طبقاتی تقسیم اور ناانصافی،تحریر: مہوش بنت بشارت
نقطہ نظر
کسی بھی زندہ اور بیدار معاشرے کی بنیاد اس بات پر ہوتی ہے کہ وہاں رہنے والے انسانوں کو برابر کے حقوق اور یکساں مواقع میسر ہیں۔ لیکن جب کسی سماج میں طبقاتی تقسیم کی لکیریں گہری ہو جائیں اور ناانصافی کو قانون کا تحفظ حاصل ہو جائے، تو وہ معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ آج ہمارے سماج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے انسانوں کو ان کی انسانیت، کردار یا علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے بینک بیلنس، پوشاک اور خاندانی پس منظر کی بنیاد پر خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ یہ طبقاتی خلیج اب محض ایک معاشی فرق نہیں رہی، بلکہ یہ ایک دیمک بن چکی ہے جو ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار کو چاٹ رہی ہے۔معاشرے کی اس تقسیم کو دیکھنا ہو تو دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے شہروں کے نقشے ہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ایک طرف وہ بلند و بالا، پرتعیش رہائشی سوسائٹیاں ہیں جہاں چوبیس گھنٹے بجلی، صاف پانی اور بہترین سیکیورٹی موجود ہے۔ دوسری طرف انہی سوسائٹیوں کی دیواروں سے متصل وہ پسماندہ کچیاں آبادیاں ہیں جہاں انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ امیر کا بچہ جن مہنگے نجی اسکولوں میں پڑھتا ہے، ان کے ایک مہینے کی فیس غریب کی سال بھر کی آمدنی سے زیادہ ہوتی ہے۔ یوں تعلیم جو کبھی شعور اور برابری کا ذریعہ تھی، آج طبقاتی فرق کو مزید مستقل کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکی ہے۔ غریب کا بچہ آج بھی اسی ٹاٹ اسکول میں پڑھ کر بڑا ہوتا ہے جہاں نہ چھت ہے اور نہ پینے کا صاف پانی۔اس معاشی تفریق کا سب سے بھیانک چہرہ ہمیں اپنے عدالتی اور انتظامی نظام میں نظر آتا ہے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں کا نعرہ کتابوں کی حد تک تو بہت خوبصورت لگتا ہے، لیکن عملی زندگی میں سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں امیر کے لیے قانون موم کی ناک بن جاتا ہے اور غریب کے لیے لوہے کا چنا۔ اگر کوئی بااثر شخص جرم کرتا ہے، تو قانون کے رکھوالے اس کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں، سفارشیں چلتی ہیں، اور عدالتوں کے دروازے اس کے لیے رات کو بھی کھل جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایک غریب آدمی معمولی سی چوری یا محض شک کی بنیاد پر برسوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتا رہتا ہے، کیونکہ اس کے پاس نہ تو مہنگے وکیلوں کو دینے کے لیے فیس ہوتی ہے اور نہ ہی نظام کو ہلانے کے لیے کوئی اثر و رسوخ۔ یہ ناانصافی ہی وہ بارود ہے جو کسی بھی معاشرے میں بغاوت اور انارکی کو جنم دیتا ہے۔اس طبقاتی تقسیم نے ہمارے روزمرہ کے رویوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ سڑک پر لگی ٹریفک لائٹ ہو یا کسی ہسپتال کی ایمرجنسی، ہر جگہ ترجیح وی آئی پی کلچر کو دی جاتی ہے۔ ہسپتالوں میں غریب تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے لیکن اسے اس وقت تک بیڈ یا دوا نہیں ملتی جب تک وہ پیسے کا بندوبست نہ کر لے۔ دوسری طرف، بااثر طبقے کے لیے معمولی سی تکلیف پر بھی پورا عملہ الرٹ ہو جاتا ہے۔ کیا یہ ناانصافی نہیں کہ سڑکوں پر پسینہ بہانے والا مزدور، جو ملک کی معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، شام کو اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی بھی عزت سے نہیں خرید پاتا؟ جب کہ محنت نہ کرنے والے صرف اپنے سرمائے کی بدولت عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں طبقاتی تفریق اور ناانصافی کو اپنا وتیرہ بنا لیتی ہیں، وہ زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ جب غریب کے دل سے یہ احساسِ محرومی غصے اور نفرت میں بدلتا ہے، تو پھر جرائم کی شرح بڑھتی ہے، گلیوں میں ہونے والے جرائم جنم لیتے ہیں اور معاشرتی امن تباہ ہو جاتا ہے۔ ہم روز امن و امان کی خراب صورتحال کا رونا تو روتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی اصل وجہ یعنی معاشی و سماجی ناانصافی پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔اگر ہم واقعی اس ملک اور معاشرے کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس طبقاتی سوچ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ریاست کو چاہیے کہ وہ کم از کم تعلیم، صحت اور انصاف کے میدان میں امیر اور غریب کی یہ تفریق فوری طور پر ختم کرے،ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جہاں مجرم صرف مجرم ہو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو، اور مظلوم کو اس کی دہلیز پر انصاف ملے۔ جب تک ہم انسان کو اس کے بینک بیلنس کے بجائے اس کی انسانیت اور قابلیت کی بنیاد پر عزت دینا شروع نہیں کریں گے، تب تک ایک پرامن اور خوشحال معاشرے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیں




