Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

موجودہ ترقی کے درمیان گمشدہ انسان،تحریر:عامرزریں

نقطہ نظر

ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جسے بیک وقت انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور سب سے زیادہ بے سکون زمانہ کہا جا سکتا ہے۔ ہمارے پاس بڑے گھر ہیں، جدید طب ہے، اعلیٰ تعلیم ہے، بے شمار ذرائعِ مواصلات ہیں، زیادہ آمدنی کے مواقع ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں سے رابطے کی سہولت ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا ہماری مادی ترقی نے ہماری انسانی زندگی کو بھی اتنا ہی بہتر بنایا ہے؟

ایک مشہور تحریر میں آج کی زندگی کے چند تضادات یوں بیان کیے گئے ہیں: ''بڑا گھر…… چھوٹا خاندان؛ زیادہ ڈگریاں …… کم فہمی؛ جدید طب…… خراب صحت؛ زیادہ آمدنی…… کم ذہنی سکون؛ بہت سے سماجی دوست ……مگر کوئی اچھا دوست نہیں؛ مہنگی گھڑیاں ……مگر وقت نہیں۔'' یہ جملے سائنسی قوانین نہیں، لیکن ہمارے عہد کے بعض اہم نفسیاتی اور سماجی تضادات کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں۔

معلومات بڑھیں، حکمت کم کیوں ہوئی؟……آج انسان کے پاس معلومات کی کمی نہیں۔ چند سیکنڈ میں وہ دُنیا کے کسی بھی موضوع پر ہزاروں صفحات تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن معلومات اور حکمت ایک چیز نہیں۔ معلومات ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا ہے، جبکہ حکمت یا فہم یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کیا اہم ہے، کب کیا کرنا ہے اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ بہت زیادہ معلومات کی فراہمی نے ہماری توجہ کو مسلسل منتشر کیا ہے۔ ہم بہت کچھ پڑھتے اور دیکھتے ہیں، لیکن کم سوچتے ہیں۔ شاید اسی لیے آج کے انسان کو مزید معلومات سے زیادہ توجہ اور یکسوئی کی ضرورت ہے۔

زیادہ آمدنی، کم سکون……آمدنی یقیناً زندگی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن پیسہ ہمیشہ ذہنی سکون میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں کرتا۔ انسان عموماً اپنی نئی سہولتوں کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر انہیں معمول سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے بعد مقابلہ شروع ہوتا ہے: میرے پاس کیا ہے۔ اور اس سے زیادہ اہم سوال یہ بن جاتا ہے کہ دوسروں کے پاس مجھ سے زیادہ کیا ہے؟

یہی مسلسل موازنہ خواہشوں کو بڑھاتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ آمدنی بڑھنے کے باوجود ''کافی'' کا احساس پیدا نہ ہو۔اس کا حل غربت اختیار کرنا نہیں بلکہ کفایت اور شعوری زندگی ہے۔ انسان کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ اس کے لیے واقعی کتنا کافی ہے۔

رابطے بہت، تعلق کم…………سوشل میڈیا نے انسانوں کو پہلے سے کہیں زیادہ آپس میں جوڑ دیا ہے۔…… لیکن رابطہ اور قربت ایک چیز نہیں۔ ہمارے فون میں سینکڑوں دوست احباب، عزیز رشتہ داروں کے رابطہ نمبرز ہیں۔ مگر ممکن ہے کہ ہمارے پاس ایک بھی ایسا شخص نہ ہو جس سے ہم اپنی کمزوری، خوف یا ناکامی کے بارے میں بے تکلف بات کر سکیں۔

انسان کو صرف سما جی باہمی عمل نہیں بلکہ جذباتی وابستگی بھی چاہیے۔ گہرے تعلقات وقت، اعتماد، توجہ اور جذباتی وابستگی سے بنتے ہیں؛ صرف پسندیدگی اور سماجی پیغامات سے نہیں۔اسی لیے جدید زندگی کا ایک اہم اصول یہ ہونا چاہیے کہ دوستوں کی تعداد سے زیادہ تعلقات کا معیار اہم ہے۔

ذہانت اور جذبات کا توازن:اعلیٰ IQ انسان کو پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اچھی زندگی کے لیے صرف تجزیاتی ذہانت کافی نہیں۔ انسان کو اپنے جذبات پہچاننے، دوسروں کے جذبات سمجھنے اور اختلاف کے باوجود تعلق قائم رکھنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔بعض اوقات انسان مسئلے کا منتقی حل تو تلاش کر لیتا ہے، مگر یہ نہیں سمجھ پاتا کہ سامنے والے شخص کو دراصل توجہ، ہمدردی یا اعتماد کی ضرورت تھی۔اس لیے جدید تعلیم کا مقصد صرف ذہن کو طاقتور بنانا نہیں بلکہ شخصیت کو متوازن بنانا بھی ہونا چاہیے۔

جدید طب اور صحت کے تضادات: جدید طب نے انسانی زندگی میں بے شمار انقلابات پیدا کیے ہیں۔ بیماریوں کی تشخیص، علاج اور ہنگامی طبی سہولتوں میں ترقی نے لاکھوں زندگیوں کو بہتر بنایا ہے۔ لیکن طب کی ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نے صحت مند طرزِ زندگی بھی اختیار کر لیا ہے۔ہم بیماری کا علاج تو جدید طریقوں سے چاہتے ہیں، مگر نیند، غذا، جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ اور تعلقات جیسے بنیادی عوامل کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔صحت کو صرف ''بیماری نہ ہونے '' کے بجائے ایک روزمرہ نظام سمجھنا ہوگا۔سب سے بڑا مسئلہ: وقت نہیں، توجہ ہے۔ ''مہنگی گھڑیاں، مگر وقت نہیں '' شاید پوری تصویر کا سب سے گہرا استعارہ ہے۔

ہمارے پاس وقت اتنا ہی ہے جتنا پہلے انسانوں کے پاس تھا، لیکن ہمارا دھیان مسلسل تقسیم ہو رہا ہے۔ اطلاعاتی پیغامات، سماجی رابطہ، ای میل اور خبریں مسلسل ڈجیٹل محرکات ہمیں ایک لمحے میں کئی دنیاؤں میں موجود رکھتے ہیں۔چنانچہ آج ہمیں صرف وقت کا انتظام نہیں بلکہ توجہ کے انتظام کی ضرورت ہے۔


کبھی فون بند کرنا، خاموش بیٹھنا، خاندان کے ساتھ مکمل توجہ سے وقت گزارنا، کتاب پڑھنا یا صرف اپنے خیالات کے ساتھ رہنا بھی ایک نفسیاتی ضرورت بن چکا ہے۔

اس المیے کا حل تلاش کیا جانا بہت ضروری ہے۔

اس صورتحال کا حل ترقی کو رد کرنا نہیں بلکہ ترقی اور انسانی ضرورت کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ہمیں چھ بنیادی سرمایہ کاریوں پر توجہ دینی چاہیے: صحت، تعلقات، توجہ، مالی آزادی، حکمت اور مقصد۔زیادہ کمانا برا نہیں، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ''کتنا کافی ہے ''۔ زیادہ پڑھنا برا نہیں، لیکن علم کو حکمت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ بہت سے لوگوں سے ملنا اچھا ہے، لیکن چند لوگوں کے ساتھ گہرا تعلق بھی ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی طاقتور ہے، مگر ہماری توجہ اس کی قیمت نہیں ہونی چاہیے۔آخرکار شاید جدید انسان کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ''میں زندگی میں مزید کیا حاصل کر سکتا ہوں؟'' بلکہ یہ ہے: ''جو کچھ میں حاصل کر رہا ہوں، کیا وہ میری زندگی کو واقعی بہتر بھی بنا رہا ہے؟'' شاید یہی سوال مادی ترقی کو انسانی ترقی میں تبدیل کرنے کا نقطء آغاز ہے