Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

تیسری عالمی جنگ کا خدشہ،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

نقطہ نظر
raees anayat

دنیا بظاہر معمول کی زندگی گزار رہی ہے، بازار آباد ہیں، شہر روشن ہیں اور لوگ اپنے روزمرہ کاموں میں مصروف ہیں، مگر عالمی سیاست کے پردے کے پیچھے حالات کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، طاقتور ممالک کے باہمی اختلافات، جنگی اتحادوں کی سرگرمیاں اور جدید ہتھیاروں کی دوڑ نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے کئی ایسے تنازعات دیکھے ہیں جنہوں نے عالمی امن کو شدید متاثر کیا۔ کہیں سرحدیں میدانِ جنگ بنی ہوئی ہیں تو کہیں سیاسی اختلافات ہیں ۔ سب سے زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بڑی طاقتیں کسی تنازع میں براہِ راست یا بالواسطہ فریق بن جائیں، کیونکہ ایک چھوٹی سی غلط فہمی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ اس صورتِ حال کا سب سے خطرناک پہلو جوہری ہتھیار ہیں۔ آج دنیا کے پاس اتنی تباہ کن جنگی طاقت موجود ہے کہ اگر کبھی عالمی سطح پر بڑی جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کئی نسلیں اس کے نتائج بھگت سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طاقت کے اظہار کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ تاہم موجودہ کشیدگی کو دیکھ کر یہ فیصلہ کن طور پر کہنا درست نہیں کہ تیسری عالمی جنگ لازمی ہونے والی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شدید ترین بحرانوں کے باوجود مذاکرات نے کئی مرتبہ جنگ کے دروازے بند کیے ہیں۔ آج بھی دنیا کے پاس یہی راستہ موجود ہے کہ اختلافات کو میز پر حل کیا جائے اور انسانیت کو تباہی سے بچایا جائے۔ جنگ کبھی صرف سرحدوں کو نہیں جلاتی، یہ گھروں کے چراغ، ماؤں کی گودیں، بچوں کے خواب اور انسان کے مستقبل تک کو خاکستر کر دیتی ہے۔ اس لیے آج دنیا کو میزائلوں سے زیادہ مکالمے، بارود سے زیادہ برداشت اور طاقت سے زیادہ عقل کی ضرورت ہے۔ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ایک سوال ضرور ہے، مگر اس کا جواب ابھی انسان کے ہاتھ میں ہے۔ اگر دنیا نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا تو شاید آنے والی نسلیں جنگ کی داستانیں کتابوں میں پڑھیں گی، اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھیں گی۔