منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تقویٰ اور اخوتِ اسلامی،تحریر: شازیہ یٰسین

نقطہ نظر

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف اپنے رب سے جوڑتا ہے بلکہ انسانوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں تقویٰ اور اخوت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اگر معاشرے میں تقویٰ پیدا ہو جائے اور اخوتِ اسلامی کو فروغ ملے تو بہت سے سماجی، اخلاقی اور معاشرتی مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔


تقویٰ کا مطلب اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا، اس کے احکامات کی پابندی کرنا اور ہر اس عمل سے بچنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔" اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی شخص کی برتری کا معیار دولت، نسل، زبان یا رنگ نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔


تقویٰ انسان کے کردار کو سنوارتا ہے اور اسے برائیوں سے دور رکھتا ہے۔ ایک متقی شخص جھوٹ، دھوکہ، ظلم، حسد اور دیگر اخلاقی برائیوں سے اجتناب کرتا ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔ تقویٰ دراصل انسان کے باطن کی پاکیزگی کا نام ہے جو اس کے اعمال اور رویوں میں نمایاں ہوتی ہے۔


اخوتِ اسلامی اسلام کا ایک عظیم تصور ہے۔ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔" اس حدیثِ مبارکہ سے مسلمانوں کے درمیان محبت، تعاون اور خیرخواہی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔


اسلامی اخوت رنگ، نسل، زبان اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والا مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ یہی وہ جذبہ تھا جس نے ابتدائی اسلامی معاشرے کو مضبوط اور متحد بنایا۔ مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم ہونے والی مثالی بھائی چارے کی روایت آج بھی پوری انسانیت کے لیے ایک روشن مثال ہے۔


تقویٰ اور اخوت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ جب انسان کے دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے تو وہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرتا ہے۔ وہ نفرت، تعصب اور دشمنی سے دور رہتا ہے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کا احترام کرتا ہے۔ اسی طرح جب معاشرے میں اخوت کو فروغ ملتا ہے تو افراد ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔


آج کا معاشرہ مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہے۔ فرقہ واریت، لسانی تعصب، نفرت، خودغرضی اور عدم برداشت نے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان مسائل کا حل اسلام کی انہی دو بنیادی تعلیمات یعنی تقویٰ اور اخوت میں موجود ہے۔ اگر ہر فرد اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے تو معاشرے میں امن و سکون پیدا ہو سکتا ہے۔


اخوتِ اسلامی صرف زبانی دعووں کا نام نہیں بلکہ عملی کردار کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی مدد کرنی چاہیے، بیماروں کی عیادت کرنی چاہیے، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کا سہارا بننا چاہیے اور اختلافات کو ختم کرکے محبت و اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔


تعلیمی اداروں، مساجد، گھروں اور سماجی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ تقویٰ اور اخوت کے پیغام کو عام کریں۔ نئی نسل کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ نفرت اور تقسیم کے بجائے محبت، رواداری اور بھائی چارے کو اپنائیں۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت ایسے انداز میں کریں کہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور انسانیت کی محبت پیدا ہو۔


قرآن و سنت کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ کامیاب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں افراد تقویٰ اختیار کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ اخوت و محبت کا برتاؤ کریں۔ جب دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے منور ہوں اور انسان ایک دوسرے کے خیرخواہ بن جائیں تو معاشرے میں عدل، امن اور خوشحالی جنم لیتی ہے۔


تقویٰ اور اخوت اسلامی معاشرے کے دو ایسے ستون ہیں جن پر امن، استحکام اور ترقی کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں تقویٰ کو اپنائیں، اخوتِ اسلامی کو فروغ دیں اور اپنے کردار کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی اور فلاح پوشیدہ ہے۔