ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق آج ہونے والا اجلاس ملتوی

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کے لیے خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا ارنا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار محمد علی بیک کا کہنا ہے کہ اجلاس تہران اور مسقط کے مشترکہ فیصلے کے تحت خطے کے بعض ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا گیا اجلاس کے انعقاد کے مناسب وقت کے حوالے سے ضروری انتظامات اور رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ایران، عمان کے ساتھ قریبی مشاورت کر رہا ہے۔
دوسری جانب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے بھی خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان اجلاس ملتوی ہونے کی تصدیق کر دی ہے،ایکس پر بیان میں کہا کہ ہم ایسے مکالمے کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں جو ہمارے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کو فروغ دے،انہوں نے اپنے پیغام کے ساتھ بحرین، ایران، عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچموں کی تصویر بھی شیئر کی۔
واضح رہے کہ یہ اجلاس عمان اور ایران کی اس کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک عارضی فریم ور ک کو یقینی بنانا تھا، جو عالمی تیل برآمدات کی اہم شاہراہ ہے، اجلاس میں عراق اور دیگر خلیجی ریاستوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ خلیجی ممالک ایران سے ملاقات کریں تو انہیں اعتراض نہیں، یہ خلیجی ممالک کا اپنا فیصلہ ہے ایران جنگ رواں سال ختم ہو جائے گی، ممکن ہے ایران جنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔
قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کو پیر کے روز عمان میں اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا ہے، جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان معاملات میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں





