تارے گننے کے زمانے اب کہاں ؟شاعرہ:فریدہ خانم
نقطہ نظر
مصنف:
" غزل "
تارے گننے کے زمانے اب کہاں ؟
عاشقی کے وہ ترانے اب کہاں ؟
کون مرتا ہے کسی کے واسطے ؟
لیلی مجنوں کے فسانے اب کہاں ؟
وہ نہ دریا اور نہ گہری چاہتیں
سوہنی اور ماہی دوانے اب کہاں ؟
کون چیرے گا پہاڑوں کے جگر ؟
تیشہء فرہاد جانے اب کہاں ؟
آنکھوں آنکھوں میں جو ہوتے تھے کبھی
ہیر رانجھے کے نشانے اب کہاں ؟
سامنے آ جائے یوسف اور بس
وہ زلیخا کے بہانے اب کہاں ؟
جاؤ جاؤ عاشق خانم , کہ وہ
بھولے پن کے سب زمانے اب کہاں ؟
فریدہ خانم ، لاہور ، پاکستان ۔
مزید پڑھیں




