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے قبول کرنا چاہیے، بشرطیکہ اس رقم کا شفاف اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ستھرا پنجاب کو صرف کوڑا اٹھانے کے پروگرام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے صاف ماحول، صحت مند معاشرے، سرسبز پنجاب اور باعزت روزگار کی ایک جامع تحریک بنایا جائے۔ اگر حکومت، عوام اور محنت کش ورکرز مل کر اس ذمہ داری کو نبھائیں تو صاف، سرسبز اور صحت مند پنجاب محض ایک خواب نہیں بلکہ ہماری اجتماعی کوششوں کا قابلِ فخر نتیجہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں




