جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تنہائی سب کچھ سکھا دیتی ہے،تحریر:رفعت اکرام

نقطہ نظر

تنہائی سے آج کل ہر انسان ڈرتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے اردگرد لوگ ہوں۔ دوست ہوں۔ رشتہ دار ہوں۔ ہجوم ہو۔ شور ہو۔ کوئی بھی اکیلا نہیں رہنا چاہتا۔ لیکن تنہائی بری چیز نہیں۔ تنہائی ایک نعمت ہے۔ تنہائی ایک استاد ہے۔ تنہائی انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیتی ہے جو ہجوم نہیں سکھا سکتا۔

جب انسان ہجوم میں ہوتا ہے تو وہ خود کو بھول جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی پسند کے مطابق جیتا ہے۔ وہ دوسروں کو خوش کرنے میں لگا رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی باتوں میں الجھا رہتا ہے۔ اسے خود کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ وہ کون ہے۔ وہ کیا چاہتا ہے۔ وہ زندگی میں کیا کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب سوچنے کا وقت اسے ہجوم میں نہیں ملتا۔

لیکن جب انسان تنہا ہوتا ہے تو وہ خود سے ملتا ہے۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنی خوبیوں کو پہچانتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کا حساب کرتا ہے۔ تنہائی میں انسان کو اپنی اصل پہچان ملتی ہے۔ اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ اندر سے کتنا مضبوط ہے یا کتنا کمزور ہے۔

تنہائی میں انسان اللہ کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ ہجوم میں انسان اللہ کو بھول جاتا ہے۔ وہ دنیا کی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے۔ لیکن تنہائی میں جب کوئی ساتھ نہیں ہوتا تو اللہ یاد آتا ہے۔ انسان اللہ سے باتیں کرتا ہے۔ اپنے دل کی باتیں۔ اپنے غم۔ اپنی خوشیاں۔ اپنی دعائیں۔ اللہ بھی تنہائی میں کی گئی دعا کو بہت پسند کرتا ہے۔ رات کے آخری پہر جب سب سو رہے ہوتے ہیں اور ایک بندہ اکیلا اٹھ کر اللہ کے سامنے روتا ہے تو اللہ فرشتوں سے کہتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ مجھے یاد کر رہا ہے۔

تنہائی انسان کو مضبوط بناتی ہے۔ جو انسان تنہا رہنا سیکھ لیتا ہے وہ کبھی زندگی میں نہیں ہارتا۔ کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ اسے خود ہی اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے۔ وہ دوسروں پر انحصار کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ خود فیصلے کرنا سیکھ لیتا ہے۔ وہ خود اپنی مشکلات کا حل نکالنا سیکھ لیتا ہے۔ یہی مضبوطی اسے زندگی میں کامیاب بناتی ہے۔

آج کل لوگ تنہائی سے بچنے کے لیے موبائل کا سہارا لیتے ہیں۔ ہر وقت موبائل میں لگے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر۔ گیمز میں۔ ویڈیوز میں۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ سب سے زیادہ تنہا ہیں۔ ان کے اردگرد ہزاروں فالوورز ہیں لیکن دل میں ایک بھی مخلص دوست نہیں۔ ان کے پاس ہزاروں لائکس ہیں لیکن ایک بھی کندھا نہیں جس پر سر رکھ کر وہ رو سکیں۔ یہ کیسی بھیڑ ہے جس میں انسان اور بھی زیادہ اکیلا ہو جاتا ہے۔

حقیقی تنہائی وہ ہے جب تم اپنے آپ کے ساتھ بیٹھو۔ بغیر موبائل کے۔ بغیر کسی شور کے۔ بس تم اور تمہاری سوچیں۔ شروع میں یہ بہت مشکل لگتا ہے۔ دل گھبراتا ہے۔ دماغ بھاگتا ہے۔ پرانی یادیں آتی ہیں۔ آنسو آتے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ سکون آنے لگتا ہے۔ دل ہلکا ہونے لگتا ہے۔ دماغ صاف ہونے لگتا ہے۔

تنہائی میں انسان کو اپنے دشمنوں اور دوستوں کی پہچان ہوتی ہے۔ جب تم تنہا ہوتے ہو تو تمہیں یاد آتا ہے کہ برے وقت میں کون تمہارے ساتھ تھا اور کون نہیں۔ کون تمہیں چھوڑ کر گیا اور کون تمہارے ساتھ کھڑا رہا۔ تنہائی تمہیں لوگوں کا اصل چہرہ دکھاتی ہے۔

تنہائی میں انسان اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ اس دنیا میں کیوں آیا ہے۔ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ صرف کھانے پینے اور سونے کے لیے تو نہیں آیا۔ اس کا کوئی بڑا مقصد ہے۔ یہ مقصد تنہائی میں ہی سمجھ آتا ہے۔

تنہائی کا مطلب یہ نہیں کہ تم دنیا سے بالکل کٹ جاؤ۔ تم رشتے ختم کر دو۔ تم لوگوں سے ملنا چھوڑ دو۔ تنہائی کا مطلب ہے کہ دن میں کچھ وقت اپنے لیے نکالو۔ کچھ وقت اکیلے بیٹھو۔ اپنے آپ سے باتیں کرو۔ اپنی زندگی پر غور کرو۔ یہ وقت تمہیں تازہ دم کر دے گا۔ یہ وقت تمہیں نئی توانائی دے گا۔

بڑے بڑے لوگوں نے بڑے بڑے فیصلے تنہائی میں کیے ہیں۔ بڑے بڑے شاعروں نے بڑی بڑی شاعری تنہائی میں لکھی ہے۔ بڑے بڑے سائنسدانوں نے بڑی بڑی ایجادات تنہائی میں کی ہیں۔ کیونکہ تنہائی میں دماغ کام کرتا ہے۔ دل کام کرتا ہے۔ خیالات آتے ہیں۔

اگر آج تم تنہا ہو تو اسے سزا مت سمجھو۔ اسے موقع سمجھو۔ اپنے آپ کو بہتر بنانے کا موقع۔ اپنے رب کے قریب ہونے کا موقع۔ اپنی زندگی کو سمجھنے کا موقع۔ اس تنہائی کو استعمال کرو۔ اس سے سیکھو۔ اس سے مضبوط بنو۔ کیونکہ جو تنہائی میں جینا سیکھ لیتا ہے وہ کبھی کسی بھی ہجوم میں نہیں ہارتا۔