تبدیلی کا آغاز اپنے آپ سے،تحریر: اقراء علوی
نقطہ نظر
ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ یہ سوال آج ہر اُس شخص کے دل میں موجود ہے جو اپنے اردگرد کے حالات کو غور سے دیکھتا ہے۔ بظاہر زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے، بازار آباد ہیں، سڑکوں پر رش ہے، سماجی میڈیا پر بحثیں جاری ہیں مگر اگر ذرا دل کی آنکھ سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے اندر کہیں بہت کچھ ٹوٹ رہا ہے۔ رشتوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں، برداشت کم ہو رہی ہے، احساس ماند پڑ رہا ہے اور انسان، انسان کے دکھ سے بے خبر ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان صرف ایک ملک کا نام نہیں، یہ کروڑوں لوگوں کے خوابوں، قربانیوں اور امیدوں کا نام ہے مگر آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے مسائل کو دیکھنا تو شروع کر دیا ہے لیکن انہیں حل کرنے کے لیے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنا کم کر دی ہے۔ ہر شخص دوسرے کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ حکومت کو الزام، سیاست دانوں کو الزام، اداروں کو الزام، معاشرے کو الزام مگر جب سوال اپنے کردار کا آتا ہے تو ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہی خاموشی ہمارے معاشرے کے بکھرنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا ہے۔ کسی کی رائے ہم سے مختلف ہو تو ہم اسے سننے کے بجائے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ سماجی میڈیا نے جہاں اظہارِ خیال کا راستہ آسان کیا ہے، وہیں ہماری گفتگو میں تلخی بھی بڑھا دی ہے۔ الفاظ کبھی کبھی اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ سامنے بیٹھا انسان نہیں، صرف ایک مخالف دکھائی دیتا ہے۔ ہم بھول گئے ہیں کہ اختلاف انسانوں کے درمیان ہوتا ہے، دشمنی نہیں۔
آج ہمارا عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد میں الجھا ہوا ہے۔ ایک والد اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور گھر کے اخراجات کے بارے میں فکر مند ہے۔ ایک نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کے بہتر کل کے لیے دعائیں کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر معاشرہ بھی اسے سہارا دینے کے بجائے اس کی پریشانی کا مذاق اڑائے تو انسان آخر کہاں جائے؟
ہم نے کامیابی کو بھی عجیب پیمانے سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے پاس دولت ہے وہ کامیاب، جس کے پاس عہدہ ہے وہ قابلِ احترام، جس کے پاس شہرت ہے وہ اہم مگر کردار، دیانت، علم، خدمت اور انسانیت جیسے الفاظ ہماری ترجیحات میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہماری نسلیں تعلیم یافتہ تو ہو جائیں مگر انسانیت سے خالی رہیں تو کیا یہ ترقی کہلائے گی؟
ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ ضرورت آج برداشت، احساس اور ذمہ داری کی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے مسائل صرف ایوانوں میں بیٹھے لوگ حل نہیں کر سکتے۔ ایک استاد اپنے شاگرد کو ایمان داری سکھا کر، ایک والد اپنے بچے کی تربیت کر کے، ایک طالب علم محنت کر کے، ایک دکاندار دیانت داری سے کاروبار کر کے، ایک شہری قانون کی پابندی کر کے اور ایک قلم کار سچ لکھ کر اپنے ملک کی تعمیر میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ قومیں صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بنتیں، قومیں کردار سے بنتی ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہم ہر چیز پر بات کرتے ہیں مگر اپنے آپ پر بات نہیں کرتے۔ ہم معاشرے کی خرابیوں پر لمبی بحث کر سکتے ہیں مگر اپنے رویے کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرا سچ بولے، دوسرا قانون کی پابندی کرے، دوسرا رشوت نہ لے، دوسرا نفرت نہ پھیلائے اور دوسرا دوسروں کا احترام کرے مگر جب باری ہماری آتی ہے تو ہمارے پاس کئی بہانے موجود ہوتے ہیں۔
یہی دوہرا معیار معاشرے کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔
آج ہمیں ایک دوسرے کی آواز بننے کی ضرورت ہے، ایک دوسرے کو خاموش کرنے کی نہیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے تبدیلی شروع کرنا ہوگی۔ بچوں کو صرف کامیاب ہونے کا نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کا سبق دینا ہوگا۔ نوجوانوں کو صرف نوکری کا خواب نہیں بلکہ خدمت اور کردار کا شعور بھی دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ معاشرہ اُس وقت نہیں بکھرتا جب مشکلات بڑھتی ہیں، معاشرہ اُس وقت بکھرتا ہے جب انسان ایک دوسرے کے درد سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی خاموشی توڑیں مگر شور کے ساتھ نہیں، شعور کے ساتھ۔ ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہوگا۔ شاید ایک چراغ پورا اندھیرا ختم نہ کر سکے مگر اندھیرے کے سامنے یہ اعلان ضرور کر سکتا ہے کہ روشنی ابھی زندہ ہے۔
پاکستان کو آج ایسے ہی چراغوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف حالات کا ماتم کرنے والے لوگ بنیں گے یا حالات بدلنے میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے کیونکہ وطن صرف حکومتوں سے نہیں بنتا، وطن ہم سب سے بنتا ہے اور اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں




